ہمیشہ سے چلتے آرہے ہمارے ملکی حالات کے تناظر میں لکھی گئی ہر پاکستانی کے نام ایک عام سی تحریر؛ بحثیت قوم اگردیکھاجائے توسیاست،مذہب،سماج،قانون اورملک میں کام کرنیوالے تمام اداروں سے تعلق رکھنے جس فرد سے بھی پوچھیں تووہ کہے گا کہ ملک کابیڑاغرق ہوچکا ہے اور فلاں پارٹی یا ادارے نے کیاہے لیکن اپنے اوپر بے ایمانی،رشوت اور حرام خوری کے ہزارہاالزامات کے باوجودبھی خودکو"حاجی"ہی ثابت کرنے کی کوشش کرےگاجس کاشایداسکی زات کاتوفائدہ ہو لیکن قوم اورملک کونقصان ہوگاجسکی مثال ہمارے موجودہ حالات ہیں کہ سدھرنے کا نام ہی نہیں لے رہے کیونکہ ہرکوئی دوسروں پرتوالزام لگارہاہے لیکن اپنے آپکوٹھیک نہیں کرنا چاہتااوریہی بنیادی وجہ ہے کہ جو ہمارے مجموعی حالات کے درست ہونے میں رکاوٹ ہے ہوناتویہ چاہئیے تھاکہ بحثیت قوم ہم اپنے لئے ایک سمت کاتعین کرتے اوراس پرسفرشروع کردیتے لیکن 72سالہ آزادی کے باوجود ہم اپنے لئیے کسی سمت یامنزل کاتعین نہیں کرسکے جسکی وجہ ہماری قومی بے حسی ہے جواس بات پرمبنی ہے کہ ہم کچھ کرناہی نہیں چاہتےکیونکہ ہم ملک کی بہتری کاہرکام دوسروں کے سر ڈال کرخودبری الذمہ ہوچکے ہیں حالانکہ کوئی بھی باشعورانسان اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتاہے کہ "قوانین حکومتوں کے بنانے سے نہیں بلکہ شہریوں کے تعاون سے چلتے ہیں"کیونکہ دنیا کی ہرریاست کے قوانین اپنے شہریوں کے حقوق اور انکے تحفظ کیلئے بنائے جاتے ہیں اور ان پر عمل پیرانہ ہونے پرسزائیں اور جرمانے لاگوکئیے جاتے ہیں لیکن ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم انہی قوانین سے روگردانی اورانہیں توڑنے کیلئے ناجائززرائع اختیار کرکے قانون نافذکرنیوالوں کوہی ساتھ ملالیتے ہیں اور ٹیکس بچانے کیلئے بھتہ دیناگواراکرلیتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے،ہم ہمیشہ وہاں تھوکتے ہیں جہاں لکھاہوتاہے کہ تھوکنامنع ہے،ہم وہیں گاڑی کھڑی کرتے ہیں جہاں کھڑی کرنا منع ہوتا،ہم اپنے آفس میں اپنے سرکے اوپر"رشوت لینے دینے والادوزخی"لکھ کرٹیبل کے نیچے سے رشوت وصول کرتے ہیں،ہم اپنی بہو،بیٹیوں کوگھرمیں قیدرکھ کر آزادی کے نام پہ دوسروں کوباہرنکالنے پہ اکساتے ہیں،ہم چوروں کو سپورٹ کرکے چوری کیخلاف جلوس نکالتے ہیں،بحثیت سرکاری ٹیچرہم لوگوں کوگورنمنٹ سکول میں بچے داخل کروانے کا کہہ کر اپنے بچے پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرواتے ہیں،بحثیت پولیس آفیسرجرائم پیشہ عناصرکاخاتمہ کرنے کے باشن دیکرانہی عناصر سے منتھلی بھی لیتے ہیں،بحثیت عوام ہم پرکام کے میرٹ پہ ہونے کی بات بھی کرتے ہیں اور اپنے فائدے کیلئے اسکی خلاف ورزی بھی خود ہی کرتے ہیں اوراس شعر کی عملی تفسیربنتے ہیں کہ"حق اچھاپراسکے لئیے؛کوئی اور مرے تواوراچھا" یہ بلکل ایسے ہی ہے کہ ایک ملک کا بادشاہ بیمارہوگیاتواسکو بڑے بڑے حکماءسے علاج کروانے کے باوجودکہیں سے بھی آرام نہ آیا وہ ہر طرف سے مایوس ہوکر بیٹھ گیااوراپنی موت کاانتظارکرنے لگاایسے میں ایک حکیم آیااوراس نے بادشاہ کی نبض دیکھ کردودھ سے غسل کرنے کا نسخہ بتایاجس پر بادشاہ نے اعلان کروادیاکہ درالخلافہ کی حدود میں بسے ہرگھرکاایک فردایک گلاس دودھ رات کوشاہی تالاب میں ڈالے گا،یہ اعلان سب نے سنااورسب نے یہی سوچ لیاکہ ہرشخص تو دودھ ہی ڈالے گا میں کیوں نہ پانی ڈال دوں؛ تو صبح جب بادشاہ غسل کیلئے آیاتوتالاب میں سارا پانی تھادودھ کاایک قطرہ بھی نہیں تھا؛ اور یہی حال ہمارے ملک کاہے جہاں ہر کسی نے قومی مفادکاہرکام دوسروں کے کرنے کیلئے رکھاہواہے اورخودبری الذمہ ہوکربیٹھاہواہے؛ تو حالات کیسے بہترہونگے؟ ثمرجعفری
613