دو احادیث شریف ایسی ہیں جو ہمارے ایمان کو ہلانے کا سبب بن رہی ہیں۔ مجھے ایسے موضوعات پر قطعا نہیں لکھنا چاہیے کیونکہ ایسے اختلافی اور عقائد پر مبنی موضوعات پر سمجھنے والے بہت کم ہیں۔ مگر آج تھوڑا مجبور ہوکر لکھ رہا ہوں اگر کہیں کچھ غلط ہوجائے تو فتوے لگانے سے پہلے میری اصلاح فرما دیجئے گا میں اپنی بات سے رجوع کرنے میں عار محسوس نہیں کروں گا۔
ایک حدیث شریف جو 73 فرقوں کے متعلق ہے اور دوسری حدیث شریف خارجیوں کی نشانیوں سے متعلق ہے۔
کہتے ہیں ایک کلو علم کیلئے بھی چالیس کلو عقل کا ہونا اشد ضروری ہے اور یہ بھی سچ ہے بلکہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ صرف زیادہ پڑھنے کی وجہ سے پاگل ہوچکے ہیں۔ کیوں کہ ان کا برداشت لیول وہ نہیں ہوتا جو علم کو جذب کرسکے اور وہ علم کی تاثیر سے اتنے متاثر ہو جاتے ہیں کہ پاگل ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے تو قرآن مجید میں بھی آیا ہے کہ بہت سے اس قرآن مجید کو پڑھ کر ہدایت پائیں گے اور بہت سے اسی قرآن مجید کو پڑھنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں گے۔
اب اگر کوئی یہ اعتراض کردے کہ قرآن مجید تو کتاب رشد و ہدایت ہے بھلا ہدایت کیلئے اترنے والی کتاب بھی گمراہی کا ذریعہ بن سکتی ہے؟
بالکل یہ اعتراض بجا ہے کہ بیشک قرآن مجید کتاب ہدایت ہے جو نازل اس لئے ہوئئ ہے کہ لوگوں کو گمراہی سے نکالا جائے۔ گمراہی کے گھپ اندھیرے میں اوندھے پڑے لوگوں کو حقیقت کی روشنی سے آگاہ کرکے انہیں احساس دلایا جاسکے۔ مگر اسی کتاب کو پڑھ کر بہت سے لوگ گمراہ بھی ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں۔
خیر ہمارا موضوع دو احادیث پر بات کرنا ہے۔ جہاں تک بات ہے 73 فرقوں والی حدیث شریف کی تو اس حدیث سے بھی بہت سے لوگ گمراہ ہورہے ہیں۔ مسئلہ حدیث شریف کا نہیں ہے نہ ہی حدیث کی روایت و درایت (سند و متن ) میں کوئی مسئلہ ہے۔ اصل مسئلہ پڑھنے والے کی فہم میں ہے۔ بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کا درجہ ہے۔ وہ چاہیے قولی حدیث ہو یا پھر فعلی ۔ اور احادیث پر بھی ایسے ہی ایمان لانا واجب ہے جیسے ہم قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں۔ اس کی عقلی دلیل یہی ہے کہ اس وقت جو قرآن مجید ہم پڑھتے ہیں اس کا ایک ایک حرف ہم تک احادیث کے توسط سے پہنچا ہے۔ اگر کوئی بھی احادیث کی صداقت پر ذرا برابر بھی شک کرتا ہے تو اس کا قرآن مجید پر شک کرنا بعید از قیاس نہیں۔
جب ہم نے احادیث مبارکہ کو ایمان کا درجہ دے دیا تو اب حدیث شریف کو من و عن تسلیم کرنا بھی ہم پر لازم ہے۔ جہاں تک بات اعمال کی ہے اس میں تو پھر بھی گنجائش نکل آتی ہے مگر جب بات عقائد کی آتی ہے تو چاہیے جتنا ہی گناہگار و بدعمل مسلمان ہی کیوں نہ ہو وہ عقائد پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ اعمال کی بخشش کا یقین تو ہے مگر عقائد کے بگاڑ کیساتھ نیک اعمال قابل قبول ہونگے یہ ہماری بطور مسلمان تعلیمات کے خلاف ہے۔ اتنی لمبی بحث کا مقصود صرف اور صرف اصل مدعا سمجھانا ہے تاکہ پہلے کچھ سمجھ آجائے پھر احادیث پر بات ہوسکے۔
اب آتے ہیں اصل مدعا کی طرف کہ ان دو احادیث کی وجہ سے کیسے مسلمان گمراہی کی طرف جارہے ہیں۔ پہلے ذکر کرچکا کہ یہ سب ہمارا فہم ہے۔ 73 فرقوں والی حدیث کا مفہوم ہے کہ پہلی امتوں میں بہتر فرقے تھے میری امت میں تہتر فرق ہونگے ۔ ان تہتر فرقوں میں صرف ایک فرقہ ہوگا جو حق پر ہوگا اور وہی جنت کا حقدار ہوگا باقی بہتر کے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے۔ سوال ہوا کہ اس فرقہ کی کوئی خاص نشانی ؟ جواب آیا کہ جو میرے اورمیرے اصحاب کے نقش قدم پر ہوگا۔
