گاڑی والے نے ہمیں پاکستان اور کشمیر کے درمیان رابطہ قائم کرنے والے پل سے پہلے ہی اتار دیا اور کشمیر کی حدود میں داخل ہونے سے منکر رہا. اک خوف ہمارے ذہنوں میں بھی کہیں مدت سے پنپ رہا تھا کہ پاکستان سے کشمیر جانے والوں کو کوہالہ چیک پوسٹ پہ روک لیا جاتا ہے اور طویل کاروائی کے بعد آگے بڑھنے کا عندیہ پانے والے خود کو کسی عالمی جنگ سے با حفاظت لوٹنے والے سپاہیوں کی مانند پاتے ہیں. خیر ہم نے بھی ٹھانی تھی کہ "طویل رستہ، برستی بارش، خراب موسم" کی سبھی وار ایک طرف رکھتے ہوئے ہم بھی جس حال میں جانا مشکل ہے انھی دونوں میں جا کر دکھائیں گے لیکن احتیاطی تدابیر کو ہم نے اپنے جنون کی نظر ہونے کا بلکل بھی موقع نہیں دیا. خیر کوہالہ چیک پوسٹ پہ صرف چند لمحوں میں ہماری سکینک ہوئی اور جسمانی درجہ حرارت کسی متوسط صلاحیتوں کے حامل طالب علم کے رزلٹ کی مثل آیا اور ہم نے پیدل سڑک ماپنا شروع کر دی.
شہر میں طرح طرح کی موٹر کاروں کا رش، کہیں دکھائی دینے والا اور کہیں ان دیکھی آلودگی، لوگوں کا ہجوم، ہجوم سے اٹھنے والی آوازیں اتنی زیادہ کہ ہر قدم پہ شور سے مرنے کا خوف اور لوگ کسی نشے کی لت میں عادی شخص کی طرح مطمئن، یہ سب وبال جاں تھا اسی لیے کشمیر کی طرف اٹھتا ہر قدم پچھلی تہذیبوں عکس دکھا رہا تھا کہ جہاں کسی کو نا بجھلی جانے کا خوف، نا گیس کا بل ادا کرنے کی فکر، نا ٹریفک سنگنل پہ اشارہ کھلنے تک ہارن دبائے رکھنے کی عادت، نا گاڑیوں کی پیاس کو پٹرول سے پورا کرنے کی دوڑ، نا وقت پر دفتر پہنچنے کا بے سود عزم، غرضیکہ یہاں پر ہر شخص کو کرونا وائرس کیوجہ سے نا ہی کوئے جاناں کی ناکہ بندی کا وھم تھا اور نا ہی دل ہنگامہ جو کہ کہاں جایا جائے، ہر کوئی جہاں ہے وہیں خوش. تین وقت روٹی، موقع پایا تو خدا کے ہاں سجدہ ریز، کسی بیمار کا علم ہوا تو عیادت کو دوڑ پڑنا یا میلوں مسافت طے کر کے دور جنگلوں سے کچھ لکڑیاں لینے نکل پڑنا کہ جنھیں گھر کا چولا جلانے میں استعمال کیاجا سکے. کچھ زمیندار اپنے بیلوں کی مدد سے زمین میں ہل چلانے میں اس قدر سرگرم عمل کہ سیکنڈ ایئر کی انگریزی کتاب میں بوڑھے کسان کی کہانی بھی حقیقت معلوم ہوتی کہ اگر عزم کیا جائے اور پھر چوٹیوں میں اخلاص سے بیچ بویا جائے تو نہ صرف محنت ثمر آور ہو گی بلکہ پھل بھی خاصا لذیذ ہوگا.
ہم 5 گھنٹے کا سفر گیارہ گھنٹے میں طے کر کے اپنے گاؤں پہنچے. جہاں پہنچتے ہی پہلے نظر ان ان گنت قبروں پہ پڑی جن میں ہمارے وہ بزرگ مدفون ہیں کہ جنھوں نے صدیاں قبل یہاں آکر اس علاقے کو آباد کیا اور یہاں طرح طرح کے پھل بوٹے بھی لگائے. اب ہر اٹھنے والا قدم بوجھل ہو چکا تھا، گویا ارگرد سے کچھ آوازیں مجھ سے میری شناخت بتانے پہ مصر تھیں، کہ میں کون ہوں جو سالوں بعد یہاں آتا ہوں، کیا رشتہ ہے میرا ان قبروں سے جہاں میرے اٹھنے والے ہاتھ جس وقت یہ جنازے اٹھے، ان میتوں کو سہارا دینے کو میسر نا تھے، میں کون ہوں کہ جسے علالت کے وقت عیادت کے لیے فرصت میسر نا آئی اور اب قبروں پہ اگی گھاس مجھے اندر مدفون شخص سے نیک تمناؤں کے اظہار پر اکسا رہے. میں اب کیوں 2020 سے واپس کشمیر آیا ہوں. اب انتظار حسین صاحب کے الفاظ بھی مجھے حقیقت معلوم ہوئے کہ ہماری تاریخ میں قبریں بڑی اہمیت کی حامل ہیں شاید اسے لیے کہ ہمیں مرنے کی بعد ہی قدر و قیمت مل پاتی ہے. خیر ہمیں کیا برا تھا مرنا جو ایک بار ہوتا مگر وقت کی چند ساعتیں ناصر، لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو، مگر یہ حسرت...
