مہمان کالم - دکھ درد  پنجاب دا دور ہے جی دکھ درد  پنجاب دا دور ہے جی

 

 

اللہ پاک نے قرآن کریم میں ’’ سیرو فی الارض‘‘  یعنی زمین میں سیاحت کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اس کی قدرت کے نظاروں اور زمین کے عجائبات کی سیر کرنا بھی عبادت ہے. راقم السطور کو چند ممالک کی سیاحت اور ملک عزیز،  جس کا شمار دنیا کے خوبصورت ممالک میں ہوتا ہے ، میں بھی گھومنے پھرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اللہ پاک کی قدرت کے ایمان افروز مناظر اور عجائبات کا مشاہدہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب کبھی جسمانی طور پر سیر کی سہولت موجود نہ ہو تو ایک ذریعہ انٹرنیٹ بھی ہے جس سے فرد کسی حد تک سیاحت کے مقاصد حاصل کر سکتا ہے. چند سال قبل حضور بابا صاحب حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے سالانہ عرس پاک کے موقع پر ادارہ معین الاسلام میں منعقدہ ایک سیمینار میں گفتگو کی تیاری کے لیے لیپ ٹاپ پر براؤزنگ کرتے کرتے ہندوستان کے ایک ضلعی مرکز فرید کوٹ پہنچ گیا۔یہ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ وہاں کی بڑی شاہراہیں اور چوک  بابا صاحب کے نام مبارک پر ہیں۔ تقریباً ہر بڑی  نجی و سرکاری جامعہ اور  تعلیمی ادارے کا نام بھی بابا صاحب کے نام پر ہے۔مزید براؤزنگ کی تو ایک بڑی عمارت دیکھنے کو ملی جس کا نام چلہ گاہ بابا فرید ہے ،جہاں ہرمذہب کے ا فراد  بڑی عقیدت اور محبت سے حاضری دینے ہیں، ہر جمعرات کو کھانا یعنی لنگر تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اس بابرکت عمارت میں بابا صاحب کے دور کا ایک  لکڑی کا ٹکڑا بھی محفوظ ہے جس سے لوگ فیض یاب ہوتے ہیں۔ شہر کے نواح میں ہر سال بابا صاحب کی یاد میں ایک میلہ بھی لگتا ہے جس میں لاکھوں افراد شامل ہوتے ہیں. ۔یوں سجھیں کہ ہر طرف’’ فرید، فرید‘‘  ہو رہی ہے۔فرید کوٹ کے باسیوں کی بابا صاحب سے ایسی عقیدت   سبحان اللہ ۔یہ سلسلہ آج کے دور میں شروع نہیں بلکہ آٹھ صدیوں سے جاری ہے۔چند تعلیمی اداروں کے پراسپیکٹس  اور  بہت سی تاریخی دستاویزات  کا  مطعالعہ کیا تو ایک واقعہ  تسلسل اور با وثوق ذرائع سے پڑھنے کو ملا۔ یہ  ایمان افراز واقعہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔آٹھ صدیا ں قبل فرید کوٹ  ایک ریاست تھی جس کا نام ’’موکھل ہار‘‘  تھا ۔اس ریاست کے راجہ کا نام ’’  راجہ موکلاسی‘‘  تھا۔ہوا یوں کہ راجہ ایک قلعہ کی تعمیر کروا رہا تھا۔تعمیر کے لیے لوگوں سے بیگار لی جاتی تھی جس کو بانڈڈ لیبر بھی کہا جاتا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک بار  ہمارے پیارے بابا صاحب حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ چند درویشوں کے ساتھ ریاست موکھل ہار میں سے گزر رہے تھے ۔جب آپ زیر تعمیر قلعہ کے پاس پہنچے تو راجہ موکلاسی کی سپاہ نے آپ اور آپ کے ساتھیوں کو بیگار پر لگا لیا۔بابا صاحب نے کسی قسم کی مزاحمت نہ کی اور قلعہ کی تعمیر میں عام مزدوروں کی طرح مزدوری شروع کر دی۔