مخمصہ کا شکار جمہوریت پسند 163

مخمصہ کا شکار جمہوریت پسند

پاکستان کے سزا یافتہ وزرائے اعظم کی فہرست میں ایک اور نام کا اضافہ ہوگیا۔جناب عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں بدعنوانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 3سال قید کی سزا سنائی گئی اور اب وہ اٹک جیل میں قید ہیں۔ایک طرف ان کے سیاسی مخالفین مسرور ہیں، جشن طرب برپا کررکھا ہے تو دوسری طرف ان کے چاہنے والے دل گرفتہ ومغموم ہیں،ان کاکرب دیکھا نہیں جاتا۔اخلاقی کشمکش اور سیاسی صف بندی کے اس نازک دور میں جمہوریت اور سویلین بالادستی پر یقین رکھنے والے غیر جانبدار لوگ کدھر جائیں؟آپ بیشک ان پر ’’سلیکٹڈ‘‘کی پھبتی کسیں لیکن عمران خا ن پر سربراہ حکومت کی ناحق تہمت تو تھی ،انہوں نے کٹھ پتلی کا کرداراداکیا تو موجودہ وزیراعظم کیا ہیں؟لہٰذا یہ فرسودہ دلیل تو اپنے پاس رکھیں ۔طفلان انقلاب اپنے افتاد طبع کے پیش نظر یہ سوال بھی اُٹھا رہے ہیں کہ ان کے قائد عمران خان کا ٹرائل جس قدر عجلت کے ساتھ ہوا ،ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اگر تو ان کی تاریخ بہت محدود ہے اور اس کا آغاز 10 اپریل 2022ء سے ہوتا ہے تو الگ بات ہے ورنہ وطن عزیز میں سیاستدانوں کے خلاف مقدمات اسی طرح برق رفتاری سے چلائے جاتے رہیں ،یہ ہرگز خلاف معمول بات نہیں۔مثال کے طور پر وزیراعظم نوازشریف کو جولائی 2017ء میں نااہل قرار دیا گیا ، 8ستمبر کو قومی احتساب بیورو نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ان کے خلاف ریفرنس دائر کئے۔14ستمبرکو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے مقدمہ سننا شروع کیا اور6جولائی2018ء کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنادی ۔عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کے حوالے سے الزامات تو لگائے جارہے تھے مگر الیکشن کمیشن نے 21اگست 2022ء کو ان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے فوجداری کارروائی کا حکم دیا۔22 نومبر 2022ءکو اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں کارروائی کا آغاز ہو ا ، 5اگست2023ء کو سزا سنادی گئی یعنی نوازشریف کا احتساب 10ماہ میں مکمل ہوا تو عمران خان کو 9ماہ میں سزا سنادی گئی۔ایک واضح فرق بہر حال یہ رہا کہ تب سپریم کورٹ کی طرف نگراںبنچ تشکیل دیکر جلد ازجلد مقدمہ کی کارروائی مکمل کرنے کا اہتمام کیاجاتا رہا تو عمران خان کے لئے سب سے بڑی عدالت کی طرف سے سہولت کاری کی جاتی رہی۔اسی طرح جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیراعظم نوازشریف کے خلاف فیصلے آئے ،انہیں نااہل قرار دیا گیا تو ان کی حکومت تھی ،مگر عمران خان کو ایوان وزیراعظم سے رخصت ہوجانے کے بعد یہ دن دیکھنا پڑا۔ان کے پاس اب بھی ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن یوسف رضا گیلانی اور نوازشریف کو اس حق سے محروم کردیا گیا تھا۔لیکن سچ پوچھیں تو میرے نزدیک ان دونوں مقدمات میں وزرائے اعظم کو سزا دلوانے کا کریڈٹ جن کو جاتا ہے ان تک پہنچنے کے لئے ہماری تاریخ کا تھورا سا مطالعہ ہی کافی ہے۔اگر نوازشریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی ،تو عمران خان کے خلاف کی گئی کارروائی بھی مبنی برانصاف نہیں۔ممکن ہے یہ بات عمران خان کے سیاسی مخالفین کو ناگوار گزرے مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ دونوں وزرائے اعظم کو احتساب کی کند تلوار سے ذبح کیا گیا۔اس ملک میں ہمیشہ سے منتخب عوامی نمائندوں کا ہی احتساب ہوتاآیا ہے ،کبھی طاقتور ترین شخصیات سے بازپرس نہیں کی گئی۔توشہ خانہ کی فرد جرم کو ہی دیکھ لیجئے ،برق گرتی ہے تو بیچارے سیاستدانوں پر۔بااثر اور طاقتور ترین شخصیات کو ملنے والے تحائف کا تو کبھی حساب کتاب ہی نہیں رکھا جاتا۔طفلان انقلاب کو یہ استدلال بہت اچھا لگ رہا ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو کیا انہوں نے اس طبقے کو جوابدہ بنانے کی کوشش کی؟وہ تو ان غیر جمہوری قوتوں کے آلہ کار بن کر جمہوریت پسندوں کی بیخ کنی کرتے رہے۔نوازشریف نے وزیراعظم بنتے ہی جنرل پرویز مشرف کے خلاف دستور پاکستان کے آرٹیکل 6کے تحت سنگین غداری کے مقدمہ کی کارروائی کاآغاز کیا تو اگست 2014ء میں جناب عمران خان نے اسلام آباد پر یلغار کردی۔تحریک انصاف کے اس دھرنے کے نتیجے میں منتخب سیاسی حکومت کمزورہوئی اور جنرل پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینا پڑی۔پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ جو خصوصی عدالت کے بنچ میں شامل تھے انہوں نے فوجی حکمراںجنرل پرویز مشرف کو شاہراہ دستور پر پھانسی دینے کا فیصلہ سنایا تو جناب عمران خان وزارت عظمیٰ کی کرسی پر متمکن تھے ،ان کی حکومت نے نہ صرف یہ دعویٰ کیا کہ جسٹس وقار سیٹھ کا ذہنی توازن درست نہیں بلکہ ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان بھی کیا۔عمران خان نے جمہوریت پسندوں کا گلہ گھونٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔توجمہوریت پسند اس مخمصے سے کیسے نکلیں؟کیا کریں ؟جن کو سزائیں سنائے جانے پر کپتان نے چور اور ڈاکو کہا تھا، ان کی طرف سے تو طعنہ زنی بنتی ہے مگرہم کدھر جائیں ؟غیر جانبداریت ثابت کرنے کے لئے عمران خان کو سزاسنائے جانے کے خلاف افسوس کا اظہار کریں ؟ سویلین بالادستی کا علم اُٹھا کرصدائے احتجاج بلند کریں ؟یا پھر نالے بلبل کے سنیں اورخاموش رہیں؟میرا خیال ہے ،جیل میں عمران خان کے پاس سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کے لئے بہت وقت ہوگا۔اگر انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوجائے ،وہ اپنے سابقہ اقدامات و بیانات پر پشیمانی اور افسوس کا اظہار کریں ،ان کی باتوں سے ندامت محسوس ہو،یہ لگے کہ صبح کا بھولا ،شام کو واپس لوٹ آیا ہے تو ان کے ساتھ روا رکھے جا رہے سلوک کی مذمت کی جائے ورنہ ’’سلیکٹر‘‘ اور ’’کپتان‘‘ کے درمیان جاری اس لڑائی کو خاموش تماشائی کی طرح دیکھتے رہنے پر اکتفا کیا جائے۔کیا خیال ہے؟

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز