دنیا میں انسان کو جتنی بھی پریشانیاں آتی ہیں ، وہ دو قسم کی ہوتی ہیں:
1۔پہلی قسم کی پریشانیاں وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قہر اور عذاب ہوتا ہے، یہ گناہوں کی وجہ سےعذاب ہوتاہے، واضح رہے کہ گناہوں کی اصل سزا تو انسان کو آخرت میں ملنی ہے، لیکن بعض اوقات اللہ تعالیٰ انسان کو دنیا میں بھی عذاب کا مزہ چکھادیتے ہیں ،
جیسے قرآن کریم میں ارشاد ہے:
وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ.(السجدہ)
ترجمہ:آخرت میں جو بڑا عذاب آنے والا ہے ہم اس سے پہلے دنیامیں بھی تھوڑا سا عذاب چکھا دیتے ہیں تاکہ یہ لوگ اپنی بداعمالیوں سے باز آجائیں ۔
2۔دوسری قسم کی پریشانیاں وہ ہوتی ہیں جن کے ذریعہ بندے کے درجات بلند کرنے ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں میں فرق کیسے کریں گے، تو علماء کرام قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی چند علامات بیان کی ہیں ، جس سے آزمائش اور عذاب میں فرق واضح ہو جاتا ہے۔
پہلا فرق:
اگر انسان ان تکالیف کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چھوڑدے اور اس تکلیف کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیرکا شکوہ کرنے لگے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے ہوئے احکام چھوڑدے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ جو تکلیف اس پر آئی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس انسان پر قہر، عذاب اور سزا ہے، اللہ تعالیٰ ہرمؤمن کو اس سے محفوظ رکھے، آمین۔
اگر انسان تکالیف آنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر رہا ہے اور دعا کر رہا ہے کہ یا اللہ ! میں کمزور ہوں ، اس تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتا وغیرہ تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ تکلیف اللہ تعالیٰ کی آزمائش ہے جو اس کے لئے اجر و ثواب کا باعث ہیں۔
یعنی عذاب اور آزمائش میں بس اتنا فرق ہے کہ آزمائش میں سجدے طویل ہو جاتے ہیں اور عذاب میں گناہ۔
دوسرافرق:
اگر پریشانیاں بدکاریوں کی وجہ سے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سزا اور عذاب ہے۔
اوراگر پریشانیاں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے نتیجہ میں ہیں ، جیسےکسی سنت رسول ﷺ پر عمل کرنےکی وجہ سے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے تو اس طرح کی پریشانیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہیں۔
انسان کو ہر پریشانی پر اپنے کردار کا محاسبہ کرنا چاہیے، کیونکہ انسان کو جو مصیبت پہنچتی ہے اس کے پیچھے اس کا کوئی عملِ بد کارفرما ہوتا ہے اور جو نعمت ملتی ہے یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ
مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا
ترجمہ:
تمہیں جو کوئی اچھائی پہنچتی ہے تو وہ محض اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جو کوئی برائی پہنچتی ہے، تو وہ تمہارے اپنے سبب سے ہوتی ہے۔
(سورة النساء)
اب ہر انسان اپنا محاسبہ خود کرے کے کرونا آپ کو اگر اب بھی اپنے رب کی بارگاہ میں جھکا نا سکا تو یہ اس شخص پر اللہ کے عذاب کی صورت ہے۔ اگر وہ اپنے رب کی بارگاہ میں جھک گیا تو اس پر یہ رب کی طرف سے آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دونوں صورتوں میں اس وبا سے بچائے اور ماہ صیام کے صدقے ہم پر اپنا خاص فضل و کرم فرمائے۔آمین