619

کچے مکان 

آج سے تقریبا پچیس سال پہلے جب ہم پرائمری سکول میں پڑھتے تھے تو ہر طرف کچے مکانوں کی بہار ہی بہار تھی میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں کچے مکانوں کا ایک خاص مقام ہے کیونکہ انسانی روح کو جو سکون مزہ راحت اور آرام کچے مکانوں میں میسر تھا اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ نے انسان کو مٹی سے بنایا ہے اور جو  سکون اور مزہ  انسان کو مٹی سے بنی چیزوں سے ملتا ہے وہ دنیا میں شاید آپ کو سونے اور چاندی سے بنی چیزوں سے بھی میسر نہ آئے ۔

کچے مکانوں کی ٹھنڈک آج کے ایئرکنڈیشن نما کمروں سے کہیں زیادہ تھی اور کچے مکانوں کی گرمائش کی تو کیا بات تھی سردیوں میں گھروں میں ایک خاص نما اگ کی انگیٹھی ہوتی تھی جس کے گرد بیٹھ کر گھر کے تقریبا تمام افراد اپنی اپنی ردوداد سناتے تھے اور خاص کر بچے اپنی دادی یا نانی سے بما فرمائش کے ایک خاص قسم کی پریوں یا جنوں کی کہانی سنتے تھے ۔

کچے مکانوں میں بارشوں کا بھی اپنا ایک خاص مزہ تھا ۔ سردیوں کی رات میں جب بارش ہوتی تھی تو رضائی میں منہ چھپائے کچے مکانوں کی چھت کی وہ ترتراہٹ آج بھی کانوں میں کہیں گونجتی ہے اور گرمیوں کی بارش میں گھر کے آنگن میں وہ آنکھ مچولی آج بھی دماغ کے کسی حصے میں دھندلی تصویر کی طرح پڑی ہے جسے یاد کر کے روح کو سکون ملتا ہے در حقیقت کچے مکان ہی ہماری ثقافت کی اصل عکاسی کرتے ہیں کچے مکانوں کے لوگوں کی محبت اور پیار میں ایک خالص پن تھا اور ڈانٹ ڈپٹ  میں ایک سبق تھا ۔

اس لیے میں جب بھی اپنے وطن کو چھٹیوں میں جاتا ہوں تو اکثر اس جگہ کا وزٹ ضرور کرتا ہوں جہاں میں نے بچپن سے لے کر جوانی تک کا سفر طے کیا مگر اب اس جگہ کو ہر طرف سے پکے مکانوں نے گھیر لیا ہے اور یہ دیکھ کر دل کو کافی حد تک ٹھیس بھی پہنچتی ہے مگر کیا کریں یہ تو وقت کی ستم ظریفی ہے ۔

میرے خیال اور ناقص سوچ کے مطابق کچے مکانوں کی زندگی کا وہ دور ہی شاید سنہری دور تھا کیونکہ تب لوگ سچے اور مکان کچے ہوتے تھے ۔

بشکریہ اردو کالمز