فیض الرحمان - حکومتی دعوے اورعوامی توقعات حکومتی دعوے اورعوامی توقعات

 قومی اسمبلی نے بچوں سے زیادتی اور قتل کے مجرموں کیلئے سزائے موت کی قرارداد منظور کرلی بلکہ مجرم کو سرعام لٹکانے کی سفارش کی‘ یہ قرارداد کثرت رائے سے پاس ہوئی۔ قرارداد وفاقی کابینہ کے رکن علی محمد خان نے پیش کی۔ تاہم کابینہ میں شامل بعض وزراءنے اسکی مخالفت کی اوراسے انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی قرار دیا۔پی ٹی آئی کے اکثر ممبران نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ‘اگر یہ حکومتی پالیسی نہ ہوتی تو دوسرے ارکان اسمبلی بھی اسکی مخالفت کرتے اور قرارداد کو پاس نہ ہونے دیتے‘پارلیمان کی تاریخ میں ہمیشہ یہ دیکھا گیا ہے کہ کوئی بھی حکومتی یا مخالف جماعت کا رکن اگر کوئی قرارداد یا بل پیش کرتا ہے تو اسکی جماعت کے اراکین کی بھرپور حمایت حاصل ہوتی ہے ۔پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی اور کہا کہ پھانسی کے بعد مجرم کی لاش سرعام لٹکانے پر پوری دنیا سے مخالفت سامنے آئے گی تحریک انصاف کے علاوہ جے یو آئی ( ف )‘ ن لیگ اور ایم کیو ایم نے کھل کر قرار داد کی حمایت کی جس کی وجہ سے قرارداد کثرت رائے سے منظور ہوئی۔جرم کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے قرارداد میں شامل سزا مناسب لگتی ہے مگر جس طرح پیپلز پارٹی کے رکن اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے پوری دنیا کی طرف سے مخالفت کا اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ چونکہ پاکستان اقوام متحدہ کا رکن ہے اور اسکے چارٹر میں پھانسی کی سزا ختم کر دی گئی ہے‘یہی وجہ ہے کہ اس قراردادپر عملدرآمد نہیں ہو سکتا‘ یہ قرارداد یقیناعجلت میں حکومتی رکن نے پیش کی ہو گی اور اپنی پارٹی قیادت اور اراکین پارلیمنٹ سے مشورہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا ہوگا ورنہ اپنی پارٹی کے اراکین کابینہ اس شدت سے مخالفت نہ کرتے۔

حکمران جماعت کے بعض ارکان کی طرف سے اس قراردادکی مخالفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کے اندراتفاق کا فقدان ہے اور اراکین اسمبلی کے آپس میں رابطے نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر کابینہ کے اراکین نے ایک دوسرے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ تاہم اس مخالفت کی شدت اس قدر نہیں ہوتی تھی‘کسی بھی سیاسی جماعت اور خاص کر حکمران جماعت کو کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس پر بعد میںیوٹرن لینا پڑے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت اس قرارداد پر عمل درآمد کر سکتی ہے یا دوسرے ممالک کے دباو¿ میں آکر اسے واپس لےتی ہے ۔ بعض سنجیدہ حلقوں کو یقین واثق ہے کہ حکومت دوسرے آپشن کو ترجیح دے گی‘ سیاسی حلقوں اور عرف عام میں اسے یوٹرن کہا جاتا ہے‘ جو اب تک موجودہ حکومت کی طرف سے بارہا لےاگےا ہے‘فارسی میں ایک ضرب المثل ہے کہ ’ہر کہ دانا کند، کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار ‘ بظاہر تو حکومت اور خاص کر عمران خان یوٹرن کو اپنی کامیابیوں کا زینہ سمجھتے ہیں مگر عام ووٹر اور سیاسی شعور رکھنے والے لوگ اسے سیاسی پسپائی سے تعبیر کرتے ہیں اور یہی وہ عوامل ہیں جسے مخالفین انتخابات کے موقع پر نمایاں طور پر پیش کریں گے‘ اب یہ اپوزیشن کے پیش کرنے کے انداز پر منحصر ہے کہ وہ کتنے موثر طریقے سے عوام کے سامنے اس کورکھتی ہے۔ کسی بھی حکومت کی مقبولیت کا گراف گرنے لگتا ہے تو وہ ایسے اقدامات اٹھاتی ہے جس سے عوام کو تکلیف پہنچتی ہے۔

اپوزیشن میں آکر ایسے ناقابل عمل وعدے کئے جاتے ہیں جن کو پورا کرنا حکومت میں آنے کے بعد ان کے بس کی بات نہیں ہوتی‘پھر عوام اور اپوزیشن سیاسی جماعتیں ان کی یاددہانی انتخابی مہم کے دوران کرتی رہتی ہیں‘ عوام چونکہ مہنگائی یا بدامنی کے ڈسے ہوئے ہوتے ہیں اسلئے حکومتی پارٹی کے بجائے اپوزیشن سے توقعات وابستہ کر لیتے ہیں‘پسماندہ ممالک کے عوام چونکہ تعلیمی لحاظ سے پیچھے ہوتے ہیں اسلئے ان کو ہر دفعہ نئے نعروں سے مرغوب کیا جاتا ہے‘ اپنے ملک کی مثال لیجیے‘ ایوب خان کے مارشل لاءسے قبل سیاسی بے چینی بہت بڑھ گئی تھی اور نوبت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ اسمبلی کے اندر ممبران ایک دوسرے کو کرسیاں مارتے رہتے تھے‘اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 1958 میں مارشل لاءاس وعدے کےساتھ لگایا گیا کہ عوام کو موجودہ ہنگاموں سے نجات دلائی جائے گی اور امن کی فضاءبحال کی جائے گی اور حقیقی نمائندے چن کر عوام کے مسائل حل کیے جائیں گے‘ عوامی توقعات پوری کرنے کےلئے1956 کے آئین کو ختم کر کے نئے آئین کا وعدہ کیا گیا ۔ 1962 کے آئین میں پارلیمانی نظام کی بساط لپیٹ کر صدارتی نظام رائج کیا گیا اور بنیادی جمہوریتوں کو متعارف کرایا گیا مگر کچھ ہی عرصہ بعد یہ نظام بھی فیل ہو گیا۔ اس طرح روٹی‘ کپڑا اور مکان کے نام پر عوام سے ووٹ لیا گیا جو توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

 اسلام کے نام پر دوسرے عوامل حکومت میں آگئے مگر ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ پی ٹی آئی نے کرپشن ختم کرنے کےلئے ’تبدیلی اور نیا پاکستان ‘ کا نعرہ لگا کر عوام سے ووٹ لئے اور حکومت بنالی مگر ڈیڑھ سال سے زائدعرصہ گزرنے کے باوجود کرپشن کےخلاف کوئی نمایاں پیشرفت نہ ہو سکی‘جس وزیر مملکت نے بچوں پر تشدد اور قتل کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد پیش کی اسی لمحے انہوں نے خوشخبری بھی سنائی کہ ملک میں جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے مگر اس کےساتھ ہی چونکا دینے والی بات بھی ایوان میں کر ڈالی کہ سائبر کرائمزمیں اضافہ ہوا ہے‘ یعنی ایک طرف جرائم کی کمی کی بات کی تو دوسری طرف جرائم مےں اضافے کی بات کرکے حساب برابر کر دیا۔عوام کو تو جرائم سے چھٹکارا حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے چاہے ایک شکل کے ہوں یا دوسرے‘ جرم تو جرم ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیر موصوف جرائم کے خاتمے کی نوید سناتے ۔

 

بشکریہ روزنامہ آج