281

امن کی بات

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں جو اس سے گرد کوصاف کرکے عوام کو اسکا چہرہ دکھاتے ہیں اور معاشرے کی خرابی اور تباہی کاباعث بننے والے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جس پر حکومتی قانون حرکت میں آتا ہے اور انکاقلع قمع کرتاہے

اوراس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ معاشرے کی تباہی کا سبب بننے والے مسائل میں منشیات فروشی،رشوت خوری،کرپشن،ذخیرہ اندوزی،2نمبردوائیاں،طاقتورکاکمزورپہ ظلم،تعمیرکے نام پہ تخریب،پیسے کی سیاست،ظاہرکچھ باطن کچھ،املاک پہ قبضہ،بہنوں کا حق کھانااورخیرپہ ختم ہوتے کام میں اپنی شرانگیزی سے رکاوٹ ڈالناجیسے اور بھی بہت سے کام ہیں جنکی نشاندہی ایک صحافی کاکام ہے لیکن وہ یہ تمام معلومات عام عوام کے ذریعے ہی حاصل کرتا ہے جسے ذرائع کا نام دے کر وہ لوگوں تک پہنچاتا ہے اور پھر گھر بیٹھ جاتاہے لیکن کیایہ صرف صحافی کی ہی ذمہ داری ہے اورکیادوسرے لوگوں کو ان مسائل اورجرائم کاپتہ نہیں ہوتااوراگرپتہ ہوتاہے تووہ ان کی نشاندہی کیوں نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جرائم کرنےوالوں کونہیں بلکہ اسکی نشاندہی کرنےوالوں کوسزاملتی ہے کبھی قانون سے اورکبھی مجرم سے،

ان سب کو چھوڑیں کیا قانون نافذکرنیوالوں کومنشیات فروشوں،ذخیرہ اندوزوں وغیرہ کا نہیں پتہ ہوتا؟لازمی ہوتاہے لیکن انکی منتھلی لگی ہوتی ہے جو انہیں کچھ کرنے سے روکے رکھتی ہے،

ایک بات اورکیاعام لوگونکوجرائم پیشہ عناصرکاصحافیوں سے زیادہ پتہ نہیں ہوتاتووہ کیوں نہیں بتاتے؟کیونکہ ان کو پتہ ہوتاہے کہ قانون ان کاتوکچھ نہیں بگاڑے گا لیکن ہمیں سزاضرورملے گی،

اور بھی بہت سے لوگ ہیں جنہیں معاشرے کے جرائم پیشہ افراد کاپتہ ہوتاہے لیکن کوئی زبان نہیں کھولتاکیونکہ پرکوئی یہی خواہش رکھتاہے کہ،

حق اچھاپراسکے لئیے؛

کوئی اور مرے تواوراچھا؛

اور کچھ لوگ جو نہ توپولیس کے آگے بول سکتے ہیں اورنہ ہی طاقتورکے سامنے کھڑے ہونے کی صلاحیت لیکن صحافیوں کے بارے بولنااپناپیدائشی حق سمجھتے ہیں حالانکہ انکو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ صحافت کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں جن میں شریفوں پرالزام لگاکربعدمیں معذرتیں نہیں بلکہ ثبوت کی فراہمی ہوتی ہے،

جو نہیں ملتے کیونکہ انکے حصول کیلئے محنت سے زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے جوصحافیوں کے پاس نہیں ہوتے،

یاد رکھیں صحافت پیشہ نہیں بلکہ مقدس فریضہ ہے جسے نبھاتے ہوئے بعض اوقات صحافی جان تک گنوابیٹھتاہے جسکے بعد معاشرہ اسے شہیدکالقب تودیتاہے لیکن اسکے بیوی بچوں کو روٹی نہیں دیتا؛

اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صحافی کاکام کسی کی خواہش کے احترام میں سنی سنائی بات کو آگے پہنچانانہیں بلکہ ثبوت کے ساتھ خبرلگاناہوتاہے اورجس مجرم کے بارے ثبوت مل جائیں وہ کسی کے واویلا کئیے بغیر بھی اپنے منطقی انجام تک پہنچ جاتاہے؛

اورآخری بات کہ جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی اہم سہی لیکن اس سے بھی اہم اپنے اردگرد کے ماحول میں امن قائم رکھنے کی کوشش ہے جسے چرب زبانی سے نہیں بلکہ عملی کردار سے ممکن بنایاجاسکتاہے کیونکہ جرائم پیشہ عناصر کی وجہ سے توشایدچندگھربربادہوتے ہونگے لیکن امن قائم ہوتے دیکھ کر بدامنی کی سازش سے کئی خاندان تباہ ہوجاتے ہیں؛

تو براہ کرم صحافیوں کو اخلاق اورپیارسےساتھ لے کر چلیں  نہ کہ بلیک میل کرکے

بشکریہ اردو کالمز