مہمان کالم - آڈیو، ویڈیو لیکس، الزامات اور افواہوں کا دور!!!!! آڈیو، ویڈیو لیکس، الزامات اور افواہوں کا دور!!!!!

ہر روز کچھ نیا لیک ہوتا ہے ویسے جو لیک ہوتا ہے وہ ریکارڈ تو بہت پہلے ہو چکا ہوتا ہے لیکن وقت آنے پر سامنے آ جاتا ہے۔ ان دنوں سب سے بڑا مسئلہ اہم شخصیات کی اس خفیہ بات چیت کا ہے جو وقتا فوقتا گاہے بگاہے عام آدمی تک پہنچ کر طوفان برپا ضرور کرتی ہے۔ بند کمروں میں ہونے والی یہ گفتگو ایک وقت میں بھلے دو لوگوں کے درمیان ہی ہوتی ہے لیکن جب یہ عام آدمی تک پہنچتی ہے تو حیرت کے پہاڑ ضرور ٹوٹتے ہیں۔ ان دنوں بھی یہی کھیل جاری ہے۔ ایک تماشا لگا ہوا ہے تماشے دیکھنے والوں کی تعداد ہے کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ کوئی رکنے کو تیار نہیں اور کوئی روکنے والا بھی نہیں ہے۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ سب کو اپنے مفادات عزیز ہیں اور مفادات کے حصول میں کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو رہا ہو کسی کو پرواہ نہیں۔ ان دنوں بھی آڈیو لیکس کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ جس کی آڈیو کہیں سے بھی جاری ہو جاتی ہے اسے آئین اور قانون یاد آتا ہے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آئین اور قانون کو یاد کرنے والے قوم کو یہ کب بتائیں گے کہ بند کمروں میں بیٹھ کر سب سے چھپ چھپ کر کیا آئین، قانون اور ملک کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی کی فون کال یا گفتگو ریکارڈ کرنا غیر آئینی ہے تو کسی اہم عہدے پر بیٹھے ہوئے ملک و قوم کے مفادات کے خلاف کام کرنا آئینی کیسے ہو سکتا ہے۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا گفتگو پاکستان کے مفاد میں ہے، سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا گفتگو پاکستان کی ترقی کے لیے ہے، سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا گفتگو پاکستان کے دشمنوں کے بیانیے کی حمایت تو نہیں کرتی، سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا گفتگو کا مرکز و محور ملک و قوم کی خدمت تھی یا ذاتی مفادات اور دشمنوں کو ٹھکانے لگانے کا پلان تھا۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ گفتگو کا محور فلاحی منصوبے تھا یا اپنے کاروبار کہ ڈیل لیکن بدقسمتی سے سب یہ بات کرتے ہیں کہ گفتگو ٹیپ کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ جن جن شخصیات کی آڈیوز یا ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں وہ قوم کو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ حقیقت کیا ہے، کیوں عہدوں کا ناجائز استعمال ہوتا رہا ہے، کیوں اہم عہدوں پر بیٹھ کر ملک و قوم کی فلاح کے بجائے ذاتی کاموں پر توجہ دی گئی، کیوں اہم عہدوں پر بیٹھ مخالفین کو دبانے کے لیے آئین و قانون اور حلف کی خلاف ورزی کی گئی۔ درحقیقت یہ خفیہ ریکارڈنگز تو ہماری نام نہاد قیادت کا اصل چہرہ ہیں۔ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اہم عہدوں پر رہتے ہوئے کیا گل کھلائے ہیں لیکن اگر کوئی خفیہ چیز منظر عام پر آتی ہے تو سب آئین کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گذشتہ روز بھی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور خواجہ طارق رحیم کی ایک آڈیو زیر بحث ہے۔

مبینہ آڈیو لیک میں ثاقب نثار نے کہا کہ خواجہ ایک بات کہنا چاہتا ہوں اس پر خواجہ طارق نے ہاں میں جواب دیا۔ ایک ججمنٹ ضرور دیکھ لینا، سات ممبر ججمنٹ ہے، اس پر خواجہ طارق نے سوال کیا کہ کتنی جی؟ سابق چیف جسٹس نے کہا کہ جی یہ سوموٹو ہے۔ نمبر 4 آف 2010، سر یہ 7 ممبر ججمنٹ 2012 سپریم کورٹ پیج نمبر 553 پر رپورٹڈ ہے۔ خواجہ طارق نے کہا اچھا جی، میں دیکھ لوں گا، اس پر ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کا جو بھی وکیل ہے اسے کہیں ذرا یہ دیکھ لے، اس میں ہے کہ بھئی اگر۔۔۔۔چلو خیر جب آپ وہ پڑھو گے تو خود پتا لگ جائے گا۔

