ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب جو کہ ایک انڈین شہری اور پیشے کے لحاظ سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کے مطابق وہ افریقہ کے ایک بزرگ عالم دین احمد دیدات اور پاکستان کے بزرگ و معروف عالم دین ڈاکٹر اسرار احمد سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنی بقیہ زندگی اللہ کے دین کے لیے وقف کر دی اللہ کی بے پناہ عطاء کردہ خوبیوں کے حامل اس شخص کو اللہ نے ایسا علم اور عزت عطا فرمائی کہ لاکھوں لوگوں کی تعداد سے بھرے مجمعے ڈاکٹر صاحب کے علم سے فیض یاب ہوۓ اور ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلم انہی دینی مجلسوں و مجمعوں میں اسلام کی دولت سے روشناس ہوئے۔
ڈاکٹر صاحب کے ان پروقار دینی مجمعوں میں خاص کر غیر مسلموں کے لیے سوال و جواب کا ایک( segment )رکھا جاتا ہے تاکہ اسلام کے بارے میں جو بھی ان غیر مسلموں کے شکوک و شبہات ہو انہیں دور کیا جاسکے ایسا ہی
ایک(segment ) جس میں سوال و جواب کا سلسلہ جاری تھا ایک غیر مسلم نے ڈاکٹر صاحب سے ط ال بان کے حوالے سے سوال پوچھا کہ آپ ط ال بان کےبارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب اس غیر مسلم کے پوچھے گیےسوال کے جواب میں بتاتے ہیں کہ میں ذاتی طور پر ط ال بان کو نہیں جانتا اور نہ ہی کبھی افغانستان گیا ہوں مگر وون ریڈلی جو کہ ایک یورپین صحافی اور رپورٹر ہیں وون ریڈلی کے مطابق اسے افغانستان میں ط ال بان کی تحقیقات کے لئے بھیجا گیا تھا اور وہ افغانستان میں اپنے انٹرویوز اور رپورٹز کی ریکارڈنگ کے دوران مکمل حجاب اور نقاب کا استعمال کرتی تھی ایک دن ایک انٹرویو اور رپورٹ ریکارڈنگ کے دوران اس کا کیمرا گر گیا اسی کیمرے کو اٹھانے کے دوران اس کا نقاب چہرے سے اترگیا جس کے باعث ط ال بان کے سامنے اس کی حقیقت اشکار ہوگیی اور ط ال بان نے اسے اس کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا اور تحقیقات شروع کردی
وون ریڈلی اپنے ایک انٹرویو میں بتاتی ہے کہ ط ال بان کا ایک گروہ اس کے اردگرد جمع ہوگیا جس کی وجہ سے وه اس قدر خوف زدہ اور حواس باختہ ہوگیی کہ اسے اپنی موت اور اپنے ساتھ زیادتی نظر آنے کا خدشہ ہونے لگا اسے یقین ہو گیا کہ پہلے یہ سب لوگ ایک ایک کر کے اسے زیادتی کا نشانہ بنائیں گے اور پھر اس کے بعد اسے کسی چوراۓ پر لٹکا کر موت کےگھاٹ اتار دیا جائےگا۔
اسی کشمکش اور ذہنی اذیت میں ایک گھنٹے کا وقت گزر گیا اور پھر ایک افغان عورت نمودار ہوئی جسے اس کے جسم کی تلاشی کے لئے بلایا گیا تھا کہ کہیں اس کے جسم کے کسی حصے پر کوئی اسلحہ وغیرہ تو نہیں بندھا ہوا یہ دیکھ کر اسے سخت کوفت اور غصہ آیا کیونکہ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ جس ذہنی اذیت سے گزر رہی تھی اس کی وجہ صرف یہ عورت تھی جسے فقط اس کے جسم کو ٹٹولنے کے لئے بلایا گیا تھا اس سارے واقعہ کوسمجھنے کے بعد اس نے غصے کی حالت میں اپنے جسم سے اسکٹ اوپر اٹھا لی تاکہ سامنے کھڑے لوگوں کو پتہ چل سکے کہ اس کے جسم پر کسی قسم کا کوئی اسلحہ بندھا ہوا نہیں ہے۔
وہ بتاتی ہے کہ اس کی اس حرکت کی وجہ سے ط ال بان 180 ڈگری کے اینکل کے حساب سے دوسری طرف مڑ گیے وون ریڈلی کہتی ہے اگر آپ لوگوں نے ط ال بان کو ختم کرنا ہے تو اپ لوگوں کو نا تو کسی بم نا کسی توپ اور نا ہی کسی ٹینک کی ضرورت پڑے گی بس اپ لوگ ط۔ال بان کے سامنے صرف بے لباس عورتوں کو پیش کردوں وہ خود بخود بھاگ جائیں گے ۔
اسی انٹرویو کے دوران جب اس کے ساتھی رپورٹرز نے سوال کیا کہ اپ کے ساتھ ط ال بان کا رویہ اور سلوک کیسا تھا اس نے جواب میں کہا 6دنوں کی مختصر ط ال بان قید میں جس قدر خوبصورت حسن سلوک میں نے دیکھا اس کو کسی رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا بس اس 6دنوں کی مختصر قید سے جب ط۔ال بان کی جانب سے مجھے رہا کیا گیا تو صرف مجھ سے ایک وعدہ لیا گیا کہ اپنے وطن لوٹنے کے بعد قرآن پاک کو ترجمہ کے ساتھ پڑھوں گی جو ط ال بان کی جانب سے مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا تھا۔
وون ریڈلی نے قرآن پاک کو پڑھنے کے بعد نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ مستقل اور باقاعدہ طور پر پردے کا اہتمام بھی کیا ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کہتے ہیں میڈیا ایک ایسا آلہ ہے جو ہیرو کو زیرو اور زیرو کو ہیرو کے طور پر پیش کرتا ہے اور عالمی میڈیا ط ال بان کے حوالے سے اسی فارمولے کو استعمال کر رہا ہے ۔ڈاکٹر صاحب مزید کہتے ہیں کہ کوئی بھی چیز جب اپ تک پہنچے تو غلط یا صحیح قرار دینے سے پہلے اس کی تحقیقات ضرور کریں۔۔