گاہے خیال آتا ہے یہ فلسطینی کس مٹی سے بنے ہیں ؟یہ کس دنیا میں رہتے ہیں؟انہیں تحمل وبرداشت اور پرامن بقائے باہمی کے مشورے سنائی کیوں نہیں دیتے؟یہ حالات سے سمجھوتہ کیوں نہیں کرلیتے؟یہ لوگ اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کرلیتے کہ اسرائیل کاغاصبانہ تسلط ختم کرنے کے خواب ہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا عذاب ہیں۔کبھی غلیل سے پتھر برسا یا کرتے تھے ،پھرراکٹ باری کرنے لگے اور اب سرپر کفن باندھ کر دشمن کے علاقے میں گھس جاتے ہیں ،چندصہیونیوں کواس اُمید پر یرغمال بنا کرلے آتے ہیں کہ انہیں چھڑانے کیلئے مذاکرات ہوں گے تو اپنی شرائط پیش کریں گے۔اتنی سی بات کیوں نہیں سمجھتے کہ ’’طوفان الاقصیٰ ‘‘جیسی کسی مہم جوئی کے نتیجے میں ایسا بھونچال آئے گا کہ سب کچھ نیست ونابود ہوجائے گا۔غزہ کی پٹی کو ایک بار پھر کھنڈرات میں تبدیل کردیا جائے گا۔بجلی اورپانی کیلئے آپ اسرائیل کے رحم وکرم پر ہیں ،پہلی فرصت میں ان دونوں سہولیات کی فراہمی منقطع کردی جائے گی۔بیرونی دنیا سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھجوایا گیا سامان بھی آپ تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ آپ کے پاس تو زخمیوں کے علاج اور دوائیوںکیلئے پیسے نہیں ہوں گے ،تعمیر نو کیلئےوسائل کہاں سے دستیاب ہوں گے۔اسرائیل کی امداد کیلئے تو امریکہ بہادر میدان میں اُتر آئے گا ،آپ کوکس کا تعاون حاصل ہوگا؟کیا کوئی عرب ملک آپ کی پشت پناہی کرنے کی ہمت کرپائے گا؟کیا عصر حاضر کے صلاح الدین ایوبی جناب طیب اردوان آپ کی خاطر اسرائیل و امریکہ سے تعلقات خراب کرنا چاہیں گے؟کیا عالم اسلام کی اکلوتی ایٹمی طاقت یعنی پاکستان کے حالات اس قابل ہیں کہ آپ کے حق میں توانا آواز اُٹھائی جاسکے؟اقوام متحدہ میں آپ کی وکالت کرنے والاکوئی نہ ہوگا،آپ کو دہشت گرد،جارح اور ظالم کے طور پر پیش کیا جائے گالیکن بالفرض محال اس عالمی فورم پر فلسطینیوں کے حق میں کوئی قرارداد منظور ہوبھی گئی تو اب تک لائی گئی قراردادوں کا انجام آپ کے سامنے ہے۔اسلامی سربراہی کانفرنس میں اتنا دم خم بھی نہیں کہ اس سلگتے ہوئے مسئلے پر خصوصی اجلاس ہی بلالیا جائے لیکن یہ انہونی ہوبھی گئی تو اسرائیلی مظالم کے خلاف مذمتی بیان سے کیا تیر مارلیں گے؟آپ سمجھتے کیوں نہیں ،فلسطین ایک فلاپ اور ناکام فلم ہے ۔اس میں اب جتنا مرضی ایکشن ،تھرل اور ٹریجڈی ہو ،دنیا دلچسپی لینے کو تیار نہیں ۔14مئی 1948ء سے اب تک 75سال ہوچلے،ایک ہی فلم کوئی کتنی باردیکھ سکتا ہے؟ہمیں تو حفیظ جالندھری بہت پہلے سمجھا گئے کہ غیر حقیقی خواب دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
انسان بھی کچھ شیر ہیں باقی بھیڑوں کی آبادی ہے
بھیڑیں سب پابند ہیں لیکن شیروں کو آزادی ہے
شیر کے آگے بھیڑیں کیا، اک من بھاتا کھاجا ہے
باقی ساری دنیا پرجا، شیر اکیلا راجا ہے
بھیڑیں لاتعداد ہیں لیکن سبکو جان کے لالے ہیں
