کچھ لوگ پوچھتے ہیں کے زندگی کا کیا مقصد ہے
یہ سوال پوچھنا اس کے جو بھی جواب دیے جائینگے سبھی غلط ہونگے،
زندگی تو زندہ رہنے کا نام ہے تو پھر ہم مر کیوں جاتے ہیں؟؟
خیر لیکن ہم پوچھتے ہیں اور پوچھنا ہمارا فرض ہے یہ ہم اس لئے اس پوچھتے ہیں کیونکہ ہمیں پتا ہی نہیں کہ زندگی کیا ہے اگر ہمیں یہ پتا ہوتا کہ زندگی کیا ہے تو ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی، کہ زندگی کیا ہے
جس نے کبھی پیار نہیں کیا وہ پوچھ سکتا ہے کہ پیار کا کیا مقصد ہے، لیکن جس نے پیار کو جانا ہے اس کے جاننے میں ہی پیار کے مقصد کو جان لے گا اور وہ نہیں پوچھے گا کہ پیار کا مقصد کیا ہے،
اس لئے جب کوئی یہ پوچھتا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے، میں کہتا ہوں کہ وہ اس لئے پوچھ رہا ہے کیونکہ اسے زندگی کا ہی پتا نہیں اگر پتا ہوتا تو کوئی اس کا مقصد نہیں پوچھتا،
زندگی خود ہے اپنا مقصد۔
لیکن ہمیں زندگی کا ہی پتا نہیں کہ زندگی کیا ہے اس لئے ہم پوچھتے ہیں کہ زندگی کا مقصد کیا ہے،
اور جسے ہم زندگی جانتے ہیں وہ بالکل بھی زندگی نہیں، ہم کسے زندگی جانتے ہیں پیدائش سے لے کر مرنے تک کی مدت کو ہم زندگی سمجھتے ہیں وہ زندگی نہیں ہے آہستہ آہستہ مرنے کا نام ہے اس کا زندگی سے کیا تعلق ہے؟ پیدائش سے لے کر موت تک ہم روز مرتے جاتے ہیں تھوڑا تھوڑا مرتے جاتے ہیں اسی مرنے کی لمبے راستے کو ہم زندگی سمجھ لیتے ہیں یہ جو موت کی لمبی کہانی ہے اسی کو ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی ہے کل اور آج میں آپ تھوڑا مر چکے ہیں کل آپ اور تھوڑا مر جائیں گے روز ہم مر رہے ہیں اس مرنے کو ہم زندگی سمجھتے ہیں، تو سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے جس میں ہم پیدا ہوتے جنم لیتے ہیں اور مرتے ہیں اور روز روز وہی وہی دورانا وہی صبح اٹھانا وہی شام کو سو جانا وہی کھانا وہی کپڑے وہی جھگڑے وہی مصیبتیں وہی سب روز روز، اس کا مطلب کیا ہے اس کا مقصد کیا ہے تاہم پوچھتے ہیں کہ زندگی کا مقصد کیا ہے میں آپ سے پہلی بات یہ کہہ دوں کہ یہ زندگی ہی نہیں ہے جس کو آپ زندگی کہہ رہے ہیں اور اس کا آپ کوئی بھی مقصد بنالیں وہ کوئی بھی مقصد اس کو زندگی نہ بنا سکے گا یہ زندگی ہے ہی نہیں، یہ تو لمبی مرنے کی داستان ہے اور اس لئے تو ہم اسے زندگی کہتے ہیں لیکن نہ تو ہم اس میں شانتی کو جانپتے ہیں نہ ہم پیار کو جانپتے ہیں نہ ہم اس جہاں کو جانپتے ہیں کوئی خوبصورتی ہماری زندگی میں انبھو نہیں پاتی، ہوگی بھی کیسے مرنے کے راستے میں ہوگا کیسے مرنے میں ہوگا دکھ مرنے میں ہوگا درد مرنے میں ہوگی پریشانی مرنے میں ہوگا اندھکار روز بڑتا ہوا اندھکار زندگی کو گرتا چلا جاتا ہے اس لئے تو لوگ کہتے ہیں کہ بچپن کے دن بڑے سکھ کے دن تھے کیسی عجیب بات ہے اگر زندگی شاداب ہو رہی ہے تو بوڑھاپے کے دن سب سے زیادہ سکھ کے دن ہونے چاہیے، بچپن کے دن کیوں؟ بچپن تو تھی شروعات بوڑھاپا ہے حاصل تو دن تو بوڑھاپے کے سکھ کے ہونے چاہیے تھے اگر زندگی بڑھی ہے تو لطف بھی بڑنا چاہیے لیکن ہم سارے لوگ بچپن کے گیت گاتے ہیں کہ بچپن کے دن خوشی کے دن تھے اور ہمارے ادیب اور دانشور لکھتے ہیں بڑے سکھ تھے بچپن میں بڑا لطف تھا بچپنے میں، یقیناً یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بچپن کے بعد ہم جس سفر پر چل رہے ہیں وہ زندگی کا سفر نہیں بلکہ موت کا ہے اس لئے دکھ بڑتا جاتا ہے موت کی چھاؤں بڑھتی جاتی ہے دکھ بڑھتا جاتا ہے بچپن کے دن سکھ کے معلوم ہوتے ہیں، بچپن کا سکھ غلط زندگی کا ثبوت ہے زندگی ٹھیک سے نہیں جی گئی جانی نہیں گئی پہچانی نہیں گئی، لیکن ہم اس کو مان لیتے ہیں کہ یہ زندگی ہے،
یہ زندگی نہیں ہے یہ زندگی ہو بھی نہیں سکتی،
گوتم بدھ کے پاس ایک بوڑھا فقیر آیا بدھ نے اس فقیر سے پوچھا تیری عمر کیا ہے اس فقیر نے کہا 4 سال وہ بوڑھا تھا بدھ اور اس کے آس پاس کے لوگ حیران ہوئے، سوچا بدھ نے شاید میرے سمجھنے میں ہوگی ہے بھول پھر سے پوچھا دوست تیری عمر کیا ہے اس بوڑھے نے کہا 4 سال، بدھ نے کہا بڑی حیرانی میں ڈال دیا تم نے لگتے ہو کوئی 70 سال تمہاری عمر ہوگی کہتے ہو چار سال کس حساب سے جھوٹ بولتے ہو، اس بوڑھے نے کہا 4 سال سے پہلے جو تھا وہ زندگی نہیں تھی اس کی میں کنتی نہیں کرتا، 4 سالوں سے مجھے زندگی کی خوشبو ملی 4 سالوں سے چیت ہوا شانت 4 سالوں سے اپنے اندر جھنکا، تو اس کی کنتی ہوئی جو زندگی ہے باہر تھی موت زندگی تو اندر تھی اور میں باہر ہی دیکھتا رہا تو میں نے موت کو جانا تھا 4 سال پہلے تو اس عمر کو کیسے زندگی کی عمر بتاؤں وہ میری کنتی میں نہیں آتی،
کونسی بات دیکھی ہوگی اس فقیر نے اپنے اندر کیا درشن ہوا ہوگا کون ہے کیا ہے اندر، کوئی اسے روح کہے خدا کہے اچھا تو یہی ہے کہ ہم اس کو زندگی کہیں، زندگی ہے اندر،
اور اس کے اوپر ایک کھول ہے جسم کی جسم ختم ہونے والی شے ہے جسم کو جو زندگی مان لیتا ہے وہ موت کو ہی زندگی سمجھ کہ جی لیتا ہے اور تب ہوتا ہے بہت دکھ اور بہت درد اس دکھ اور درد میں وہ پوچھنے لگتا ہے کہ کیا ہے مقصد کیونکہ اس دکھ درد میں تو کوئی مقصد دکھائی دیتا نہیں، تو من میں سوال اٹھنے لگتا ہے کہ کیا ہے اس زندگی کا مقصد،
ٹھیک ہے پوچھنے والا بھی لیکن اس کا آگاہ کردیں کہ یہ زندگی ہی نہیں ہے جس کا وہ مقصد پوچھ رہا ہے،
رہے گئی دوسری زندگی اسے ہم جانتے نہیں کیونکہ جو جان لیتا ہے وہ اس کا مطلب نہیں پوچھتا کیونکہ اس کو پا لینا ہی اس کا جواب ہے وہ خود ساتھ ہے اس کے بعد پا لینے کو پھر کچھ بھی نہیں ہے اس کو پا لینے اس زندگی کو جان لینے اس زندگی کے ساتھ ایک ہوجانا سب کچھ پا لینا ہے کیونکہ اس کے بعد من میں کوئی ابھاو نہیں رہے جاتا کوئی تمنا نہیں رہے جاتی کوئی مانگ نہیں رہے جاتی من بہت ہی خاموش ہوجاتا ہے،
زندگی کا مقصد ہے زندگی کو پا لینا،
ہم زندہ نہیں ہیں ہم قریب قریب مرے ہوئے ہیں، اور ہم جو بھی کرتے ہیں جو بھی محنت کرتے ہیں اس زندگی کو کھڑا کرنے کی جو کہ جھوٹی ہے، سچی نہیں اس ساری محنت ومشقت کا سوا اس کے کوئی انجام نہیں ہوتا کہ ہم روز روز اپنی ہی محنت سے اپنی ہی قبر کے قریب پہنچتے چلے جاتے ہیں،
