کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان بننے والی برف پگھل پائے گی؟ حال ہی میں کچھ تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں، اگرچہ برف کے گلیشیر پگھلنے میں نصف صدی سے زائد عرصہ بیت گیا، نہ جانے نصف صدی مزید لگتی ہے یا کوئی چمتکار کہ معجزہ ہو جائے اور بات میز پر آئے، کوئی ثالث ہو جو طاقتور ور بھی ہو، جلد اس خطے کے حالات بدل سکتے ہیں، طاقتور ملک انصاف کی بجائے تجارتی اور دفاعی مفادات کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں، کامیاب سفارت کاری کا یہی اصول ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو اس کے مفاد میں گھیر کر اپنی طرف لائے، ان ممالک کا انڈیا کی جھکاؤ ہے، جس کی تین بڑی وجوہات ہیں ، بڑی ابادی اور تجارتی مواقعوں کی فروانی، دوسرا چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے آگے بند باندھنا اور تیسری بڑی وجہ غیر مسلم اور بڑی جمہوریت ہونا بھی ایک اہم بات ہے، اس کے مقابلے میں پاکستان ایک مسلم ریاست ہے، ابادی اگرچہ اہم ذریعہ بن سکتی ھے مگر پاکستان کے چین سے دیرینہ تعلقات ہیں، بڑی قوتوں کو پاکستان کی وجہ سے افغانستان میں قدم جمانا مشکل ہے، تاکہ وہ چین پر نظر رکھ سکیں، اس کا متبادل وہ بھارت کی صورت میں تلاش کرتے ہیں، جہاں ایک تیر سے کئی شکار کیے جائیں، پاکستان اور بھارت اس سے پہلے تاشقند، شملہ، آگرہ، اور لاہور میں مذاکرات کر چکے ھیں، ایک اور چینل جیسے"بیک ڈور ڈپلومیسی اور ٹریک ٹو مذاکرات" کہا جاتا ہے وہ ہر مشکل اور آسان حالات میں چلتے رہتے ہیں، ایک زمانے میں نیاز اے نائیک، اس میں بڑی شہرت رکھتے تھے،باقی باہمی تنازعات اپنی جگہ ، مگر سب سے بڑا مسئلہ، کشمیر کا تنازعہ ھے جس پر بھارتی خواہش کے مطابق اکتوبر 1948 ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے رائے شماری کی قرارداد منظور کی تھی، اس طرح کی گیارہ قراردادیں منظور ھو چکیں ،مگر اقوام متحدہ کا دائرہ کار محدود اور کمزور ہوتا جارہا ہے اس کی وجہ امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کا اقوام متحدہ پر کنٹرول ہے، چھوٹے ممالک ہر مرتبہ اس کا شکوہ کرتے ہیں مگر دور دور تک حل ممکن نہیں، پاکستان کے پاس دوسرا بڑا فورم او آئی سی ھے، اس میں پاکستان کو کسی زمانے میں مرکزی حیثیت حاصل تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عرب ممالک اور مشرق وسطیٰ کے بدلتے حالات اور تنازعات نے او آئی سی کا شیرازہ بکھیر دیا، اب عملا او آئی سی پر سعودی عرب کا اثرو رسوخ ھے، وہاں بھی امریکہ کی مرضی شامل ہو چکی، وگرنہ او آئی سی کشمیر کے محکوم عوام کی آواز بن سکتی تھی، چونکہ بھارت کے عرب ممالک سے تعلقات اور معاشی رشتے انتہائی اہم ہیں، اور بنیا ، تجارت کی زبان جلد سمجھ جاتا ہے، اس لئے عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کشمیر کے مسئلے کے حل میں کردار ادا کر سکتا ہے اقوام متحدہ اور اس کے ملحقہ ادارے اور یورپی یونین نے بھی کئی قراردادیں منظور کیں مگر بھارت کی ھٹ دھرمی یا انکار کو کوئی اقرار میں نہیں بدل سکا، مودی نے اپنی دوسری ٹرم کے انتخابات کشمیر، ھندواتا اور ہندو، مسلم تعصب کو ہوا دے کر جیتے اور اپنے خفیہ اور اعلانیہ ایجنڈے کے تحت کشمیر پر سب سے بڑا حملہ کیا، آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر کے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، جس سے بے چینی اور بڑھ گئی ہے۔ مذاکرات کے دروازے بند اور جنگی کیفیت پیدا ہو گئی،
ستمبر 2016ء میں پٹھان کوٹ،اور اوڑی کے علاقے میں بھارت کی 21 انفنٹری بریگیڈ کے صدر دفتر پر مبینہ حملہ ہوا جس میں 18 اہلکار ہلاک اور 20 زخمی ہوئے، یہ خود ساختہ تھا کہ کشمیری نوجوان نے ایسا کیا، مگر بھارت نے ملبہ پاکستان پر ڈال کر مذاکرات اور رابطوں کو یک طرفہ ختم کر دیا، بھارت نے جواب میں سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کیا جو بعد ازاں انڈین میڈیا اور تھینک ٹینکس نے مسترد کر دیا، جبکہ پاکستان بھی مسلسل تردید کرتا رہا، 19 فروری، 2019ء میں جموں و کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں فوجی کانوائے پر حملہ ہوا،حسب روایت پھر الزام پاکستان پر لگا دیا گیا، اور جوابی کارروائی کے طور پر بالاکوٹ پاکستان میں حملہ کرکے 300 عسکریت پسندوں کے مارنے کا دعویٰ کیا، پاکستان