میرے کچھ دوست کورونا کو گھناؤنی سازش قرار دے کر خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
وہ خدشات کچھ اس طرح ہیں ۔۔
1: دنیا ایک عالمی مطلق العنان حکومت کی طرف جارہی ہے۔
2: دنیا کی آبادی کو ایک بڑے پیمانے پر کنٹرول کیا جائے گا تاکہ انہیں قابو میں رکھا جائے۔
3: دنیا میں نگرانی کا نظام مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے گا۔
4: کرنسی نوٹ سے نکل کر ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل ہوجائے گی۔
5: لوگوں کی پرائیویسی کافی حد تک متاثر ہو جائے گی بلکہ پرائیویسی اب پرائیویسی نہیں رہے گی۔
6: دنیا میں موجود انتہاء پسندی یا جنگجو سوچ کو ختم کیا جائے۔
اور نجانے کتنے لاتعداد خدشات ہیں جن کا اظہار کیا جارہا ہے یہاں چند ایک خدشات کا ذکر کیا ہے۔ اب خدشات پر بترتیب مختصر تبصرہ بھی ہوجائے۔
#تبصرہ
1: دنیا اس وقت گلوبل ولیج میں ڈھل چکی تھی جب اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اور ایسے قوانین مرتب کئے گئے جنہیں اقوام متحدہ کے ہر ممبر کو تسلیم کرنا لازم قرار دیا گیا سوائے چند ایک قوانین کے ، اور جو ملک اقوام متحدہ کا ممبر نہیں بننا چاہتا اسے دنیا کے محلہ سے خارج قرار دے کر اقوام متحدہ اس کے خلاف پالیسیز مرتب کرسکتی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ، یہ منصوبہ قیام پاکستان سے پہلے وجود میں آچکا تھا۔ ظاہر سی بات ہے وقت کیساتھ ہر چیز میں بہتری آتی رہتی ہے جو اس ادارے میں بھی آرہی/لائی جارہی ہے۔
2: یہ بھی ایک ایسی حقیقت ہے جو اظہر من الشمس ہے۔ گو کہ اس حقیقت کو پولیو کے قطروں کی صورت میں سازش قرار دیا جاتا رہا۔ حالانکہ پولیو کے قطرے پلانے کے باوجود پاکستان کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہی ہوا ہے کمی واقعی نہیں ہوئی۔ پولیو کے قطرے پلانے پر فتوے بھی لگے اسے سازش بھی قرار دیا گیا اور اسے مردوں کو بانجھ پن کا سبب بھی قرار دیا گیا۔ حالانکہ پولیو کے قطرے پینے والی نسل اس قطر شہوت میں مبتلا ہوچکی ہے کہ آئے دن چھوٹی بچیوں سے ریپ کے کیسز ریکارڈ ہورہے ہیں۔ جہاں تک آبادی کنٹرول کرنے کی بات ہے تو اسے بھی واضح طور کنٹرول کرنے کی پالیسیز تیار کی گئی ہیں۔ جس کا مقصد زیادہ بچوں کی اچھی طرح تربیت نہ کرسکنا اور دنیا کے وسائل بڑی تیزی سے خرچ ہوتے ہوئے آبادی کو بوجھ قرار دینا شمار ہے۔
3: یہ بھی غلط بات ہے کہ ہماری پرائیویسی محفوظ ہے۔ جب سے بائیومیٹرک سسٹم اور موبائل سم وغیرہ کی رجسٹریشن متعارف کرائی گئی ہیں کسی ایک فرد کی پرائیویسی بھی نہیں رہی۔ یہ اور بات ہے کہ کسی کی پرائیویسی کو لیک کرنا قانونا جرم ہے۔ مگر یہ غلط ہے کہ ہماری کوئی پرائیویسی بھی ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ جرائم کے پیش نظر شہروں میں کیمرے نصب کئے گئے۔ جن ممالک میں تمام شہروں میں کیمرے نصب کئے گئے ہیں وہاں جرائم کا تناسب کم ہے۔ اگر جرم ہوتا بھی ہے تو مجرم چند گھنٹوں میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں کہ کیمرے کیوں نصب کئے جائیں گے۔ اور مزید یہ کہ جب سے موبائل لاک فنگر پرنٹ اور چہرے کی شناخت پر ترتیب دیئے گئے ہیں تب سے تمام چہرے نمایاں ہوچکے ہیں۔ آپ کہیں بھی بیٹھ کر اپنا موبائل استعمال کر رہے ہیں آپ کا چہرہ دیکھا جاسکتا ہے یہ کوئی بڑی یا انوکھی بات نہیں ہے۔
