طلسم ہوشرباء کہانیاں ، جاسوسی سیریز ، تخیلاتی سفر نامے ، تاریخی ناول صوفیانہ ادب اور تصوراتی فلمیں (فنٹیسی )دیکھ کر بڑی ہونے والی یہ نسل مجھے ہمیشہ ایک خاندان کی طرح لگتی ہیں ۔ جس نے بچپن صرف ٹیلی ویژن کے ایک چینل کے سہارے گزارا ، ہرفلم میں کوئی نہ کوئی اخلاقی سبق ہوتا تھا ہر ڈرامہ سبق آموز ہوتا تھا ، اچھے بُرے کی خاص پہچان کروائی جاتی تھی ہر چیز فلٹر کر کے دکھائی جاتی تھی بچپن سے جوانی تک کا سفر ایک خواب کا سفر تھا ۔ ایک تار والے فون کے ساتھ جوانی گزاری جس پر صرف ضروری بات کرنے کی اجازت دی جاتی تھی ۔ پھر صدی کی آخری دہائی میں نئی صدی کو خوش آمدیدکہنے کے لیے سائنس نے ترقی کی ایک نئی جست لگائی جو کہ حیران کن تھی ٹی وی بدلا ،چینل بدلنے ، رنگ بدلے ، اخلاقیات کر کے معیار کو بدلتے دیکھا ۔ انٹر نیٹ نے دُنیا کو سمیٹ دیا ۔ اور ہم اس 70سے 80کی دہائی والی نسل حیران و پریشان کھڑے رہ گئے۔
80کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والی نسل نے نسبتاًایک ترقی یافتہ دور میں آنکھ کھولی (ہمارے خیال میں ) ان کو آسانیاں مِلیں ۔ اور ایک بہت بڑے جنریشن گیپ کی ابتدا ہوئی ۔ ہمارے ماں باپ اور ہمارے درمیان بھی جنریشن گیپ تھالیکن یہ کبھی محسوس نہیں ہوا ۔ یا ماں باپ نے محسوس ہونے نہیں دیا ہمارا سننا ماں باپ کے کانوں سے تھاوہ اپنی آنکھوں سے جو دِکھاتے تھے ہم وہی دیکھتے تھے ،اور جو بتاتے تھے وہی رائے ہم بنا لیتے تھے ، چچا ، تایا ، خالہ، ماموں ، پھوپھی کے ایک خاندانی نظام میں بند تھے ، جس میں دادی دادا کی حکمرانی ہوتی اور زندگی چلتی تھی ، ماں باپ نے کسی بات سے منع کیا تو ہو گئے ، جس کی اجازت دی وہ کام کر لیا اور بغیر اجازت تو ایک قمیض خریدنے کی جرات نہ تھی۔ یہ ہمارا مائنڈ سیٹ ہے ہمارا یعنی 70سے 80 کی دہائی میں پیدا ہونے والے خاندان کا۔
ہمارا ہماری نئی نسل سے ایک جنریشن گیپ پیدا ہوچکا ہے جوکہ ایک اختلاف کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ہر بات پہ نئی نسل ہم سے دلیل مانگتی ہے ہم جو کہ دلیل کے لفظ سے نا آشنا تھے کیونکہ ہم نے کبھی دلیل نہیں مانگی تھی نہ ماں باپ سے اور دادا، دادی اور نہ نانا نانی سے تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا-اتنا بڑا جنریشن گیپ آیا کیسے ؟
اگر ہم تجزیہ کریں تو صاف ظاہر ہے ۔ ایک موازنہ کر لیں اپنے ذہن میں اپنی جوانی کے ٹیلی ویژن کا اور آج ٹیلی ویژن میں ، کل اور آج کی فلمیں ، حتیٰ کہ اشتہارات کا موازنہ کر لیں وہ بھی مجموعی طور پر بدلے ہوکے نظر آئیں گے ۔ انٹر نیٹ کی اپروچ ۔ نتیجہ سامنے ہے ۔ اس نسل کا قصور نہیں ہے اِ ن کو ملامت کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ ہم سب ذمہ دار ہیں آپ میں یہ میڈیا یہ ملک اور یہ دنیا نے اس کو قبول کرنا اور ماننا ضروری ہے ۔