جس کو ہم بستی کہتے ہیں وہ کیا ہے
جہاں ہم کھڑے ہیں وہاں کتنے لوگ مر چکے ہیں، اصل میں ہم کھڑے ہی اس لئے ہوسکے ہیں کہ بہت لوگ مر گئے ہیں نہیں تو ہم کھڑے بھی نہیں ہوسکتے تھے ہزاروں لاشوں پر ایک ایک آدمی کھڑا ہے اپنے باپ کی لاش پہ بیٹا کھڑا ہے اپنی ماں کی لاش پہ اس کی بیٹی کھڑی ہے، ہم سب اپنے ماں باپ کی لاشوں پر کھڑے ہیں وہ نہ مریں تو ہم زندہ نہیں رہے سکتے وہ مرتے ہیں اُجڑتے ہیں جگہ خالی ہوتی ہے ہم بستے ہیں اور ہم بس بھی نہیں پاتے کہ ہمارے بچے بسنے کو آجاتے ہیں اور ہم وداع ہو جاتے ہیں ایسا بدلتا ہوا مرگھٹ ہے جس کو ہم بستی کہتے ہیں اور ایسی ہی مرتی اور بدلتی ہماری زندگی ہے جس کو ہم زندگی کہتے ہیں وہ بھی زندگی نہیں وہاں بھی روز روز ہمارے اندر مرتا جاتا ہے کچھ،
سائنسدان کہتے ہیں ہمارے جسم میں سینکڑوں سیلز ہیں وہ روز مر رہے ہیں وہ مر مر کر باہر نکل رہے ہیں 7 سال میں پورا جسم مر کر بدل جاتا ہے دوسرا جسم آ جاتا ہے سات سال بعد آپ کے جسم میں کچھ بھی نہیں بچتا جو پرانا ہو، سب مر جاتا ہے نئے سیلز ان کی جگہ لے لیتے ہیں آپ بھی ایک بستی کی طرح ہیں جس میں لوگ مر رہے ہیں نئے آرہے ہیں کروڑوں سیلز سے مل کر آپ کا جسم بنا ہے اس میں پرانے سیلز مرتے جارہے ہیں نئے آتے جارہے ہیں، مردہ چیزیں جسم کے باہر نکل رہی ہیں آپ کو خیال بھی نہ ہوگا آپ بالوں کو کاٹتے ہیں درد کیوں نہیں ہوتا ہاتھ کو کاٹتے ہیں درد ہوتا ہے ناخن کو کاٹتے ہیں درد کیوں نہیں ہوتا ناخن جسم کا مرا ہوا حصہ ہے بال مرے ہوئے حصے ہیں مرے ہوئے سیلز ہیں اسی لئے وہ نکل رہے اس وجہ سے انہوں کاٹنے سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی وہ مرے ہوئے حصے ہیں اس لئے نکلتے جارہے ہیں جسم کے باہر ان کی جگہ نئے سیلز حصے لیتے جارہے ہیں،
جسم خود ایک بستی ہے جس میں مرگھٹ بنا ہوا ہے 24 گھنٹے کوئی چیز مر رہی ہے کوئی نئی چیز بن رہی ہے بڑی بستی بھی ایک مرگھٹ ہے جھوٹا جسم بھی ایک مرگھٹ ہے اور آپ کے چیت میں کیا ہے کل جو خیال تھا وہ آج نہیں ہوگا پرسوں جو خیال تھے وہ آج نہیں ہیں مر گئے وہ، نئے خیال آگئے بچپن میں جو سوچا تھا وہ آج ہے؟ کہاں گئے وہ خیال کہاں گئی وہ تمنا کہاں گئے وہ وچار جوانی آتے آتے سب بدل گیا ہے
آج رات جو سوچا ہے وہ صبح کو ساتھ ہوتا ہے؟
ایک آدمی شام کو تہے کرتا ہے کل صبح 4 بجے اُٹھیں گے اور 4 بجے وہی آدمی سوچتا ہے کیا ضرورت ہے پھر دیکھیں گے سوے رہو کہاں گیا وہ خیال جس نے تہے کیا تھا کہ صبح 4 بجے اُٹھیں گے، اور صبح اٹھ کر پھر وہ پچھتاتا ہے کہ کسی بری بات کہ میں آج نہیں اٹھا کل ضرور آٹھوں گا وہ رات پھر سوتا ہے پھر صبح 4 بج جاتے ہیں اور پھر وہ سوچتا ہے کہ رہنے بھی دو آج ایسی بھی کیا جلدی ہے ایسی کیا ضرورت پڑی ہے نیند بہت گہری ہے کل اُٹھیں گے، خیال ہر لمحے مرتے ہیں اور جنمتے ہیں من بدلتا ہے جسم بدلتا ہے اور بدل ہٹ تبھی ہوتی ہے جب کچھ مرتا ہو اور نیا آتا ہو نہیں تو کوئی بدل ہٹ نہیں ہوتی،