4: دنیا ترقی کر رہی ہے ظاہر سی بات ہے پہلے کرنسی نوٹ بالکل نہیں تھے چیز کے بدلے چیز لی اور دی جاتی تھی۔ پھر ذرا آسانی کیلئے سکے بطور کرنسی بنائے گئے۔ اس کے بعد پیپر نوٹ آئے ، پھر ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے کرنسی میں جدیدیت لائی گئی اور یہ بھی حقیقت ہے اب انسان نوٹ کی لین دین اور نوٹ کے تحفظ سے بھی اکتا گیا ہے۔ اب پیپر کرنسی سے بھی جان چھڑانا چاہتا ہے۔ اس کیلئے ڈیجیٹل کرنسی جو صرف ویلیو ہوا کرے گی جس کا مادیت میں کوئی وجود نہیں ہوگا متعارف کرائی جاچکی ہے۔ دنیا ہر آنے والے دن ترقی کر رہی ہے اور بڑی تیزی سے ڈیجیٹل ورلڈ کی طرف بڑھ رہی ہے جسے روکنا ناممکن ہے نہ ہی روکنے کی کوئی معقول وجہ بھی نظر آرہی ہے۔
5: پرائیویسی اب پرائیویسی رہی ہی نہیں یہ صرف ہماری بھول ہے کہ ہماری کوئی پرائیویسی بھی ہے۔ ہماری پرائیویسی ہمارے دوستوں کے درمیان تو ہوسکتی ہے حقیقت میں ہماری کوئی پرائیویسی رہی ہی نہیں۔
6: انتہاء پسندی یا جنگی سوچ رکھنے والے لوگوں کی ذہنیت پر ایک عرصہ سے کام ہورہا ہے۔ سائیکالوجی اس پروجیکٹ میں بہت کارآمد ہے۔ ظاہر سی بات ہے دنیا امن کی متلاشی ہے اس لئے دنیا رنگ ، نسل ، مذہب ، لسانیت، علاقائیت وغیرہ کے دائروں سے نکل کر ایک انسان کے طور پر رہنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک جہاد فرض ہے جبکہ دنیا اسے جنگجو ذہنیت سمجھتی ہے۔ دنیا کے نزدیک پہلے ایک ملک دوسرے ملک پر قابض ہوسکتا تھا جبکہ اب عالمی قوانین کی رو سے کسی چھوٹے سے چھوٹے ملک پر بھی قابض ہونا قانونا جرم ہے۔ بقول اقوام متحدہ کے کہ اب کسی جنگ و جدل ، کسی جہاد کی ضرورت نہیں ہے۔ جو یہ سوچ رکھتا ہے اس کے ذہنوں پر کام کرکے انہیں پرامن دنیا میں رہنے پر قائل کیا جاسکتا ہے۔
اب کوئی کورونا سے لاکھ سازشیں نکالتا رہے نکالے مگر جو دلائل پیش کئے جارہے ہیں وہ برسوں پرانے دلائل ہیں۔ ان تمام چیزوں کے صرف نیگیٹو پہلوو نہیں ہیں بلکہ مثبت بھی اتنے پہلوو ہیں جن پر بات کی جائے تو ہر ترقی پسند انسان کو منٹوں میں قائل کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ دھوکہ بھی نہیں حقیقت میں اس ڈیجیٹل دنیا کے اتنے فوائد بھی ہیں جنہیں صرف نیک نیتی سے ہی بیان کیا جائے تو کسی انسان کو قائل کیا جاسکتا ہے۔
میرے نزدیک اگر کورونا عالمی سازش ہے بھی تو اس میں سب سے بڑا ہاتھ خود چین کا ہوسکتا ہے یا پھر امریکہ کا جو چین کو دنیا کی ابھرتی معیشت دیکھتے ہوئے پریشانی میں مبتلا ہے۔ چین ہو یا امریکہ دونوں طاقتور ملک چھوٹے چھوٹے ممالک پر حکمرانی کے خواہاں ہیں۔ مگر میرے نزدیک امریکہ پھر بھی چین سے بہتر ہے جبکہ چین امریکہ سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے حکمران یا انٹیلی جینس ادارے منافق ہوسکتے ہیں مگر عوام کافی حد تک انسانیت دوست ہے جبکہ چین کا ہر باشندہ بہت بڑا خطرہ ہے۔