710

"کنفیوزڈقوم"

خالق ارض وسماءنے ہر ذی روح کوجوزندگی عطا کی ہے اس کا کوئی نہ کوئی نہ مقصد ہے جسے ایک باشعورانسان ہوش سنبھالتے ہی تلاشنے کی تگ و دو میں لگ جاتاہے اور بعض اوقات اس مقصدکوپالیتاہے اورکبھی اسے پانے کی جستجو میں زندگی کے اختتام تک آپہنچتاہے لیکن مقصدکونہیں پاسکتااورکچھ مقاصدایسے بھی ہوتے ہیں جو مختلف اقوام  اپنی ترقی و خوشحالی کیلئے منتخب کرلیتی اورانہیں پانے کیلئے مشترکہ جدوجہدکرتی ہیں اور بعض اوقات کامیاب اور بعض اوقات ناکام ہوجاتی ہیں جسکی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن ہماری تحریرکامقصدایک ایسی قوم کی تلاش ہے جس کوترقی و خوشحالی کے حصول کیلئے قوم بن کرجدوجہدکرنے کا جو موقع نصیب ہوا وہ اس میں تو کامیاب نہ ہوسکی لیکن ایک مشترکہ مقصد کے حصول میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی نظر آرہی ہے اور وہ ہے پاکستانی قوم جس کا قومی مشغلہ ہی اپنے آپکو چھوڑکردوسروں میں کیڑے نکالنااوربے جاتنقیدکرناہے خواہ کوئی اچھا کرنے کی ہی کوشش کیوں نہ کررہا ہوجسکی کئی ایک مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن ہم یہاں صرف ملکی سیاسی پارٹی کے ورکرزپرہی بات کرینگے جنکی نظر میں انکاپارٹی لیڈر ہمیشہ اچھااورمخالف پارٹی لیڈر ہمیشہ براہوتاہے جسکی مثال اسطرح کے روزمرہ میں بولے اورسنے جانیوالے جملے ہیں کہ تمہارے لیڈر نے الیکشن سے پہلے کیاگیافلاں وعدہ پورا نہیں کیاجسکاجواب بغیر سوچے سمجھے یہ ہوتاہے کہ تمہارے نے کونساوعدہ پوراکیاتھا،تمہارے لیڈر نے ملک پرقرضہ چڑھادیاتھا تو تمہارالیڈرکونسااپنے باپ کے پیسوں سے اتاررہاہے،ہمارالیڈرغریبوں کو پیسے دے رہاہے تو جناب ہمارے لیڈر کے منصوبے کاہی نام بدل کردے رہاہے،تمہارے لیڈر نے آج فلاں کام غلط کیاہے تو تمہارے نے کونسافلاں کام ٹھیک کیاتھا،تمہارالیڈرکشمیرپہ بات نہیں کررہاتوتمہارے نے اپنے دورمیں کیاکرلیاتھا،تمہارالیڈر یوٹرن لیتاہے توتمہاراکونسابات کاپکاتھا،تمہارے لیڈر نے پانچ بچوں کی ماں کی طلاق دلواکرشادی کرلی تو تمہارے نے بھی توایک آفیسر کی بیوی کی زبردستی طلاق دلواکرشادی کی تھی،تمہارے لیڈر نے ساہیوال سانحہ کے ملزمان کوسزانہیں دی تو تمہارے نے کونسی ماڈل ٹاون کے سانحہ میں ملوث ملزمان کوسزادی تھی،یہ جج صحیح کام نہیں کررہاتووہ کونساصحیح تھا،پولیس رشوت لے رہی ہے نیا پاکستان جوہوا،بندہ پوچھے پرانے پاکستان میں کیارشوت نہیں چلتی تھی،فلاں وزیراعظم پرچی دیکھ کرتقریرکرتاتھا،بندہ پوچھے بحث تویہ کرو کہ اسکے کام ٹھیک تھے یا غلط یہ پرچی کاکیامقصداس نے کونسامیٹرک کے امتحان میں بیٹھناہوتاتھا؛

یہ اور روزمرہ کی سیاسی گفتگو میں بولے جانے کئی جملے ایسے ہیں جن پہ ہمارے پارٹی کارکنان میں تکرارجاری رہتی ہے جو اورتوکچھ نہیں لیکن ہماری شعوری نابالغیت کی ضرورنشاندہی کرتی ہے کیونکہ کسی سوال کاجواب مثبت دلیل سے تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرنی بلکہ ایک دوسرے کو طعنے دینے کی کوشش کرنی ہے یہ توسوچناہی نہیں کہ ہمارالیڈربھی خطاکاپتلاہونے کے ناطے غلطی کا ارتکاب کرسکتاہے بس یہی سوچنا ہے کہ ہمارے لیڈر کی غلطی پہ پردہ ڈالنے کیلئے دوسرے کی کونسی غلطی کی نشاندہی کرکے کام برابرکرنایے اور یہی وجہ ہے کہ ہم 72سال پہلے جہاں سے چلے تھے آج بھی وہیں کھڑے اپنے ملک کے مفاد میں سوچنے کی بجائے اپنے لیڈر کے مفاد میں ہی سوچ رہے ہیں اور اسطرح کے رویوں میں ہم اتنی دور نکل آئے ہیں کہ واپسی کا راستہ بھی نہیں مل رہااورایک قوم ثابت ہونے کی بجائے بکریوں کاریوڑثابت ہورہے ہیں جسکامقصدصرف چرنااورمیں میں کرناہے یہی وجہ ہے آج جب پوری دنیاکروناوائرس کی وجہ سے لاک ڈاون ہوچکی ہے ہم باربارحکومتی اپیلوں کے اپنے آپکوگھرمیں نہیں بٹھاپارہے اور بچونکی طرح دوڑ دوڑکرباہرجارہے ہیں حالانکہ کام بھی بند ہیں اورمزدوری بھی نہیں مل رہی لیکن ہم ہیں کہ پتہ نہیں کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں اوراس پہ ستم ظریفی یہ کہ مشکل کی ان گھڑیوں میں جو لوگ تصاویرکیساتھ راشن تقسیم کررہے ہیں وہ اسلئیے برے ہیں کہ دکھاواکرکے غریب کی عزت نفس مجروح کرتے ہیں اور جو بغیرتصویرکے تقسیم کررہے ہیں وہ اسلئیے برے ہیں کہ وہ فیسبکی دانشوروں کو نظر کیوں نہیں آرہے ؛

اللہ ہی ہے جو میری قوم کی کنفیوژن دورکردے لیکن لگتاہے کہ یہ دورہوگی نہیں کیونکہ ہم

"ایک کنفیوزڈقوم ہیں

بشکریہ اردو کالمز