وہی چیز مرتی ہے جو بدلتی ہے جو چیز نہیں مرتی وہ بدل نہیں سکتی ہم تو روز بدل رہے ہیں جسم بدل رہا ہے اس میں کوئی بھی زندگی نہیں ہے جہاں جہاں بدل ہٹ ہے وہاں وہاں زندگی نہیں ہے،
لیکن آپ کو کیا پتا کہ آپ کے اندر کچھ ایسا بھی ہے جو نہیں بدلتا جو وہی ہے جو ہے اگر اس کا پتا چل جائے تو جاننا کہ زندگی کا پتا چلا اس کے پہلے زندگی کا کوئی پتا نہیں باقی سب موت ہے۔
اس موت کی کہانی میں ہم جو کچھ بھی کریں گے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیا کرتے ہیں آپ دکانداری کرتے ہیں کہ نوکری کرتے ہیں کہ گھر بساتے ہیں کہ بیوی اور بچوں کو پالتے ہیں یہ گھر بار چھوڑ کر سادھو ہو جاتے ہیں دھارمک ہیں یا آدھارمک
مندر جاتے ہیں یا نہیں آستِک ہیں یا ناستِک گیتا پڑھتے ہیں قرآن پڑھتے ہیں یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جو بھی آپ اس زندگی کے سفر میں کریں گے وہ آپ کو موت تک لے جائے گا چاہئے مندر جائیں چاہئے نہ جائیں جو بھی کریں گے اس زندگی میں سب آپ کو موت کی طرف لے کر جائے گا اس میں کوئی فرق پڑنے والا نہیں، کیونکہ جو بھی انسان کرسکتا ہے اس کا انت ہوتا ہے جو بھی ہم کرسکتے ہیں وہ سب ہمیں موت میں لے جائے گا،
ہماری زندگی کی کوشش کیا ہے دکھ درد سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں صدا بنے رہنے کی جتن ہے زندگی کو پکڑے رہنے کی جد ہے ساری زندگی کے خواب کیا ہیں ہمارے ہماری جدوجہد کیا ہے دکھ سے بچ جائیں موت سے بچ جائیں بوڑھاپے سے بچ جائیں زندگی بنی رہے صدا، یہی ہماری چاہ ہے لیکن ہوتا اس سے اُلٹا ہے پہنچتے ہیں دکھ میں پہنچتے بوڑھاپے میں پہنچتے ہیں موت میں یہ ہماری خواہش خواہش ہی رہے جاتی ہے
زندگی بھر کے تلاش کا یہی انجام ہے اور اگر زندگی بھر کا یہی محاصل ہے تو کیا ہم اِسے زندگی کہیں؟
جس زندگی کے آخر میں موت کے پھول لگ جاتے ہوں کیا ہم اسے زندگی کہیں؟
بیج ہم نے بوے ہوں امرت کے اور پھل لگتے ہوں موت کے تو کیا یہ خیال نہیں آتا ہوگا کہ وہ بیج موت کے ہی رہے ہونگے امرت کے نہ رہے ہونگے
آم کے بیج ہم بوئیں اور کڑوے پھل لگ جائیں تو کیا یہ خیال نہ آئے گا کہ ہمارے بیج ہی غلط رہے ہونگے
کیونکہ جو پھل میں ہے وہ اگر بیج میں موجود نہ تھا تو آئے گا کہاں سے وہ بیج ہی کڑوے رہے ہونگے وہ بیج بھی آم کے نہ رہے ہونگے نیم کے رہے ہونگے اور ہم نے بیج کو سمجھنے میں ہی بھول کی ہوگی پھر تو جو بیج ہوتا ہے وہی درخت بنتا ہے وہی پھل لگتے ہیں،
تو جب زندگی کے آخر میں موت کے پھل لگتے ہیں تو جسے ہم نے زندگی کہا ہوگا وہی بھول ہوگی ہوگی وہ زندگی نہ رہی ہوگی وہ بیج موت کے ہی رہے ہونگے جنم زندگی کی شروعات نہیں موت کی شروعات ہے
جنم زندگی کا بیج نہیں موت کا بیج ہے
جنم بیج نہیں ہے امرت کا موت کا ہی بیج ہے
لیکن جنم کو ہم سمجھ لیتے ہیں زندگی کا میوہ اور تبھی ساری بھول ہو جاتی ہے۔
جنم کو زندگی مت سمجھ لینا جنم زندگی نہیں موت ہے۔