اس پر خواجہ طارق نے کہا کہ میں پڑھ لوں گا، میں نے وہ 7 ممبر بینچ والی ججمنٹ بھی دیکھ لی ہے، اس میں انہوں نے کہا ہے کہ جب تک ایکٹ نہیں بنتا، اسے اگر آپ غور سے پڑھیں تو کلاز تھری میں ہے۔

ثاقب نثار نے جواب دیا کہ جی جی، خواجہ طارق نے اس پر کہا کہ اس میں انہوں نے رستہ بھی دیا ہوا ہے، وہ دیکھ لینا ذرا۔ سابق چیف جسٹس نے کہا کہ جی سر میں نے دیکھا ہے، وہی تو ہمارے پاس وے آو¿ٹ ہے، اس پر خواجہ طارق نے کہا کہ وہ وے آو¿ٹ ہے۔ ثاقب نثار نے کہا کہ وہی تو وے آو¿ٹ ہے ورنا تو کیس ہی نہیں بنتا، اس پر خواجہ طارق نے کہا کہ ہاں جی بالکل ٹھیک ہے میں یہ بھی دیکھ لوں گا۔ سابق چیف جسٹس نے کہا کہ اور دوسرا خواجہ صاحب اگر آپ کا کوئی بندہ تیار ہو، تو منیر احمد خان والا بھی استعمال کر لو، توہین عدالت کا بالکل کلیئر کیس ہے۔اس پر خواجہ طارق نے جواب دیا کہ وہ بھی ہو رہا ہے۔ ثاقب نثار نے کہا کہ کل جو کچھ ہوا آزاد جموں و کشمیر میں اس کے بعد تو کوئی۔۔۔۔ خواجہ طارق نے کہا کہ ہم صرف 3 ممبر بینچ کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں، اس میں مزید گھنٹہ آدھا گھنٹہ لگ سکتا ہے، اس کے بعد ہم توہین عدالت کیس فائل کر رہے ہیں۔ خواجہ طارق کے جواب میں ثاقب نثار نے کہا کہ چلو ٹھیک ہے، شکریہ سر شکریہ۔

اس سے پہلے بھی بہت سی آڈیو لیکس سامنے آ چکی ہیں اور بہت سی آڈیوز تو ایسی ہیں جنہیں قومی اخبارات اور ٹیلیویژن چینلز رپورٹ بھی نہیں کر سکتے۔ یہی ہماری بدقسمتی ہے یا بدبختی ہے اسے کم عقلی بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ہم جان بوجھ کر زہر کھا رہے ہیں۔ یہ گفتگو تو یقینا مقدمات کے حوالے سے ہے۔ جب ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو افواہیں جنم لیتی ہیں اور پھر الزامات کا طوفان آتا ہے۔ یہی سب کچھ ان دنوں پاکستان میں ہو رہا ہے۔ افواہوں اور الزامات کی بوچھاڑ میں ہمارے اپنے لوگ جانے انجانے میں اپنے ہی گلستاں کو اجاڑنے میں لگے ہیں۔ اپنے ہی اداروں کو برا بھلا کہہ کر متنازع بنا رہے ہیں۔ ادارے کمزور ہوں گے تو سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کے دشمنوں نے اٹھانا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم خود اپنے دشمنوں کو حملوں کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نے اپنی ہر ناکامی کو سابق آرمی چیف کے کھاتے میں ڈال دیا ہے اور مسلسل لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک سبق ہیں۔ جب تک سیاسی جماعتیں اپنا قبلہ درست نہیں کریں گی اس وقت تک حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ سیاسی جماعتوں کو ناصرف اندرونی طور پر جمہوریت قائم کرنا ہو گی بلکہ اپنی پالیسیوں میں ذاتی مفادات اور عارضی سیاسی فوائد کے بجائے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کو اہمیت دینے کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ سیاسی جماعتیں ہر دور میں مصلحت پسندی سے کام لیتی رہی ہیں۔ آج سرکاری ادارے اگر خسارے میں ہیں تو یہ جمہوریت کا تحفہ ہے لیکن جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں کو اس سے فرق نہیں پڑتا ان کے ذاتی کاروبار فائدے میں رہے اور سرکاری ادارے مسلسل خسارے میں جاتے رہے۔ یہ طریقہ کار اور انداز بدلے بغیر پائیدار ترقی کے خواب کو تعبیر نہیں مل سکتی۔ الزامات، افواہوں اور آڈیو لیکس سے آگے جہاں اور بھی ہیں کاش ہم ان سطحی چیزوں سے باہر نکل کر کچھ تعمیری بھی سوچ لیں۔

 

بشکریہ روزنامہ آج