مورخین نے لکھا کہ ایک دن راجہ تعمیرات کے معائنہ پر آیا تو اس نے ایک غیر معمولی صورت حال کا مشاہدہ کیا۔اس نے دیکھا کہ جب بابا صاحب مٹی کا برتن اٹھاتے ہیں   تو وہ برتن  آپ  کے سر پر نہیں  بلکہ ہوا میں معلق رہتے ہوئے ساتھ ساتھ چل رہا ہوتا ہے۔ اس کے بعد چشم فلک نے بھی ایک نظارہ کیاکہ راجہ دوڑ کر بابا صاحب کے قدموں میں گرا  اور معافی کا طلب گار ہوا۔ بابا صاحب نے صوفیاء کرام کے معمول کے مطابق راجہ کو معاف کیا اور گلے سے لگالیا۔ راجہ نے آپ کے قیام کے لیے ایک عالیشان عمارت کا انتخاب کیا  جہاں بابا صاحب نے چند روز قیام فرمایا ۔ یہ عمارت آج بھی موجود ہے اور اس کا نام  چلہ گاہ بابا فرید ہے۔بابا صاحب نے قلعہ کا نام’’قلعہ مبارک ‘‘ تجویزکیا۔اور یہ قلعہ اب بھی موجود ہے۔ پیارے پڑھنے والے یہ کوئی داستان نہیں اور نہ ہی کوئی حکایت ہے۔یہ ایک تاریخی اور سچا واقعہ ہے. حقیقت ہے کہ صوفیائے کرام نے اپنی زندگیاں اللہ کی راہ میں وقف کردیں اور اللہ پاک نے ان کے تذکروں کو زندہ و جاوید کردیا۔ بابا صاحب کی یاد یں صرف برصغیر میں نہیں بلکہ یروشلم میں بھی ہیں جس کی تفصیل انشاء اللہ پھر سہی۔
بابا صاحب کا تعلق کابل کے ایک علمی خانوادہ سے تھا۔آپ کا خاندان ہجرت کر کے ملتان  کے علاقہ میں آیا۔ مرشد کریم سے اکتساب فیض کے بعد آپ اجودھن تشریف لائے۔ یہاں کے لوگ گنوار اور جاہل تھے۔علاقہ جنگل اور ویران تھا۔آپ کی تشریف آوری  کے بعد یہ  علاقہ پاک پتن ہو گیا۔ آپ کی تعلیمات اور تبلیغ سے متاثر ہوکرلاکھوں افراد نے اسلام قبول کیا۔سچ یہی ہے کہ  اس خطہ میں اسلام بابا صاحب کی کاوشوں سے پھیلا۔بقول پیر وارث شاہ رحمتہ اللہ علیہ
مودود  دا  لاڈلا پیر چشتی، شکر گنج  مسعود بھر پور ہے جی
خاندان وچ  چشت دے کاملیت، شہر فقر دا پتن مشہور ہے جی
بائیاں قطباں دے وچ اے پیر کامل، جیں دی عاجزی زہد منظور ہے جی 
شکر گنج نے آن مکاں کیتا ، دکھ درد پنجاب دا  دور  ہے جی 
بابا صاحب کی حیات، شخصیت اور تعلیمات کے تمام پہلوؤں کو ایک کالم میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ پنجابی زبان میں آپ کے اشعار حکمت و دانش کا بے پناہ خزانہ سمیٹے ہوئے ہیں ۔یہ اشعار شخصیت سازی ، کردار سازی، تعلیم و تربیت کے لیے اکسیر ہیں۔یہ اشعار سکھ مذہب کی مقدس کتابوں میں بھی محفو ظ ہوچکے ہیں۔چونکہ قدیم پنجابی زبان میں لکھے گئے اس لیے دور حاضر کے افراد کے لیے ان کے مطالب کو سمجھنا آسان نہیں۔اللہ پاک جناب ڈاکٹر ظہور احمد اظہر کے درجات کو بلند فرمائے جنہوں نے بابا صاحب کے کلام کا اردو ، فارسی، عربی اور انگریزی زبان میں ترجمہ کر کے اور معارف فریدیہ کے نام سے شائع کر کے ایک احسان عظیم کیا۔ بابا صاحب کا ایک شعر ترجمہ کے ساتھ ہدیہ قارئین ہے 
تنہاں مکھ ڈراؤنے ، جنھاں وساریا  ناؤں
ایتھے دکھ گھنیرے آ ، اگے ٹھور نہ ٹھاؤں 
جو اللہ پاک کا ذکر بھول جاتے ہیں ان کے چہرے بھی ڈراؤنے بن جاتے ہیں۔اس دنیا میں بھی انہیں بہت دکھ اٹھانے پڑتے ہیں  اور آگے آخرت میں بھی انہیں کوئی جگہ  یا پناہ نہیں ملتی۔
 

بشکریہ روزنامہ آج