اہل و عیال، علاقے کے مکینوں کی نظر میں ہم اب کافی حد تک اجنبی تھے، صرف چند ادھیڑ عمر افراد ہمارے چہرے کے خدوخال کو دیکھتے ہی ہمیں دلاسوں کی نعمت سے مالا مال کرتے. ایک بار تو یوں بھی ہوا کہ ہمیں اپنے تعارف کے لیے باب، دادا اور نانا جان کا محتاج ہونا پڑا پھر جا کر ہمارے تشخص کو بقا کا پروانہ ملا.
یہاں اب بھی بہت کچھ ہے، زندگی ہے، امید ہے، سوکھی روٹی بھی ملنے پہ شکر کی صدا ہے، مریضوں کے لیے قدرتی جڑی بوٹیوں میں شفا ہے، چشموں کا صاف پانی، مختلف انواع کے درختوں کی صاف اور ٹھنڈی ہوا، پرندوں کی چہچہاہٹ، سبھی رنگ ہیں. بہار ہے تو زندگی اپنے جوبن پہ ناچ رہی ہے. فقط میں ہوں جو ابھی یہاں کا نہیں ہوں، زمین میرے قدم کو مدتوں بعد کسی اجنبی کی مانند پھسلا دیتی ہے، پرندے مجھ سے خوف کھاتے ہیں، ہوائیں مجھے بیمار کرتی ہیں، چشموں کا پانی مجھے موت کی تصویر دکھاتا ہے مگر یہ سب میرے لیے ہے. یہاں کا ابھی ماں کی گود سے نکلنے والا بچہ بھی ان تمام فطرتی رعنائیوں میں خوش اور فطرت اسے ماں کی طرح سنبھالے رکھتی ہے.
زمین اتنی زرخیز کہ ہر ذائقے کی فصل اگاتی ہیں، درخت ہر اقسام کے، ہر طرح کے پھلوں سے لدے ہوتے ہیں، بہار کہ آمد پر پرندے ٹہنیوں پہ کھلے پھولوں کے طواف میں مگن ہیں، کوئل صبح سویرے مسافروں کی منزل کی جانب رخصت کرنے کا گیت گاتی ہے، ٹھنڈی ہوا برسوں کی تھکاوٹ کو لمحے میں اتار دور پھینکتی ہے، کھلے، بوسیدہ کپڑوے، پاؤں میں پلاسٹک کے پھٹے جوتے اور چھڑی کے سہارے سے چلنے والا ہر بزرگ خود کو جوان تصور کرتا ہے اور اس آب و ہوا کو سرمایہ زیست کہنے پہ خوش ہے.
ہسپتالوں، طبیبوں کی پہنچ سے دور ان لوگوں کے ہر مرض کی دوا ان کی مٹی ہے. قدرتی طور پہ اگنے والی جڑی بوٹیاں ان کے ہر مرض کا مداوا کرتی ہیں اور انھیں روزگار بھی فراہم کرتی ہیں. کشمیر کے جنگلوں میں اگنے والی گچھی اس وقت پچیس ہزار روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوتی ہے جسے کئی دوائیوں کے بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے. ان پہاڑوں پہ مقیم یہ سادہ لوگ صدیوں سے کئی قیمتی نسخوں سے مالا مال ہیں. کاسنی سے معدے کے جراثیم کا خاتمہ، کالی جڑی کے شربت سے جگری گرمی کا حل، چھکل کا انڈوں کے ساتھ استعمال سے جوڑوں کے درد کا خاتمہ، مسلونڑ سے خون کی کمی کا علاج، کالے سنبھل کی جڑ سے معدے کے درد کا خاتمہ، بٹپیھآ کے استعمال سے چھوٹے پیشاب کی تکلیف سے چھٹکارا، بنر کھوڑ (جنگلی اخروٹ) کی گری کو رگڑ کر چھوٹے جانور کی کلیجی کے ساتھ کھانے سے یرکان سے شفا، پتریس کے استعمال سے نمونیے کا علاج اور کئی دیگر قدرتی اگنے والی جڑی بوٹیاں ان لوگوں کے کئی امراض کی تشفی کرتی ہیں. یہ لوگ بازار سے سبزی خرید کر لانے کی فکر سے آزاد، فطرتی طور پر جنگلوں یا پہاڑوں پر اگنے والی کئی سبزیوں بشمول کنجی، کنڈور، پینچے وغیرہ سے اپنے آپ کو صحت مند بھی رکھتے ہیں اور بھوکے رہنے کی فکر سے بھی آزاد رہتے ہیں.
مگر یہ سب میرے لیے عجیب ہے. بڑے بڑے ہسپتالوں میں لاکھوں روپے کی لاگت سے ہونے والے علاج یہاں مفت میں میسر ہیں. بڑے شہر میں پڑے لکھا شخص روزگار نا ملنے کے خوف میں مر رہا ہے مگر یہ لوگ کچھ نا ہوتے ہوئے بھی خوش ہیں اور ہر آنے والے دن کو بے فکری سے جیتے ہیں ویسے ان لوگوں کے پاس موبائل سادہ ہیں، ٹیلی ویژن بہت کم، خوف نا پید اور امید ہر جا ہے اور ان کے لیے زندگی اب بھی بازیچہ اطفال ہے اور یہ تماشا دیکھ کر گزرنے کے عادی ہیں، اس پر ضرورت سے زیادہ افسوس کرنے کا ان سے دور دور تک تعلق نہیں ہے. ان کے لیے زندگی موت تک جینے کا نام ہے اور بس!
874