مہمان کالم - رفاہِ عامہ اور سیرت طیّبہﷺ رفاہِ عامہ اور سیرت طیّبہﷺ

ڈاکٹر طاہر ڈاکٹر عقیل احمد یونیورسٹی آف لاہور سے منسلک اور اسلامک سٹڈیز کے عام اساتذہ سے تھوڑا مختلف ہیں ، مجھے انہوں نے اپنی یونیورسٹی میں منعقدہ سیر ت کانفرنس میں شرکت کے لیے 10 ستمبر کو مدعو کیا اور پھر مقررہ یوم یعنی 04 اکتوبر تک مسلسل، اَپ ڈیٹ اور"Engage" رکھا، موضوعِ سخن معمول کے موضوعات سے قدرے مختلف اور کانفرنس کا ڈسپلن اور "Get Up" بھی عمدہ تھا ، جو کہ بالعموم ہماری یونیورسٹیوں میں ایسا نہیں ہوتا۔سامعین و حاضرین ہمہ تن گوش اور بڑے "Charged" تھے ، عام طور پر ایسی تقریبات رسمی کارروائی کی حد تک ہوتی ہیں،لیکن یہ اس سے ذرا بہتر تھی۔ مزید یہ کہ ہم نے’’رفاہِ عامہ‘‘ ایسے موضوعات مغر ب اور مغربی دانشگاہوںکے لیے رکھ چھوڑے ہیں ، جبکہ اسلام میں رفاہِ عامہ کی روایت اتنی ہی مضبوط اور مستحکم ہے،جتنا کہ از خود ہمارے دین ، ہماری اسلامی تاریخ اور سیرت ِ طیبہ ﷺ ۔ دنیا کو ’’رفاہِ عامہ‘‘ کے تصور سے اسلام نے آگاہ کیا ۔ دنیا کی اوّلین ویلفیئر اسٹیٹ نبی اکرمﷺ نے مدینہ منورہ میں قائم فرمائی ، جہاں ہر شہری کی کفالت ریاست کے ذمہ تھی، جبکہ اسلام کے اس عطا کردہ تصوّر سے مغرب نے بہت بعد میں خوشہ چینی کی، وہ اس ا صطلاح سے پہلی بار 1909ء میں متعارف ہوئے ۔ نبی اکرمﷺکی دنیا میں تشریف آوری سے قبل غریب اور نادار طبقے کا کوئی پُر سانِ حال نہ تھا ، آپ ﷺ نے سوسائٹی کے پسماندہ طبقات کی چارہ گری کی اور معاشرے کو ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور غمگساری کا درس دیا۔اسلامی معاشرہ ایک کوآپریٹو سوسائٹی کی طرح ہے ،جو ایک دوسرے کی مالی ہی نہیں،اخلاقی مدد کے لیے بھی ہمہ وقت مستعد اور کوشاں رہتا ہے ۔عامۃ الناس کی فلاح ، خوشی، خوشحالی،آرام اور آسائش کیلئے جو بھی خدمت بجالائی جائے، وہ ’’رفاہِ عامہ‘‘ ہے ۔ رفاہ میں کسی کام کے باقاعدہ اور آزادی سے ہونے کیساتھ ساتھ ، طلبِ منفعت اور دفعِ ضرر کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے ۔ مطلب یہ کہ انسانی سوسائٹی میں ـ" رفاہِ عامہ" کے کام مسلسل ہوتے رہنے چاہیئں،جس کا مقصد عام آدمی کو فائدہ پہنچانا اور نقصان سے محفوظ رکھنا ہے ۔ مزید یہ کہ معاشرے میں فکر ی آزادی کا شعور بیدار کرنا بھی رفاہِ عامہ کا ایک اہم پہلو ہے،ویسے لغوی طور پہ" رفاہ" فارسی کا لفظ ہے،جس کا معنٰی ہے زند گا نی فراخ و بہ عیش زیستن:یعنی خوشحال زندگی و فراخی و آسانی ۔ چُنے رفاہ کے گُل، حُسنِ انتخاب کے ساتھ شباب قوم کا چمکے،تیرے شباب کے ساتھ ہمارے ہاں بالعموم رفاہِ عامہ کی بجائے فلاح ِ عامہ کی اصطلاح زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔ جو کہ ایک قرآنی ترکیب ہے ، جیسا کہ سورہ البقرہ کی ابتدأ ہی میں اٰ یت نمبر5: "اُولٰئِک عَلٰی ھُدً ی مِّن رّبِّھم وَ اُولٰئِکَ ھُمُ المُفْلِحون" گویا فلاح رفاہ سے زیادہ اثر آفریں، وسعت پذیر اور پُر از معنی ہے ۔ بہر حال---مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں ان موضوعات کا خوب احاطہ کیا ہے : یہ پہلا سبق ہے کتابِ ہُدیٰ کا کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا خلائق سے جس کا رشتہ وِلا کا وہی دوست خالقِ دوسرا کا یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں کہ کام آئیں دنیا میں انساں کے انساں زمانہ قبل از اسلام میں عرب کی سوسائٹی میں غریب و نادار لوگ معاشرے کا دھتکارا ہوا، پسا اور مظلوم ترین طبقہ تھا ۔ مکے کی ایلیٹ اور اشرافیہ اگربفر ضِ محال کسی موقع اسلام کی طرف مائل بھی ہوتے ، تو اس امر کو عار سمجھتے کہ اسلام کے دامن میں تو معاشرے کا پسا ہوا اور در ماندہ طبقہ ہے ، ان کو اپنا ہمسرماننے اور ان کو اپنے برابر بٹھانے کاکیسے سوچ سکتے ہیں ۔ اسلام نے شرفِ آدمیت اور تکریم انسانیت کا تاج کسی خاص قوم یاقبیلے کو عطا نہیں کیا،بلکہ انسان کو بطور انسان یہ عزت ، عظمت اور فضلیت بخشی ہے۔ اس انقلاب آفریں دین نے تو بندہ و آقا کی تمیز کو حرام قرار دے کر، انسان کو بطور انسان سر بلند کیا ہے : "وَلَقَدْ کر منا بنی آدَمَ"اور اس کے تاریخ ساز مناظر انسانیت کی آنکھوں میں موجود اور حافظے میں قیامت تک محفوظ رہیں گے کہ جب اسلامی تاریخ کی اہم ترین کامیابی کے مرحلے میں نبی اکرمﷺ عظمت ، سطوت اور فتح مندی سے آراستہ مکہ میں داخل ہو رہے تھے تو اس وقت آپﷺ کی سواری پر آپﷺ کے ساتھ ایک غلام زید کا بیٹا اُسامہ سوار تھا ، اور جب اس عظیم فتح کی انائونسمنٹ و اعلان فضائوں میں بلند کرنے کا موقع آیا، تو ایک غلام بلا ل حبشی ؓ کو کعبہ کی چھت پر چڑھا کر کالے و گورے اور ادنی و اعلیٰ کی تفریق ختم کردی اور اس اہم ترین موقع پراللہ کی واحدانیت ، نبی کی رسالت اور اسلام کی صداقت کے علم کو سر بلند کرنے کا انہیں اعزاز بخشا ۔ طبقاتی تقسیم میں گوندھے ہوئے اُس معاشرے کے وڈیرے سراوپرنہ اُٹھا سکے اور محمد ﷺ نے جو کہااُس کے ربّ نے اس کو سچ کردیکھایا ۔ یہ وہ بلالؓ ہے ، جس کو خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ، نہایت مہنگے داموں حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے اُمیہ بن خلف سے خریدا تھا ۔ ان کو جبر، ظلم اور بربریت سے چھٹکارا دلواکر آزاد کیا تھا ۔ یہ ہے رفاہِ عامہ اور فلاح ِ دارین ۔ عرب میں " احتفاد" کی ایک رسم تھی ، جس میں مفلس و کنگال آدمی یا قبیلہ اپنی بھوک و افلا س اور لاچاری کے سبب ، سوسائٹی سے الگ ہوکر خود کو زندہ درگور کر کے موت کی آغوش میں چلا جاتا ، آنجناب ؐکے پر دادا حضر ت ہاشم ؓ نے اس رسمِ بد کا خاتمہ کیا ۔آپؓ نے اس امر کا اہتمام کیا کہ آپؓ کے دستر خوان ہمہ وقت بچھے اور لنگر خانے رواں رہتے اور آپؓ کو ہاشم کہنے کا سبب ہی یہ تھا کہ تنگی اور آسودگی --- ہرحال میں آپؓ کا دستر خوان بچھارہتا اور آپؓ ثرید بنا کر لوگوں کو کھانا کھلاتے ، جو کبھی ختم نہ ہوتا ۔ آپﷺ کے داد ا حضرت عبد المطلب ؓ کے ابرہہ سے تعارف کے وقت بھی آپؓ کی اسی شخصی خوبی اور خاندانی وصف کو بیان کیا گیا تھا کہ ان کے دستر خوان ہمہ وقت کھانوں سے آراستہ رہتے ہیں اور انسان تو انسان پہاڑوں کی چوٹیوں پر بسیرا کرنے والے درندے بھی ان کے دستر خوان سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں ۔ آپﷺ نے اپنی خاندانی روایات کو تابندہ رکھا ۔ ظہورِ اسلام سے قبل جب غارِ حرا میںخلوت گزیں ہوتے اور بالخصوص رمضان المبارک کی تکمیل پر ، اس کے دامن میں کھانوں کا اہتمام کر کے ، کعبہ کی زیارت کرتے ہوئے گھر لوٹتے۔ نزول و حی کے موقع پر آپﷺ کی زوجہ محترمہ اُمّ المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ کے یہ الفاظ سیرت کی کتب میں ہمیشہ نمایا ں اور معتبر مقام پاتے رہیں گے ۔" خدا کی قسم اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو بے آبرو نہیں کرے گا ۔ آپ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہیں ، کمزوروں اور ناتوانوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔ جو مفلس نادارہو اس کو اپنی نیک کمائی سے حصہ دیتے ہیں ، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ، حق کی وجہ سے کسی پر کوئی مصیبت آجائے تو آپ اس کی مدد کرتے ہیں اور دستگیری فرماتے ہیں ۔ جس شخص میں یہ خوبیاں ہوں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ ایسے شخص کو بے آبرو نہیں کرتا بلکہ اس کی عزت و آبرو کا خود نگہبان ہوتا ہے ۔"

بشکریہ روزنامہ آج