نے اس کی تردید بھی کی، پلوامہ کے ثبوت بھی مانگے، لیکن الیکشن میں ماحول بنانا مودی کا مشن تھا، جو کامیاب رہا بالاکوٹ حملے کے بعد پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے پہلی دفعہ سخت پوزیشن لی اور جوابی دفاع کا اعلان کیا، اور کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے بعد سوچے گا نہیں بلکہ سخت جواب دے گا، ادھر پاکستانی فوج نے سرپرائز دینے کا اعلان کیا، بالاآخر 27 فروری کو دو بھارتی طیارے مار گرائے، اور ایک پائلٹ گرفتار کیا، جسے پھر امن کی خاطر واپس روانہ کیا گیا، بالاکوٹ کی حقیقت قومی اور بین الاقوامی صحافیوں نے ملاحظہ کی، سرجیکل اسٹرائیک کی حقیقت سے ارنب سوامی نے پردہ اٹھایا، اور کہا یہ فالس فلیگ آپریشن تھا، اس تناؤ کے بعد پہلی مرتبہ معید یوسف معاون خصوصی وزیراعظم عمران خان نے مذاکرات کا عندیہ دیا تھا، جبکہ بیک ڈور ڈپلومیسی
اور بیک ڈور رابطوں نے ایک کامیابی پاک ، بھارت ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان مذاکرات اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی ختم کرنے کی صورت میں ملی، جبکہ دوسری کامیابی انڈس واٹر کمشنر کی سطح پر مذاکرات سے سامنے آئی جس پر 23, 24 مارچ کے مذاکرات ہیں، پاکستان کی طرف سے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ، اور ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نمائیندگی کر رہے ہیں، یہ آبی مذاکرات کا 116 اجلاس ہے، جو دو سال کے تعطل کے بعد ھوا ھے، دوسری بڑی وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ،
مودی حکومت اس وقت شدید اندرونی دباؤ، کسان تحریک اور نئی امریکی انتظامیہ کے کشمیر پر موقف سے خوف زدہ ہے، ان مذاکرات اور حالات کو معمول پر لانے کی وجہ قرار دی جا سکتی ہے، ساتھ ہی بائڈن انتظامیہ نے بھارت کو افغانستان میں کردار ادا کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے، عملاً پاکستان کے بغیر بھارت افغانستان میں اپنے قدم نہیں جما سکتا، بھارتی سفارت کاروں، اور تاجروں پر افغانستان میں معصوم افغان بچیوں کی عصمت دری اور مقامی جھگڑوں میں کردار پر لوگوں کے شدید جذبات اور تحفظات ہیں، بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دھشت گردی کا بھی مرتکب ہوا ہے، خود امریکی اور یورپی اداروں نے بھارت کو ایسی دھشت گردی کرنے پر بے نقاب کیا ہے،
سوال یہ ہے کہ کیا مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکل سکتا ہے،؟ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوترس نے 2021ء کی پہلی پریس کانفرنس میں کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے، اور کہا کہ اقوام متحدہ اپنے چارٹر اور قراردادوں پر قائم ہے، بھارت نے اس کا کوئی قابلِ قبول جواب نہیں دیا، ماضی میں امریکی صدر ٹرمپ بھی ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں،
کچھ حلقے یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد قرار دے کر مسئلہ ھمیشہ کے حل ہو سکتا ہے، ایسی صورت میں کشمیری عوام کی ایک صدی کی قربانیاں، ان کی مرضی اور کشمیر ناگزیر، کا نظریہ کہاں جائے گا؟، اس حل کو کشمیری عوام قبول نہیں کریں گے، ایک فارمولا دونوں طرف کشمیریوں کو آزاد چھوڑنے مشرف دور میں پیش کیا گیا مشرف فارمولے پر بھی دونوں فریق متفق نہیں ھو سکے تھے تو کیاکشمیر پر حل کے بڑے اقدامات مذاکرات یا جنگ سے ھو کر گزرتے ہیں، اس کے جواب میں یہ حقیقت ہے کہ جنگ کی صورت میں فتح یا شکست کسی کی نہیں ہوگی، دونوں نیوکلیئر طاقتیں خطے کو انسانوں کے جینے کے قابل نہیں رہنے دیں گی، جبکہ مذاکرات سے برف بھی پگل سکتی ہے اور بات آگے بھی بڑھ سکتی ہے، جس کے لیے پاکستان تو تیار نظر آتا ہے، بھارت کو لچک دکھانا ہوگی، وزیراعظم عمران خان نے اسی انتہا درجے کے لیڈر مودی کو فیصلہ کن موڑ پر لانے کی بات کی تھی، کیوں کہ ایسی نفسیات اور نظریات کے لوگ رسک لے لیتے ہیں، حالات اسی طرف جاتے نظر آ رہے ہیں، مذاکرات ہوئے تو دونوں ملکوں کے عوام خوشحال ھو سکتے ھیں اور تجارت بھی بڑھے گی، پاکستان دو بڑی منڈیوں کا مرکز بن جائے گا بھارت کو بھی بڑا فائدہ ھے، تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ یہ تنازعہ جتنا پرانا ہے اتنا ہی دیر پا نتائج پیدا کر سکتا ہے، حل وہی دیر پا ھوگا جو کشمیر کے عوام کو قابل قبول ہو گا۔
172