ایک ہاتھ سے دیکر دو ہاتھوں سے لینا 317

ایک ہاتھ سے دیکر دو ہاتھوں سے لینا

اگرچہ ترکیہ صدر ایردوان کے دور میں مختلف شعبوں میں بڑی تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دنیا کے 20 ترقی یافتہ ممالک کی فہرست جی-20 میں شامل ہوچکا ہے لیکن اس کے عوام کا معیارِ زندگی، ترقی یافتہ ممالک کے معیار زندگی سے کم ہے، خاص طور پر گزشتہ دو تین سال میں معیار زندگی میں مزید کمی آئی ہے تاہم صدر ایردوان نے صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملکی اقتصادیات اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانا شروع کردیے ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلے میں سب سے پہلے اصغری ( کم از کم ) اجرت میں غیر متوقع طور پر اضافہ کیا اس طرح انہوں نے Net یا خالص کم از کم اجرت کو 11ہزار 402لیرا تک بڑھا دیااور اس طرح،تنخواہوں میں 34فیصد جبکہ ایک سال کے اندر اندر اس میں 107فیصد اضافہ دیکھا گیا جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

اب صدر ایردوان نے سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں میں بھی ریکارڈ اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی کم ترین تنخواہ کو 22ہزار لیرا تک کردیا گیا ہے۔حکومت نےنئے نظام کو متعارف کرواتے ہوئے کم ترین تنخواہ میں 84 فیصد اضافہ کیا ہے تو اس رقم سے زیادہ تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میںبتدریج 17٫55 لیراکے لگ بھگ اضافہ کیا ہے، یعنی تنخواہ جتنی زیادہ ہوگی، اضافہ کی شرح اتنی ہی کم ہوگی۔ حکومت نے اس کے علاوہ بلادرجہ بندی تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں آٹھ ہزار لیرا مزید دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ یہ فرق مزید کم کیا جاسکےیعنی صدر ایردوان نے اس بار کم تنخواہ لینے والوں اور زیادہ تنخواہ لینے والوں کے درمیان فرق کو کم سے کم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

حکومت نے ایک ہاتھ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف دونوں ہاتھوں سے عوام سے ٹیکس لینے کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہےتاکہ ملک میں بڑھتے ہوئے اقتصادی بحران پر قابو پایا جاسکے۔بلومبرگ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ترکیہ میں لیرے کی قیمت میں مسلسل کمی آتی جا رہی ہے اور 24 سال بعد ترکیہ ایک بار پھر طویل مدت کی ترک لیرے کی گرواٹ کا شکارہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ حکومت ترک لیرے کی ساکھ بحال رکھنے کیلئے اب تک 200بلین ڈالر خرچ (آگ میں جھونک چکی ہے، جیسے کسی دور میں اسحاق ڈار نے روپے کی ساکھ بحال رکھنےکیلئےکیا تھا ) کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود ترک لیرا اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکاجس پر حکومت نے currency protection نظام متعارف کرایا،اس نظام سےبھی حکومت کو لینے کے دینے پڑگئے اور 128 بلین ڈالر کا بوجھ برداشت کرنا پڑرہا ہے ۔

حکومت کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق اگرچہ تنخواہوں میں اضافہ تو کردیا گیاہے لیکن اب حکومت کو خطرناک حد تک خسارے کا سامنا ہے جسے پورا کرنے کیلئے حکومت نے بڑی مقدار میں ٹیکس نافذ کئے ہیں۔ ا سمارٹ فون پرسب سے زیادہ ٹیکس لگایا گیاہے یعنی 2015 سے اب تک اس ٹیکس میں 15ہزار فیصد اضافہ کیا جا چکا ہے ۔ حکومت کو اگرچہ تنخواہوں میں اضافےپر عمل درآمد15جولائی سے کرنا ہے لیکن اس نے ٹیکس یکم جولائی ہی سے وصول کرنا شروع کردیے ہیں ۔ حکومت نے ویلیو ایڈیڈ ٹیکس کو 18 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ضروریات زندگی میں شامل صابن،ٹوائلٹ پیپر ، ڈائپر ، اور کھانے پینے کی اشیاء پر 10 فیصد جبکہ، فرنیچر، الیکٹرونک اشیاء، سگریٹ اور الکحل پر 20 فیصد ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ ابھی تک حکومت نے غذائی اجناس پر صرف ایک فیصد ہی ٹیکس جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے،حکومت نے سرکاری طور پر فراہم کی جانے والی خدمات ،جس میں پاسپورٹ، نوٹری پبلک اور دیگر سرکاری خدمات شامل ہیں پر لاگو ٹیکس میں مزید 50فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آٹو موبائل پر عائد ویلیو ایڈیڈ ٹیکس کو 18 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کردیا ہے اور اس طرح اسپیشل کنزمپشن ٹیکس جسے ترکی زبان میں ÖTV کہا جاتا ہے کو 80فیصد سے بڑھا کر 112فیصد کردیا ہے اور نئی گاڑی خریدنے والوں کو سال میں دوبار یہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

ٹیکسوں میں ہونے والے اضافےکے نتیجے میں ترکیہ میں پہلے ہی سے ریکارڈ حد تک موجود افرطِ زر کی شرح میں بے حد اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے یعنی حکومت نے اصغری ( کم از کم ) اجرت ، سرکاری ملازمین اور اب ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں میں ہونے والے اضافے کو عوام پر بھاری ٹیکس نافذ کرتے ہوئےپورا کرنے کی پالیسی اپنالی ہے۔ اپوزیشن رہنما صدر ایردوان پربے تحاشہ اور فضول اخراجات کم کرنے کی بجائے عوام پر بھاری ٹیکس ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کاالزام لگا رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنمائوں کے مطابق وزیر خزانہ مہمت شمشیک ملک کی اقتصادی صورتِ حال اور خزانہ خالی ہونے سے اچھی طرح آگاہ ہوچکے ہیں ۔ اس لئےانہوں نے خزانے کوبھرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور انہوں نے گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب کا دورہ کیا اوران ممالک سے 10بلین ڈالر کی فوری سرمایہ کاری(بعد میں اس میں اضافہ ہو سکتا ہے ) کرنے کی یقین دہانی حاصل کی اور اب صدر ایردوا ن سعودی عرب، قطراور متحدہ عرب امارت کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں تاکہ وہ ان ممالک سے دس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرکے ترکیہ کے خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو کچھ حد تک کم کرسکیں۔ اس دورے کے دوران تینوں ممالک کےبزنس فورم اجلاس بھی منعقد ہوں گے جس میں عرب سرمایہ کاروں کےبڑے پیمانے پر شرکت کرنے اور ترکیہ میں سرمایہ کاری کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز