غیرت کے نام پر قتل دراصل قتلِ عمد ہے‘ یہ اخلاقیات کے پردے میں چھپا ہوا قتل ہے‘ خاندان، قبیلے یا برادری کی نام نہاد عزت کے نام پر کسی انسان کی جان لینا صریح جرم ہے۔ اگرچہ اس رجحان کو عموماً جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے جوڑا جاتا ہے، لیکن یہ نہ تو جغرافیائی طور پر محدود ہے اور نہ ہی تاریخی طور پر‘یو این ایف پی اے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً پانچ ہزار خواتین غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہیں جبکہ بعض دیگر اندازوں کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔تاریخی طور پر غیرت کے نام پر قتل قدیم روم اور حمورابی جیسے قوانین میں بھی موجود تھا‘ قرونِ وسطی کے یورپ میں بھی مبینہ الزام پر خواتین کے قتل کو سماجی جواز دیا جاتا تھا‘حقیقت یہ ہے کہ غیرت کے نام پر قتل ایک صنفی جرم ہے‘ اس کی جڑیں نسبِ پدری کے تصور اور عورت کی جنسی خودمختاری پر کنٹرول کی سوچ میں پیوست ہیں‘ عزت کو سماجی سرمایہ سمجھا جاتا ہے جو عورت کے مبینہ طرزِ عمل سے ضائع ہو سکتا ہے۔ اس سوچ میں عورت خاندان کی ملکیت بن جاتی ہے اور مرد کی غیرت اس بات سے مشروط کر دی جاتی ہے کہ وہ اپنی خواتین رشتہ داروں پر کس حد تک کنٹرول رکھتا ہے۔اکثر ایسے جرائم کو مذہب کا لبادہ پہنایا جاتا ہے، حالانکہ مذہبی تعلیمات اس کی تائید نہیں کرتیں‘دفعہ 302کے تحت غیرت کے نام پر قتل کی سزا‘موت یا عمر قید ہے‘اگر مقتول کے ورثاء قصاص معاف بھی کر دیں تو عدالت پر لازم ہے کہ بطورِ تعزیر کم از کم عمر قید کی سزا سنائے۔فساد فی الارض کو شامل کر کے عدالت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ ایسے جرائم میں مفاہمت کے باوجود سخت سزا دی جائے۔یوں عملاً یہ جرم ناقابلِ معافی بن چکا ہے، کیونکہ خاندانی معافی ملنے کے باوجود ملزم بری نہیں ہو سکتا۔ غیرت کے نام پر قتل نجی معاملہ نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کے خلاف جرم ہے۔غیرت کے نام پر قتل اور شدید و فوری اشتعال میں فرق‘عدالتی نظائر میں یہ فرق واضح کیا گیا ہے کہ شدید و فوری اشتعال ایک محدود قانونی استثنا ہے، جبکہ غیرت کے نام پر قتل عموماً سوچے سمجھے ارادے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل عمد ہے اور غیرت کوئی قانونی دفاع نہیں‘اسی طرح ایک اور کیس میں عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ شدید و فوری اشتعال اسی صورت میں قابلِ قبول ہو سکتا ہے جب ردعمل فوری اور غیر متوقع ہو‘ اسے ثقافتی جواز بنا کر استعمال نہیں کیا جا سکتا‘مزید برآں Peshawar High Courtنے ایک کیس میں قرار دیا ہے کہ اگر قتل منصوبہ بندی یا نام نہاد غیرت کے تحت کیا گیا ہو تو اسے اشتعال کا مقدمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔یوں عدالتوں نے واضح کر دیا ہے کہ اشتعال وقتی انسانی کمزوری ہو سکتی ہے، مگر غیرت کے نام پر قتل ایک سماجی اور پدرشاہی سوچ کا نتیجہ ہے‘خیبر پختونخوا میں 2014میں غیرت کے نام پر قتل کے 64 مقدمات رپورٹ ہوئے‘جو 2024میں بڑھ کر159ہو گئے، جبکہ 2025کے اکتوبر تک یہ تعداد 161تک پہنچ چکی تھی متاثرین کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے‘یہ رجحان شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں موجود ہے اگرچہ پولیس کی جانب سے مقدمات کے اندراج میں بہتری آئی ہے، مگر سزا کی شرح اب بھی کم ہے۔ مقدمات طول پکڑتے ہیں، گواہ منحرف ہو جاتے ہیں اور سماجی دبا ؤبرقرار رہتا ہے۔
غیرت کے نام پر قتل:قابل مواخذہ