الفاظ کی آواز 306

الفاظ کی آواز

قلم سے نکلتی سیاہی کے ساتھ لکھنے والی کی نیت بھی صارف ہو تو اسکے قلم سے نکلتا ایک ایک لفظ قرطاس پہ موتی کی مانند منور و روشن ہوتا ہے۔سوچ و تخیل سے ابھرتے ریشوں سے بننے والے الفاظ پیامبر بن کر' دوا بن کر' اصلاح کا پروانا بن کر معاشرے میں پھیلتے اندھیرے کو منور کرنے ' کمزور و لاغر معاشرے کی تشخیص کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔۔۔۔پڑھنے والوں کے دل میں گر کر جانے کا فن جانتے ہیں۔ یہ ساری الجھی کتھا سوچ کے نہایت باریک ریشںوں کی وجہ سے ہے ۔ 

قلم وہ ذریعہ ہے جو سوچ کے ریشمی دھاگوں کو الفاظ کی زنجیر میں باندھ کر معاشرے میں پھیلتے گندے پانی کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی طاقت رکھتا ہے۔

کسی کی ذات کے ساتھ بھلائی کرنا اگر عبادت ہے تو لکھاری اپنے قلم سے لکھے الفاظ کی مدد سے معاشرے کی اصلاح و بھلائی کا کام کر رہے ہیں۔لیکن 

بہت سے لکھنے والے لکھاری اپنی ذات کو مقدم جان کر ' دوسروں کی سوچ کا انحراف کرکے ۔۔۔ اپنے قلم سے صحفے بھرتے ہیں اور ان لفظوں سے ہزار نئی سوچ کا جنم ہوتا ہے جن میں چند ایک ہی اس لکھاری کی سوچ کو ' اس کے مقام پہ خود کو رکھ کر سوچ پاتے ہیں ۔باقی اس سوچ کو اپنی زندگی کے واقعات سے ملا کر غلطی کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں ۔ سونے پہ سہاگا خندہ پیشانی سے اس سوچ کا اعتراف کرنے سے بھی نہیں گھبراتے ۔جبکہ سوچ کا زاویہ انکا بھی معاشرے کی اصلاح کے گرد گھومتا ہے۔ 

تنقید برائے اصلاح کرتے کم ہی نظر آتے ہیں ۔ وہ تو اپنی لکھی تحریر پہ اس قدر ڈٹے ہوتے ہیں کہ اس پہ نظر ثانی کرنا بھی اپنی ذات اور لکھی تحریر کی تذلیل گردانتے ہیں۔ پھر چاھے انکی لکھی تحریر و سطریں معاشرے میں ناسور بن کر ہی کیوں نا پھلے پھولے۔۔۔ان کی بلا سے انہیں اپنی دکان چمکانے کی زیادہ فکر لاحق ہوتی ہے ۔۔۔اصلاح کی کم۔انکی اپنی ذات معاشرے کی اصلاح سے زیادہ مقدم ہے ۔ وہ تنقید برائے تنقید کو زیادہ فوقیت دیتے ہیں ۔وہ برائی کے پہلو کو قلم کی نوک سے اس قدر ابھار کر لکھتے ہیں کہ اس میں مثبت پہلو مفقود ہو کر رہ جاتا ہے ۔انکی سوچ کی نا پختگی انکی تحریر میں منفی پہلو کو زیادہ اجاگر کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ اگر سوچ کا دائرہ کار ہی منفی ہے تو تحریر عین ممکن ہے بھلائی پھلانے میں ناکام رہے گی۔ 

اس کے برعکس بعض لکھاری معاشرے میں پنپتےمرض کو ' کالک کو اس دلکشی و دلفریب طریقے سے بیان کرتے ہیں کہ ناصرف وہ جلتی آگ پہ پانی کا کام کرتا ہے بلکہ پڑھنے والے کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کسی ماہر استاد کی سی کرتا ہے جو اپنے نالائق طالب علم کی نالائقی کا مظہر بھی ہے ' اسکی تربیت پہ نظر ثانی بھی کرتا ہے اور پیٹھ بھی ٹوکتا ہے۔ ان کے لیے انکی ذات آخری درجے پہ ہوتی ہے ۔وہ اپنے فرض سے پس و پیش نہیں کرتے کہ آج ہے اور کل نہیں کے مترادف۔ وہ جب جب کالی گھٹا معاشرے میں امڈتے دیکھتے ہیں تو شفیق ماں کی طرح پہلے ہی اپنے الفاظ کی آواز سے خبردار کرتے نظر آتے ہیں اور الفاظ بھی انکے ہمنوا ہوتے ہیں کہ وہ بھی سورج کی کرن بن کر روشنی پھلا سکیں ۔

ایک لکھاری کو لکھتے وقت قلم اور الفاظ کی اہمیت کو بھی شامل حال رکھنا چاھیے تبھی وہ اس قوم کے لوگوں اور معاشرے میں پھیلتے زہر کا تریاق کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

بشکریہ اردو کالمز