جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 17 نومبر 2025 کو قرارداد 2803 منظور کی تو اس کا مقصد یہ تھا کہ بورڈ آف پیس (بی او پی) ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرے گا جو غزہ کی تعمیر نو کے لئے فنڈنگ کی ہم آہنگی کرے گا، یہاں تک کہ فلسطینی اتھارٹی اپنا اصلاحاتی پروگرام مکمل کر لے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے قابلِ اعتماد راستہ ہموار ہو جائے۔ اس قرارداد کے تحت ایک عبوری حکومتی انتظامیہ کے قیام کی اجازت دی گئی، جس میں غزہ سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت، غیر سیاسی فلسطینی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی شامل تھی جو علاقے کا نظم و نسق سنبھالے، نیز غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی استحکامی فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔قرارداد کی منظوری کے تین ماہ بعد، بی او پی کا پہلا باقاعدہ اجلاس 19 فروری 2026 کو واشنگٹن میں منعقد ہوا۔ اگرچہ 50 ممالک کے نمائندے اس اجلاس میں شریک ہوئے، تاہم اب تک صرف 27 ممالک، جن میں چند نمایاں عرب اور مسلم ممالک شامل ہیں، باضابطہ رکن بنے ہیں۔ چین، روس اور فرانس جیسے ممالک بی او پی کے دائرہ کار کی وضاحت نہ ہونے کے باعث اجلاس سے دور رہے۔ یہ ابہام اس وقت پیدا ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بی او پی کا دائرہ کار غزہ سے بڑھ کر دنیا کے دیگر تنازعات تک بھی پھیل سکتا ہے۔ یورپی یونین یقیناً نہیں چاہے گی کہ بی او پی گرین لینڈ پر بات کرے، اور نہ ہی بھارت چاہے گا کہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر زیرِ بحث آئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ غزہ کے مستقبل پر گفتگو کے لئے قائم کیے گئے اس فورم میں کوئی فلسطینی رکن شامل نہیں، جبکہ اسرائیل اس کا حصہ ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے بی او پی کو“تاریخ کا سب سے اہم بین الاقوامی ادارہ”قرار دیا، مگر اس کے اراکین بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ادارہ دراصل امریکی صدر کی شخصیت کے گرد گھومتا ہے اور اقوام متحدہ جیسے نمائندہ ادارے کا متبادل نہیں بن سکتا۔بی او پی کے پہلے اجلاس سے تین فوری توقعات وابستہ تھیں، مگر تقریباً سب ہی پوری نہ ہو سکیں۔ پہلی توقع یہ تھی کہ 10 اکتوبر 2025 کی جنگ بندی پر سنجیدگی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، جس نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے عوام پر مسلط کی گئی دو سالہ خونریز جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔ اس جنگ میں 72 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، 80 فیصد عمارتیں تباہ ہوئیں اور 21 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ افسوس کہ جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا، کیونکہ اسرائیل کی کاروائیاں جاری رہیں اور جنگ بندی کے بعد بھی 600 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔بی او پی سے دوسری توقع یہ تھی کہ انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اگرچہ خوراک، اسپتالوں کی بحالی اور ملبہ ہٹانے کے لئے امداد غزہ پہنچنا شروع ہوئی ہے، تاہم اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے نشاندہی کی ہے کہ فلسطینی اب بھی“بے دخلی، صدمے، غیر یقینی صورتحال اور محرومی”کا شکار ہیں۔ یورپی کمشنر برائے مساوات، تیاری اور بحران نظم و نسق نے بھی کہا ہے کہ امداد“قطرہ قطرہ”غزہ پہنچ رہی ہے اور رفح کراسنگ کے ذریعے رسائی بڑھانے کی ضرورت ہے‘ 600 سے زائد امدادی کارکن بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا جبکہ نو ممالک نے مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر تعمیرنو فنڈ کے لئے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم اسرائیل نے تعمیرنو کو غزہ کی غیر عسکریت پسندی اور حماس کے غیر مسلح ہونے سے مشروط کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم حماس کو غیر مسلح کرنا چاہتے ہیں، مگر یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اسرائیلی دفاعی افواج اب بھی غزہ کے نصف سے زائد علاقے پر قابض ہیں اور بمباری جاری ہے۔ حماس اسرائیلی انتقامی کاروائیوں کے خوف سے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں، تاہم وہ انتظامیہ فلسطینی ماہرین کی کمیٹی کے حوالے کرنے کو تیار ہے۔تیسری توقع یہ تھی کہ فلسطینی حق خودارادیت اور ریاست کے قیام کے لئے سازگار حالات پیدا کیے جائیں۔ اس اہم مسئلے پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی، حالانکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لئے یہ ناگزیر ہے۔ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبوں کی خبروں کے درمیان امریکا کے اسرائیل میں سفیر نے“گریٹر اسرائیل”کے قیام کو یہودی ریاست کا حق قرار دیا۔ عرب اور دیگر مسلم ممالک نے اس بیان کی شدید مذمت کی۔ اگرچہ بعد میں اس بیان کو نرم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر اسے دریائے فرات سے دریائے نیل تک پھیلے گریٹر اسرائیل کے قیام کی امریکی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔جہاں تک مجوزہ آئی ایس ایف کا تعلق ہے، انڈونیشیا سمیت پانچ ممالک نے فوج فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم فوج فراہم کرنے والے ممالک ایسی صورت حال میں نہیں پڑنا چاہیں گے جہاں انہیں حماس یا اسرائیلی افواج کے خلاف لڑنا پڑے۔ پاکستان نے دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے کہ جب تک اسرائیلی افواج غزہ سے انخلا ء نہیں کرتیں اور فلسطینی انتظامیہ قائم نہیں ہوتی، وہ آئی ایس ایف کے لئے کوئی فوجی دستہ فراہم نہیں کرے گا۔ قابلِ تحسین بات یہ ہے کہ بی او پی کے اجلاس میں پاکستان فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کے حق میں مضبوط آوازوں میں سے ایک تھا۔(مصنف سابق سیکریٹری خارجہ اور سنوبر انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد کے چیئرمین ہیں۔)