ان کو یہ تعلیم ملی ہے بھیڑیے طاقت والے ہیں
ماس بھی کھائیں کھال بھی نوچیں ہر دم لا گو جانوں کے
بھیڑیں کاٹیں دورِ غلامی بل پر گلّہ بانوں کے
بھیڑیوں سے گویا قائم امن ہے اس آبادی کا
بھیڑیں جب تک شیر نہ بن لیں نام نہ لیں آزادی کا
گویا اس خطے میں قیام امن کی ذمہ داری آپ پر ہے۔یا توبھیڑوں کی صف سے نکل کر شیروں کی قطار میں شامل ہوجائیںیاپھر چپ چاپ ظلم سہتے رہیں ۔مگرپھر ایک اور شعر یاد آتا ہے تو سوچ بدل جاتی ہے:
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو
کہ ناحق خون پروانے کاہوگا
یعنی شہدکی مکھی باغ میں جائے گی،پھولوں کا رس چوسے گی،اس کا کچھ حصہ موم کی شکل اختیار کرنے کے بعد چھتہ بنانے کے کام آئے گا جبکہ باقی حصہ شہد میں تبدیل ہوجائے گا۔شہدنچوڑتے وقت موم کو الگ کردیا جائے گا، یہ موم شمع یعنی موم بتی بنانے کے کام آئے گا۔جب شمع فروزاں ہوگی تو پروانے لپکیں گے اور ناحق مارے جائیں گے ۔اگر شہدکی مکھی کو باغ کا رُخ ہی نہ کرنے دیا جائے تو یہ فتنہ اپنی موت آپ مرجائے۔گویا اسرائیل نامی شہد کی مکھی کو چمن میں گھسنے کی اجازت نہ دی جاتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔
آپ کی طرح میں بھی حقیقت پسند انسان ہوں ،فلسطینیوں کو موجودہ صورتحال کا ذمہ داراور قصوروار سمجھتا ہوں،انہیں لعن طعن کرتے ہوئے معقولیت کی راہ اختیار کرنے کا مشورہ دینا چاہتا ہوں۔مگر دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے فلسطینیوں کی چوتھی نسل کے پاس راستہ کیا ہے؟آپ نے محمود درویش کا نام سنا ہے؟گمشدہ وطن کا قومی شاعر جس کی مقبولیت محض ادبی حلقوں تک محدود نہیں۔فلسطینیوںکی ابتلا و آزمائش کوشاعری کے پیراہن میں بیان کرنے والے محمود درویش کی چندنظموں کاانورسن رائے نے ’’جغرافیے کے معتوب‘‘کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا ہے ۔آپ اس کا کلام پڑھیں گے تو جان جائیں گے کہ یہ فلسطینی کس مٹی سے بنے ہیں ۔مثلاً ایک جگہ محمود درویش اس طرزعمل کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
پھسلتی ہوئی ڈھلوانوں پر
گزرتے وقت کو دیکھتے ہوئے
شکستہ سایوں کی پرچھائیوں میں
ہم وہی کرتے ہیں جو ایک قیدی کرتا ہے
ہم اُمید کاشت کرتے رہتے ہیں
ایک اور نظم ’’محاصرے کے دوران‘‘کامطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ فلسطینیوں کے پاس دو رہی راستے ہیں:مطلق غلامی یا پھر مکمل آزادی۔انہیں مکمل آزادی کے ساتھ مطلق غلامی کا انتخاب کرنے کا حق دیا جارہا ہے۔آج تک ان کی پرامن جدوجہد آزادی کاکوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔معاہدہ اوسلواورکیمپ ڈیوڈ سمجھوتے جیسے کتنے ہی جھوٹے دلاسے دیئے گئے ،بیشمار وعدے کئے گئے لیکن قیام امن کی سب کاوشیں ناکام ہوگئیں تو یہ لوگ کیا کریں؟ذلت کی زندگی جینے کے بجائے عزت سے موت کا انتخاب کرنے کو بہادری کہا جائے یا بیوقوفی ؟سب کی اپنی تشریح اور اپنا فلسفہ ہے ۔دونوں کے حق میں دلائل کا انبار لگایا جاسکتا ہے۔