818

کیا قادیانیت مذہب ہے؟

کوئی بھی مذہب نئے نبی اور نئی وحی کے ساتھ  تبدیل ہو جاتا ہے، جس طرح عیسائی لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور توراۃ پر ایمان رکھنے کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل پر ایمان لانے کی وجہ سے یہودیوں سے الگ ہوگئے تھے اور ان کا مذہب مسیحی مذہب کہلاتا ہے۔ اور جس طرح ہم مسلمان حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور توراۃ و انجیل دونوں پر ایمان رکھنے کے باوجود حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان لانے کی وجہ سے دونوں سے الگ ہوگئے ہیں اور یہودی یا عیسائی کہلانے کی بجائے مسلمان کہلاتے ہیں۔ اسی طرح قادیانی بھی مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی وحی پر ایمان لانے کے بعد ایک الگ مذہب رکھتے ہیں اور مسلمان کہلانے کے حقدار نہیں رہے۔
اس لیے یہ ایک الگ مذہب ہے جس کی بنیاد نبوت اور وحی کے دعویٰ پر (جس میں اسلام کی کوئی گنجائش نہیں) ہے۔ہمارا قادیانیوں سے یہی تنازعہ ہے کہ جب سے وہ اپنا ایک الگ جداگانہ مذہب رکھتے ہیں تو وہ اپنے مذہب کے لیے اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مخصوص اصطلاحات کہ استعمال کرنے کا حق نہیں رکھتے۔
قادیانیوں کا یہ اعتراض معقول نظر آتا ہے کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سینکڑوں پیغمبر آئے تھے اور ان پر وحی آئی تھی۔ حتیٰ کہ حضرت داؤد علیہ السلام جیسے صاحب کتاب رسول آئے اور ان پر مستقل کتاب زبور نازل ہوئی مگر اس سب کچھ کے باوجود ان سب کا مذہب یہودی رہا اور مذہب کے نام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ لیکن اس کے ساتھ قادیانیوں کو پھر تاریخ کی اس  حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑھے گا کہ عیسائیوں کا مذہب یہودیوں سے الگ ہو جانے کی وجہ بھی نئی نبوت اور نئی وحی ہی تھی کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل پر یہودیوں کا ایک حصہ ایمان لایا جو مسیحی کہلایا۔ اور اس وقت کی یہودی اکثریت نے ایمان لانے سے انکار کر دیا جو یہودی ہی رہے۔ 
یہ جو تفریق ہوئی اور ایک مذہب کے اندر سے دوسرا مذہب الگ ہوگیا اس کی وجہ نئی نبوت اور نئی وحی بنی۔ ایمان نہ لانے والے اپنے سابقہ مذہب کےپیروکار رہے اور ایمان لانے والے نئے مذہب کے پیروکار کہلائے۔

غلط یا صحیح کی بحث اپنی جگہ پر ہے لیکن تاریخی تناظر میں مرزا غلام احمد قادیانی کو بنی اسرائیل کے ان انبیاء کرام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا جن کے آنے سے مذہب تبدیل نہیں ہوا تھا۔ بلکہ اس کی حیثیت یہ ہے کہ ایک شخص نے نئی نبوت اور وحی کا دعویٰ کیا جسے قبول کرنے سے امت مسلمہ نے مجموعی طور پر انکار کر دیا، جس کی وجہ سے وہ اور اس پر ایمان لانے والے پہلے مذہب کا حصہ رہنے کی بجائے نئے مذہب کے پیروکار کہلائے، اور ان کا مذہب ایک الگ اور مستقل مذہب کے طور پر متعارف ہوا۔

نبوّت کے غلط دعویٰ ہونے سے قطع نظر معروضی صورتحال کا فطری تقاضا یہی ہے کہ یہ اپنے مذہب کا الگ نام طے کریں اور خواہ مخواہ مسلمان کہلانے کی ضد چھوڑ دیں کیونکہ پاکستان میں انکا درجہ غیر مسلم اقلیت معاشرتی طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔
ہماری کمزور یہ ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اس بات کو واضح کرنے سے قاصر رہے کہ ہمارا انکے ساتھ جگھڑا حقوق کا نہیں بلکہ حقوق کے ٹائٹل کا ہے جبکہ قادیانی باہر کی دنیا میں یہ باور کروا رہے ہیں کہ پاکستان میں ان کے مذہبی اور شہری حقوق پامال ہو رہے ہیں۔اسی وجہ سے قادیانیوں کی بین الاقوامی اداروں اور لابیوں کی حمایت حاصل ہے۔
اس سلسلہ میں ایک اہم بات یہ ہے کہ قادیانی دنیا بھر کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی ان کے بقول مستقل نبی نہیں تھے بلکہ بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح امتی نبی تھے، اس لیے ان کے دعویٰ نبوت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں ان کے اس دعویٰ کا ایک اور حوالہ سے جائزہ لینا چاہتا ہوں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسیلمہ کذاب نے بھی اسی طرح کا دعویٰ کیا تھا۔

1۔وہ حضورؐ کو رسول اللہ مانتا تھا بلکہ پہلے ان کی رسالت کا اقرار کرتا تھا پھر اپنی نبوت کی بات کرتا تھا۔
2۔اس نے حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپؐ کی نیابت و خلافت کی درخواست کی تھی اور یہ پیشکش کی تھی کہ اگر وہ اپنی خلافت نہیں دیتے تو دیہات کی نبوت اس کے حوالہ کر دیں۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ مسیلمہ کذاب کا دعویٰ نبوّت"اُمتی نبی" اور "تابع بنی"کے طور پر تھا جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اب قادیانیوں کو چاہیے کہ یا تو وہ امت مسلمہ کو بے جا چکر میں ڈالے رکھنے کے بجائے نئی نبوّت اور وحی سے دستبردار ہو کر  امت مسلمہ کے متفقہ عقائد پر واپس آ جائیں یا پھر خود کے ایک الگ اور مستقل مذہب کا پیروکار تسلیم کر لیں۔۔
 

بشکریہ اردو کالمز