دوسری حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ خارجی جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ان کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ قرآن مجید اس احسن انداز میں پڑھا کرینگے کہ لوگ سن کر رشک کریں گے۔ ان کی عبادات دیکھ کر لوگ اپنی عبادات کو آٹے میں نمک برابر سمجھنے لگے گے۔ ان کی نشانیوں میں سے سر گنجا ، موٹی گردن وغیرہ بھی ہے۔ ایسے لوگ خود کو دیندار کہلائیں گے مگر ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
پہلی فرقوں والی حدیث شریف کو لے کر لوگوں نے یہ سمجھنا اور سمجھانا شروع کردیا ہے تہتر فرقے ہر حال میں ہونے ہیں۔ اور ان میں صرف ایک فرقہ برحق ہونا ہے لہذا ہمیں اس فرقے کی تلاش کرنی ہے یا پھر وہ ہمارا ہی فرقہ ہے باقی جتنے فرقے ہیں وہ سب گمراہ ہیں اس لئے ہم انہیں جہنمی سمجھتے اور کہتے ہیں۔ لازما ہم سب کو ان تمام فروعی اختلافات رکھنے والے لوگوں سے خود کو الگ کرنا پڑا صرف اس لئے کہ وہ تو گمراہی پر ہیں اور جہنمی ہیں ہر کسی نے صرف اپنے فرقے کی ترویج شروع کردی۔ اور اس حدیث شریف کو ذہن میں رکھتے ہوئے تقسیم در تقسیم میں بٹتے گئے۔
دوسری حدیث جو خارجیوں کے متعلق ہے اس کیلئے ہم مسلمانوں کا فہم یہ تھا اس دور میں دیکھنا یہ ہے کہ سب سے اچھا قرآن مجید کس فرقے والے پڑھتے ہیں۔ کس فرقے والے سرمنڈا کر رکھتے ہیں۔ اور کس فرقے والے زیادہ عبادات کرتے ہیں۔ اس حساب سے ہمارے نزدیک برصغیر میں ایسی جماعتیں سامنے آتی ہیں جن کے سر بھی منڈے ہوتے ہیں۔ اورعبادات میں بھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ، قرآن مجید بھی حلق پر زور لگا کر پڑھتے ہیں اور بہت پیارا پڑھتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کوسامنے رکھتے ہوئے ہم نے یہ فہم حاصل کیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو خارجی کہلاتے ہیں۔ اس پر مذہبی اسکالرز نےکئی گھنٹوں پر مشتمل لیکچرز بھی دیئے اور یہ تاثر دیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خارجی کہا جاتا ہے۔ اور خارجی ہونے کے فتوے تک صادر کردیئے مگر ان خارجیوں کے کچھ گروہ آج کل پاکستانی مسلمانوں کی نظر میں ہیرو بھی ہیں۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ فرقوں والی حدیث ہم نے اپنے دماغ میں ایسے بٹھا دی کہ نص قطعی قرآن مجید کا حکم ولاتفرقوا کو بھی بھلا بیٹھے۔ جبکہ اصول تو یہ ہے کہ قرآن مجید اور حدیث شریف میں مطابقت پیدا نہ ہورہی ہو تو حدیث شریف کو ترک کرکے قرآن مجید پر عمل کیا جائے گا۔ مزید یہ بھی ہے کہ اخبار کے مقابلے میں امر (کرنے نہ کرنے) پر عمل کیا جائے گا جبکہ خبر کو ترک کیا جائے گا۔
دوسری خارجیوں والی حدیث شریف کو مدنظر رکھ کر ہم نے ان احادیث کو یکسر نظرانداز کردیا جو قرآن مجید کو احسن انداز میں پڑھنے ،اپنی آوازوں کیساتھ مزین کرنے ،اور سرمنڈانے والی سنت ، نوافل کی کثرت سے رب تعالی کا حصول قرب والی تمام احادیث کو یکسر نظرانداز کردیا۔ مطلب اب کوئی اچھا قرآن مجید بھی نہ پڑھے ، عبادات کی کثرت بھی نہ کرے ، سرمنڈائے رکھنا بھی مسئلہ بن سکتا ہے۔
گزارش ہے کہیں پر اختلاف ہو یا کہیں غلطی ہوگئی ہو تو اصلاح فرما دیجئے گا۔ ایسے موضوعات پر میں نہیں لکھتا کیونکہ ان کا آج تک کوئی حل نہیں نکلا صرف بحث و مباحثہ ہی جاری ہے۔ ہمیں اپنے ذہنوں میں وسعت پیدا کرنا ہوگی ، ہمیں افہام و تفہیم کے انداز کو درست کرنا ہوگا ورنہ ہم ایسے ہی آپس میں الجھتے رہیں گے کسی غیر کو ہمارے خلاف سازشیں کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ۔