پچھلے چند مہینوں میں مجھے ایک بزرگ شہر میں کئی دفعہ نظر آئے لیکن ہر دفعہ وہ افسردہ و پریشان دکھائی دیے۔
ایک جمعرات کی صبح وہ ایک مندر کے باہر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے بیٹھے تھے
ایک جمعے کی دوپہر وہ ایک مسجد کی دیوار کا سہارا لیے کھڑے تھے۔
ایک ہفتے کی سہ پہر وہ ایک سناگاگ کے باہر رو رہے تھے اور
ایک اتوار کی شام وہ ایک گرجے کے باہر آنسو بہا رہے تھے۔
آخر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور میں نے ان کے قریب جا کر بڑے احترام سے پوچھا
’آپ کا نام؟‘
کہنے لگے ’سچ‘
میں انہیں اپنے گھر لے آیا۔ انہیں لذیذ کھانا کھلایا سبز چائے پلائی اور پھر پوچھا،
’ آپ اتنے دکھی کیوں ہیں؟‘
کہنے لگے ’میرے دو بیٹے ہیں وہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ ‘
’ان کے نام کیا ہیں؟‘ میں متجسس تھا۔
’بڑے بیٹے کا نام‘ مذہب ’ہے اور چھوٹے بیٹے کا نام‘ فلسفہ ’
پھر انہوں نے ایک سرد آہ بھری اور کہا
’میں اپنے بڑے بیٹے سے سخت نالاں ہوں۔ اس نے شہر میں مجھے بہت بدنام کر رکھا ہے۔ اس نے مختلف مذاہب اور فرقوں کے عالم خرید لیے ہیں جو عوام کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔
یہ خریدے ہوئے عالم مذہبی عبادت گاہوں پر قابض ہو گئے ہیں۔
کچھ عالم مندر کے پنڈت
کچھ مسجد کے مولوی
کچھ سناگاگ کے ریبائی اور
کچھ گرجے کے پادری بن گئے ہیں۔
یہ عالم لوگوں پر فتوے لگاتے ہیں اور انہیں جہنم کی آگ سے ڈراتے ہیں۔
وہ پہلے وعظ کرتے ہیں اور پھر چندہ مانگتے ہیں۔
میں اپنے بڑے بیٹے کو بہت سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن وہ میری بات بالکل نہیں سنتا۔
’بابا جی اپنے چھوٹے بیٹے کے بارے میں بھی بتائیں‘
’ میرے چھوٹے بیٹے‘ فلسفے ’نے شہر میں بہت سے سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں کھول رکھی ہیں جہاں نوجوان مرد اور عورتیں اپنے پسندیدہ موضوع پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ میں اپنے چھوٹے بیٹے سے بہت خوش ہوں ’
میں نے ہمت کر کے پوچھا ’مذہب اور فلسفے کا جھگڑا کیا ہے؟‘
کہنے لگے ’مذہب کہتا ہے مجھ پر اندھا ایمان لے آؤ اور فلسفہ کہتا ہے اپنی عقل استعمال کرو۔ اسی لیے دونوں میں تضاد اور فساد رہتا ہے۔ ‘
’کیا آپ کی کوئی بیٹی بھی ہے؟‘
بابا جی نے چائے کی چسکی لی اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ کہنے لگے
’ میری ایک ہی بیٹی ہے اور اس کا نام عالیہ ہے۔ پہلے وہ ادب عالیہ کہلاتی تھی لیکن اب سب اسے عالیہ کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔
عالیہ کی بہت سی سہیلیاں ہیں جو ایک کلب کی ممبر ہیں۔ اس کلب کا نام فنون لطیفہ ہے۔
ایک سہیلی کا نام شاعری
دوسری سہیلی کا نام موسیقی
تیسری سہیلی کا نام فوٹو گرافی اور
چوتھی سہیلی کا نام مصوری ہے۔
میرے لیے دکھ کی بات یہ ہے کہ میرا بڑا بیٹا مذہب اپنے بھائی فلسفے سے ہی نہیں اپنی بہن ادب عالیہ سے بھی بر سرِ پیکار رہتا ہے۔ اس کے خریدے ہوئے عالم مسجدوں اور گرجوں ’سناگاگوں اور مندروں میں فنون لطیفہ کے خلاف تقریریں کرتے ہیں اور ان پر فحاشی پھیلانے کا جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔ وہ اب تک یہ نہیں سمجھ پائے کہ جمالیات اور فحاشی میں کتنا فرق ہے۔ ‘
’کیا مذہب اور فلسفے کے بچے بھی ہیں؟‘ اب میں سچ بابا کے خاندان کے بارے میں مزید جاننا چاہتا تھا۔
’مذہب کی ایک بیٹی ہے۔ اس کا نام روحانیت ہے۔ روحانیت بھی اپنے باپ کے فتووں سے تنگ آ چکی ہے۔ اس نے اپنے باپ کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ انسان کو اپنے خالق سے رشتہ جوڑنے کے لیے کسی پنڈت یا پادری‘ ریبائی یا مولوی کی سفارش کی کوئی ضرورت نہیں لیکن مذہب اس کی ایک نہیں سنتا الٹا اسے سادہ لوح سمجھتا ہے۔
میرے چھوٹے بیٹے فلسفے کی بھی ایک بیٹی ہے اس کا نام سائنس ہے۔ اس کے بہت سے دوست ہیں۔ وہ سب ایک ایسے کلب کے ممبر ہیں جس کا نام تحقیق ہے۔
سائنس کے
ایک دوست کا نام بشریات
دوسرے دوست کا نام نفسیات
تیسرے دوست کا نام سماجیات ہے۔
میں جب سائنس کے دوستوں سے ملا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ان دنوں وہ نفسیات ’جنسیات اور روحانیات کے پیچیدہ اور گنجلک رشتوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔
بابا جی نے میری رائے مانگی تو میں نے کہا
’آپ فکرمند نہ ہوں اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ آپ کے خاندان والے لڑ جھگڑ کر ٹھیک ہو جائیں گے۔ ویسے بھی اب مذہب کا دور ختم اور سائنس کا دور شروع ہو رہا ہے کیونکہ مذہب ہمارا ماضی اور سائنس ہمارا مستقبل ہے۔
جہاں تک ادب عالیہ کا تعلق ہے اس کی ہمیں سخت ضرورت ہے کیونکہ فنون لطیفہ سے ہم محظوظ بھی ہوتے ہیں مسحور بھی۔ فنون لطیفہ ہماری زندگیوں کو دلچسپ بھی بناتے ہیں اور بامعنی بھی۔
جاتے ہوئے سچ بابا نے مجھ سے پوچھا
’آپ کا نام؟‘
میں نے کہا ’انسان‘ ۔
