برصغیر میں اسلام کی آمد سے متعلق مختلف نظریات عوام میں مقبولیت کے حامل ہیں. کوئی اسے آٹھویں صدی کے اوائل میں محمد بن قاسم، جو کہ دراصل ایک سپہ سالار تھے، ان کے سندھ میں راجہ داہر پر حملے سے متعلق کرتا ہے تو کوئی اسے صوفیاء کے کردار سے متعلق کرتا ہے. تاہم مسلم حکمرانوں کا بذریعہ تعلیم یا مدارس کا قیام بھی برصغیر میں اسلام کی اشاعت میں ایک ایم سنگ میل ہے.
مسلم دنیا میں تعلیم کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے جس طرز پہ تین درجات میں تعلیمی مدارس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، برصغیر کے مسلم حکمرانوں نے بھی اسی طرز پہ مدارس کا قیام عمل میں لایا. مسلم دنیا میں رائج یہ تعلیمی نظام غزنی، خراسان، لاہور، دہلی، آگرہ، اجمیر کے رستے ہندوستان کے دیگر شہروں تک پہنچا.
غیر رسمی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی کر لیا جاتا تھا. جہاں والدین بچے کو کلمے، نماز، چند بنیادی دعائیں یاد کروانے کے ساتھ ساتھ نماز پرھنے کا عمل بھی سکھاتے تھے اور جب بچہ تقریبا چار سال چار ماہ کی عمر کو پہنچتا تو والدین اس کی رسم بسم اللہ کرواتے اور اس موقع پر استاد بچے کو تبرکا پہلا سبق پڑھاتا. اس کے ساتھ ساتھ والدین استاد کو تحفے میں قیمتی اشیاء بھی دیتے اور سارے محلے میں شیرینی تقسیم کی جاتی. بعد ازاں بچہ محلے کی مسجد سے ملحق مدرسے میں باقاعدہ تعلیم کا آغاز کرتا اور اسے بغدادی قاعدے کے اصول پر عربی حروف کی ہجا سے آشنا کروایا جاتا. ہر محلے میں بچوں کی تعلیم کے لیے ایک مخلوط مکتب ہوتا جہاں بچے اور بچیوں کو قرآن کے علاوہ اردو زبان کی تعلیم دی جاتی. یہ مکتب نصاب کے معاملے میں بلکل آزاد تھے. والدین اگر مطالبہ کرتے تو استاد ان کے بچوں کو فارسی اور ابتدائی حساب کی تعلیم بھی دیتے. بچے سبق کو کورس (chorus) کی صورت یاد کرتے یا اسے تختی پر لکھ لیتے.
چھوٹے بچوں میں سمجھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے اس لیے بچے اپنا اکثر وقت آموزش یعنی سبق زبانی یاد کرنے میں گزارتے تھے. بچوں سے استاد باقاعدہ سے آموختہ بھی سنتے. جمعہ مکمل چھٹی کا دن ہوتا اور جمعرات کو آدھے دن کی چھٹی ہوتی مگر طالب علم اس دوران پچھلا سبق دہراتے اور ذہین طلباء کند ذہین طلباء سے آموختہ سنتے. اس کے علاوہ محلوں میں خواتین گھروں میں چھوٹے مکتب قائم کرتیں جہاں وہ چھوٹے بچوں کو ناظرہ قرآن اور بنیادی دعائیں سکھاتیں اور بعض معزز گھرانے اپنے گھروں میں آتوں جی رکھ لیتے. جو ان کے بچوں کو گھر پر آ کر تعلیم دیتی تھیں.
بعد ازان طلباء اعلیٰ تعلیم کے لیے مدارس کا رخ کرتے. ان مدارس کا نصاب کم و بیش وہی تھا جو باقی مسلم دنیا کے مدارس میں رائج تھا اور تعلیم تین درجات میں تقسیم تھی. ان مدارس میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا تھا کہ طلباء کو معاشرے کیلئے تیار کیا جائے اس لیے انھیں قرآن، احادیث، فقہ، عقائد کے علاوہ فنی تعلیم سے بھی مالا مال کیا جاتا تھا تا کہ ہر فرد کا معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے عمل کو یقینی بنا جا سکے. یہی وجہ تھی کہ انھیں مدارس سے پڑھنے والے طلباء بعد ازاں بطور طبیب، سائنسدان، ماہر فلکیات اور دیگر شعبوں میں اپنا لوہا منواتے تھے.
12 صدی عیسوی غزنوی حکمرانوں کے زمانے سے لیکر 1857 عیسوی تک ان مدارس کے نصاب کو دور اور ضرورت کے مطابق کئی بار بدلا گیا تاہم اورنگزیب عالمگیر کے دور میں ملاں نظام الدین سہالوی (رح) نے درس نظامی کے نام سے ایک نصاب ترتیب دیا جسے برصغیر کے تمام مدارس میں رائج کر دیا گیا. اس نصاب میں عربی اور فارسی زبانوں کے علاوہ قرآن، احادیث، فقہ، تفسیر، اصول تفسیر، اصول حدیث، اصول فقہ، عقائد، طب، علم ہندسہ، ریاضی، فلسفہ، علم فلکیات اور دیگر علوم شامل تھے. اس کے ساتھ ساتھ فارسی دفتری زبان تھی، فقہ حنفی سرکاری فقہ تھی اور مدارس کے فاضل طلباء ہی سرکاری عہدوں کیلئے منتخب کیے جاتے تھے.
1857 عیسوی کی جنگ کے بعد برطانوی حکومت نے برصغیر پر اپنی حکومت قائم کر لی اور یوں برصغیر پر مسلم حکومت کا خاتمہ ہوا. برطانوی سامراج نے اپنے مفادات کے پیش نظر جہاں نظام میں کئی تبدیلیاں لائیں وہیں یہاں کے تعلیمی نظام کو بھی بہت بڑا دھچکا لگا. انگریز حکومت نے فارسی کی جگہ انگریزی کو دفتری زبان ٹھہرا دیا اور ساتھ ہی ساتھ کالج کی تعلیم کا آغاز بھی کر دیا. اور پھر سرکاری عہدوں کے لیے تقرری کے وقت انہی لوگوں کو ترجیح دی جاتی جو انگریزی نظام تعلیم سے پڑھ کر آتے تھے اور یوں فرنگ محل سے جاری کردہ درس نظامی کا نصاب فنی تعلیم دینے کے باوجود طلباء کیلئے معاشرے میں روزگار کے حصول کے عمل کو کامیاب بنانے میں ناکام رہا. بعد ازاں برصغیر میں ایسے مدارس کا قیام عمل میں لایا گیا جو صرف دینی تعلیم کے لیے خاص تھے اور جن کا مقصد صرف طلباء کی دینی تربیت کرنا اور انھیں مذہبی معاملات میں عوام کی راہنمائی کیلئے تیار کرنا تھا.
جامعۃ الازہر، جامعہ نظامیہ بغداد اور مسلم دنیا کے مدارس آج بھی طلباء کو فنی تعلیم فراہم کرتے ہیں اور ان معاشروں میں مدارس سے فنی تعلیم پانے والے طلباء کو قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان اور انڈیا کا نظام تعلیم مکمل طور پر تقسیم کا شکار ہے. یہاں مدارس کو صرف دینی تعلیم کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ عصری علوم کا باقاعدہ حصول یونیورسٹی کے ذریعے ہی ممکن ہے.