تھوڑی دیر کیلئے ہم یہ بھول جاتے ہیں پاکستانی حکومت اور اقوامِ متحدہ کیا کر رہے ہیں اور سوچتے یا دیکھتے ہیں کہ ماضی قریب میں کس خود مختار بین الاقوامی ادارے نے کشمیر پر کیا تحقیق کی؟ پاکستان کے کسی خودمختار سرکاری و غیرسرکاری ادارے یا یونیورسٹی نے کیا ریسرچ کی؟ آزاد جموں و کشمیر یا مقبوضہ کشمیر نے کوئی تحقیق اور حل پیش کیا؟ کسی بھارتی ادارے نے اس پر کیا نتائج اخذ کیے؟ ان سب نے کیا نتائج پیش کیے؟ او آئی سی نے کیا سمجھا، کیا سوچا؟ امن کے نوبل انعام کے کسی حامل کی کوئی آواز یا کردار؟
درج بالا سب سوالات راقم ہی کے نہیں ہم سب ان پر سوچتے ہیں، بیشتر سوالات کے ادھورے جواب ہیں اور بعض کے پورے مگر کسی مثبت نتیجہ کا سراغ کہیں دور تک نہیں ملتا۔ انسانیت، جمہوریت، قانونیت اور کشمیریت بھارت و پاکستان اور چین سے ملحقہ سرحدوں کی سوچ میں غوطہ زن ہو جاتی ہیں یا بہت دور امریکہ و برطانیہ کے خلاؤں میں گھور گھار کے لب پر تالا لگانے پر مجبور!
دیکھتے ہیں کچھ فیکٹس اینڈ فگرز: عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر کے تناظر میں مختلف اجلاسوں اور دو طرفہ ملاقاتوں کے علاوہ کم و بیش 25خطوط اور یادداشتیں براہِ راست متعلقہ بین الاقوامی اداروں کو بھیجیں، وزارتِ امور خارجہ نے اپنے تئیں بازگشت کو زندہ رکھا اور تحریکی کردار ادا کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی، اس حوالے سے وزارتِ میڈیا، سیمینارز، اجلاسوں اور ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو فوقیت میں سرفہرست رکھنا کبھی نہیں بھولی۔ انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے سنگ سنگ ’قانونیت‘ کو جو بھارت نے 5اگست 2019پر گزند پہنچائی اس پر انسانی حقوق کے علمبرداروں کی روح کی چیخ شرق و غرب میں سنائی دینی چاہیے تھی کہ بھارت نے 370اور 35اے دفعات کو سبوتاژ کرکے کشمیر کی اس تاریخ اور خصوصی حیثیت کو چکنا چور کردیا جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر، اقوامِ متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات میں موجود ہوکر ایک قدیم بین الاقوامی متنازع معاملہ کا رنگ و روپ رکھتا ہے۔ اگست 2019کے بعد بھارت 42لاکھ غیر کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل فراہم کر چکا ہے جس سے بھارت اقوامِ متحدہ کے چارٹر، چوتھے جنیوا کنونشن (آرٹیکل49) اور یونائیٹڈ نیشن سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی بےحرمتی و بےتوقیری اور مخالفت کے جرم کا مرتکب ہوا۔ اس انسانیت سوز اور دہشتگردانہ کارروائی پر بھارت کی سرزنش ہی نہیں سزا بھی مقصود ہے، وہ چاہے بلیک لسٹ کرنے کا اعلیٰ نمونہ ہو یا کچھ اور، مگر اس کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو عملاً حق دلانا بھی بین الاقوامی اداروں اور برادری کا فرض ہے۔
9لاکھ فوج نے پہلے سے مقبوضہ علاقہ کو ایک جیل میں بدل رکھا ہے، علی گیلانی جیسے اصول پرست تو اس جدوجہد میں زندگی کی بازی ہار چکے مگر آسیہ اندرابی و خرم پرویز سے بہیمانہ سلوک کیا جارہا ہے، یاسین ملک، شبیر شاہ اور مسرت عالم بھٹ کو جیلوں میں پھینک کر انسانی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔ 5اگست 2019کے بعد 519لوگ شہید کیے گئے اور 78کو حراست میں شہید کردیا۔ اکتوبر2021 ’’کریک ڈاؤن‘‘ میں 14سو بےگناہ کشمیریوں کی گرفتاری اور 2021ہی میں ’’کورڈن اینڈ سرچ‘‘ نامی جعلی آپریشن میں 210کشمیریوں کو چھلنی کردینا کہاں کا قانون ہے؟ حال ہی میں انسانی حقوق کے نمائندوں اور صحافیوں کو تہ تیغ کیا گیا، ڈریکونین قوانین کی تازہ شکل کا عالم یہ ہے کہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ پبلک سیفٹی ایکٹ(PSA) اور ان لا فل ایکٹیوٹز پریوینشن ایکٹ (UAPA) کے تحت جمہوریت اور انسانیت کو بیک وقت کچلا جارہا ہے۔ جو کووڈ۔19 کی ڈبل لاک ڈاؤن کی صعوبتیں برداشت کی گئیں وہ الگ المیہ ہے جو آر ایس ایس۔بی جے پی کا ’’ہندتوا‘‘ ایجنڈا امن مخالف اور مسلم مخالف ہے جو زخم سے ناسور بن چکا وہ عالمی برادری سے مسیحائی کا متلاشی ہے!
سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے مئی 2021میں دورہ پاکستان پر یقین دلایا کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دیکھا جائے گا، جنرل اسمبلی کے صدر نے اپنی جگہ یہی یقین دلایا تاہم رسل ٹربیونل نے کشمیر مظالم پر اپنی رپورٹ میں واضح کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی، غیرکشمیریوں کی غیرقانونی آبادکاری، حقیقی آبادکاری کی بیخ کنی اور انسانی حقوق کی پامالی اپنے عروج پر ہے۔
ایک سال قبل جامعہ آزاد جموں و کشمیر مظفرآباد میں ایک تقریب میں جس کی صدارت اس وقت کے وزیراعظم کررہے تھے اور اس سیشن کا میں اکلوتا مقرر یا سوال و جواب کا سلسلہ تھا تو میں نے عرض کیا تھا کہ جامعہ کشمیر کو نظریاتی و تحقیقی و تعلیمی حوالے اس مسئلہ کشمیر کو گود لینا ہوگا، اور ہمیں نوبل انعام یافتہ پیدا کرنے ہوں گے اور علوی بریں عالمی سطح کے تجزیہ نگار تاکہ ایک بھاری بھرکم آواز کا اثر اپنی جگہ ہو۔ اسی طرح کچھ عرصہ بعد جب آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان کی الوداعی تقریب کا انعقاد بھی جامعہ میں ہوا تو میں نے عرض کیا تھا کہ صدارت کا آنا جانا اپنی جگہ ہمیں مسعودازم و کشمیر ازم کی ضرورت ہمیشہ رہے گی اور جسے قلم اور زبان و بیان عالمی برادری کو جگانے اور باور کرانے کیلئے ضروری ہیں۔ مجھے یاد ہے میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی کے 22ممبران کو کشمیر اشوز کے ایلچی قرار دیا تھا مگر وہ متحرک نہ ہو سکے، گویا وزارتِ خارجہ کے علاوہ ہمیں ایک خودمختار غیر پارلیمانی کشمیر کمیٹی کی ضرورت ہے جو مسعود خان، ملیحہ لودھی، ڈاکٹر امجد ثاقب، حاضر سروس وی سی جامعہ کشمیر اور چند ریسرچر پر مشتمل ہوں جو وزارتِ خارجہ اور قوم کی معاونت کریں، براہِ راست وزیراعظم کو جوابدہ ہوں جیسا کہ وزیراعظم خود کو کشمیر کا سفیر قرار دے چکے۔ یہی بات بین الجامعات کشمیر سیمینار گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں عرض کی!
اول، 5اگست 2019والا غیر اخلاقی و غیر قانونی اقدام ختم کرکے کشمیر کو مطلوبہ پوزیشن دی جائے۔ دوم، نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالی کا گرم بازار بند ہونا چاہیے۔ سوم، استحصال اور جعلی آپریشنز بند ہونے چاہئیں جو عالم کو بےوقوف بنایا جارہا ہے۔ چہارم، کشمیر کی ثقافت، جغرافیہ اور تہذیب کو خراب نہ کیا جائے۔ پنجم، کشمیریوں کو ان کی منشا کے مطابق حق رائے دہی دیا جائے۔ اسی میں عالمی امن کی تقویت، خطے کی ترقی اور عالمی معاشی و معاشرتی استحکام ہے!