ہم معلومات کے لیے ماں باپ کا رُخ کرتے تھے ہماری نسل معلومات کے لیے(گوگل) کا رُخ کرتی ہے ۔ جواُسے ایک سوال کے دس جواب دیتی ہے ۔ وہ ہم سے ذہنی ترقی اور سائنسی ترقی کے حساب 25سال آگے ہیں ، ہم اپنی 25سال کی عمر میں اتنے میچور نہیں تھے ہم تو فینٹیسی میں رہتے تھے یہ آج کا 10سال کا بچہ حقیقی دنیا کی بات کرتا ہے اپنے حقوق کی بات کرتا ہے، ہم سے ہر بات کے جواب میں دلیل مانگتا ہے اور دلیل وہ جس کو گوگل مانتا ہو۔ ہر دوسری بات کا بچہ ہمیں کہتا ہے کہ آپ کو کیا پتا آج کی دُنیا کہاں پہنچ گئی ہے ۔ کیونکہ وہ گوگل پوری دُنیا کو چھانثا ہے ، کبھی کبھی لگتا ہے ہم پیچھے رہ گئے ہیں ۔
اگر ہم پیچھے رہ گئےہیں تو یہ نسل بہت جلد ہمیں چھوڑ کر آگے بھاگ جائے گی پھر ہم نے جو زندگی سے سیکھا تجربات کی بھٹی میں درد سیمٹا ہمارے تجربات و مشاہدات سے فائدہ کون اُٹھائے گا کیسے ہم سنائیں گے ان بچوں کو اپنے تجربات ؟ اس نئی نسل کو اگر ہم کچھ سکھانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی رفتا ر تیز کرنی ہوگی ۔ ان بچوں کو ٹوکنے اور طنز کرنے اور اپنی تابعداری کے قصے سنانے کو بجائے کھلے دِل سے اس نسل کی ذہنی ترقی کو قبول کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اپنے لہجوں میں نرمی کے ساتھ نئی دنیا کو سیکھنے کی رفتار تیزکرنی ہوگی ۔ ہمیں ان بچوں کی ہر بات کی دلیل تلاش کرنی ہوگی ۔ اپنے گھروں میں ایک صحت مند فضا پیدا کرنی ہوگی جس میں جھاڑ جھنکار اور ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے سیکھنے کے لیے بحث و مباحثہ کا رواج پیدا کرنا ہوگا ۔ ہمیں یہ قبول کرنا ہوگا کہ اس نسل کے پاس معلومات کا خزانہ ہے اس خزانے سے فائدہ اُٹھا کر اس نسل کی اُنگلی اس طرح پکڑنی ہوگی کہ اُن کو احساس تک نہ کہ وہ ہمیں سہارا دے رہے ہیں کہ ہم اُن کو راستہ دکھا رہے ہیں ۔
کیا ہم صرف ماضی کا ماتم کرتے رہیں گے اور حال میں بننے والی نسل کو لعنت ملامت کر کے رہیں گے ؟
کیا ہم ایک نیاماضی تخلیق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ؟
ہمیں آج کی نسل کی نفسیات کو سمجھنا ہوگا۔ اس نسل کے اند ر معلومات کا ایک طوفان ہے اس طوفان کو نکالنے کا راستہ ہم نے بنانا ہے ۔ یہ نسل اپنی عمر کے حساب سے تیز رفتاری سے بھاگ رہی ہے ۔ ان کی رفتار اور اِن کی عمر ایک دوسرے سے میل نہیں نظر آتے مگر نئے وقت کے تقاضوں کو ہمیں اپنی سمجھ داری اور تجرباتی روشنی کے مطابق ڈیل کرنا پڑے گا ۔
غدار اس نُسل کی ذہنی صلاحیتوں کو مثبت راستے پر ڈالنےکی ذمہ داری ہماری ہے ۔ اس کو ہمارے وقت اور توجہ کی ضرورت ہے آج سے ایک نیا ماضی بنانے کی کوشش کریں-