838

"شامل تفتیش"

"شامل تفتیش"

 

ہم سب"تنقید"سے ہیں؛

 

کسی بھی قوم کی تاریخ اٹھاکردیکھیں تو اسکی ترقی و خوشحالی میں حکمرانوں کی محنت اور ایمانداری کیساتھ ساتھ عوام کاساتھ بھی شامل حال رہاہے یہ کبھی نہیں ہوا کہ اکیلے کسی حکمران کی ایمانداری کی وجہ کوئی قوم ترقی کرگئی ہو؛

لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ابھی تک ملکی مفادکیلئے حکمران اور عوام ایک پلیٹ فارم پہ یکجانہیں ہوسکے جسکی بنیادی وجہ ہمارا

 اپنے آپکوہی درست اور دوسرے کوغلط ہی کہنااورسمجھنااوربلاوجہ کی تنقیدکرناہے،

جسکی مثال کسی فرد سے بھی پوچھ لیں وہ یہی کہے گا کہ میری پارٹی درست اور دوسری غلط ہیں،میرالیڈرٹھیک باقی غلط ہیں،میری سوچ ٹھیک دوسروں کی غلط ہے،میرا نظریہ ٹھیک دوسروں کا غلط ہے،میرے بچے ٹھیک دوسروں کے غلط ہیں،میں ایمانداردوسرے بے ایمان،میں ٹیکس دیتاہوں دوسرے نہیں دیتے،میں عاشق رسول(ص)دوسرے فضول،میرا مسئلک ٹھیک دوسروں کاغلط،میرا عقیدہ ٹھیک دوسرے بدعقیدہ،میں رشوت نہیں لیتادوسرے لیتے ہیں،میں ذخیرہ اندوزی نہیں کرتادوسرے کرتے ہیں،میں دودھ میں پانی نہیں ملاتادوسرے ملاتے ہیں،میں منافقت کی سیاست نہیں کرتادوسرے کرتے ہیں،میں بلیک میلنگ کی صحافت نہیں کرتادوسرے کرتے ہیں،میرے تعلق والاتھانیدار رشوت نہیں لیتاباقی لیتے ہیں،میں حلال کھاتا ہوں دوسرے حرام،کشمیرصرف میرالیڈرہی آزادکرواسکتاہے،فلاں پارٹی اچھی ہےلیکن ووٹ نہیں دونگا،بچوں سے زیادتی کرنےوالوں کوسزائے موت ملنی چاہئیے لیکن شریعت نافذ نہیں ہونی چاہئیے،میرے خیال میں دنیا کی میں دہشت گردی کاذمہ دار امریکہ ہے لیکن میں ساتھ اس کاہی دونگا،حکومت ٹھیک کررہی ہے لیکن ساتھ نہیں دونگاکیونکہ میری پارٹی اپوزیشن میں ہے،میرالیڈرجھوٹاہے ساتھ نہیں چھوڑوں گا کیونکہ تمہاراکونساسچاہے؛

یہ ہیں چند خرابیاں جو بحثیت قوم ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں جنکاآئے روزسامناہونے کے باوجودبھی ہم انکوتسلیم کرنے پہ راضی نہیں؛

حالانکہ بحثیت ایک باشعورقوم ہوناتویہ چاہئیے کہ ہم میں غلط کوغلط کہنے کاحوصلہ ہو چاہے ہم خود ہی کیوں نہ ہوں لیکن اگر ہم نے اپنے ضمیرسے ہی شکست مان لی تو ہمیں پاکستانی کون کہے گا؛

اور بدقسمتی سے یہی ہمارا المیہ ہے جو ہمیں نہ توایک قوم بننے دے رہاہے اورنہ ہی باضمیرانسان،کیونکہ اگر ہم نے اپنی "میں"ہی ماردی توپھرہرلمحہ ضمیر کی عدالت میں حاضررہتے ہوئے اسکی آوازپرلبیک کہناہوگاجسکے ہم متحمل ہی نہیں ہوسکتے اورپھرہمیشہ سچ کاساتھ دیناہوگاچاہے اس میں نفع ہویانقصان؛

تو کیوں نہ ہم ایک قوم بننے کی کوشش کرتے ہوئے دوسروں پہ بلاجوازتنقیدکرتے رہنے کی بجائے اپنی خامیاں دور کرنے کی کوشش کریں جس سے کم ازکم ایک برا شخص تو کم ہوگااورجب ہرشخص ایسا کرنے لگے گاتوپورامعاشرہ اوراس کے سربراہان حکومت،حکومتی نمائندے اورادارےبھی ٹھیک ہوجائینگے کیونکہ وہ بھی توہم میں سے ہی ہیں اورجب ہم نے "میں"کی جگہ "تو"کودے لی توپھردنیاکی کوئی طاقت ہمیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی؛

کیونکہ ہمارے پیچھے رہنے کی وجہ ہی ایک دوسرے پہ خوامخواہ کی تنقید ہے جس کا فوری خاتمہ موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔۔۔

ثمرجعفری03036083973

بشکریہ اردو کالمز