ایتھنز صرف ایک شہر کانام نہیں بلکہ انسانی فکر و تہذیب کی تاریخ میں ایک درخشاں سنگِ میل کی حیثیت کا حامل ہے، جس کی دانش بھری فضا میں عقل،جمال اور جمہوریت نے ایک ساتھ نشوونما پائی ، یہاں کے مفکرین اور تخلیق کاروں نے علم و حکمت ، سیاست و معاشرت اور ادب و ثقافت کی ایسی بنیادیں فراہم کیں جو آج بھی مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہیں اور مختلف نظریات کو نئے زاویے فراہم کر رہی ہیں۔
فلسفے کے میدان میں سقراط نے سوال کرنے اور سچ کی جستجو کا ہنر سکھایا،افلاطون نے مثالی ریاست اور علم کے تصورات کو ترتیب دیا جبکہ ارسطو نے منطق،سائنس اور اخلاقیات کو ایک منظم علم کی صورت دی،یہیں سے وہ فکری روایت اٹھی جس نے آنیوالی صدیوں کے علمی سفر کو ایک واضح سمت مہیا کرکے رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیا۔
سیاسی حوالے سے ایتھنز دنیا کی ایسی اولین جمہوری تجربہ گاہ کہی جاسکتی ہے جہاں دانش مند شہری بھی شریک ہوتے اور فیصلہ سازی کیلئے مکالمے کا حصہ بنتے تھے۔ادبی و ثقافتی سطح پر یہاں کے ڈرامہ نگاروں نے انسانی جذبات و احساسات ،المیے اور اخلاقی سوالات کو خوبصورت انداز میں فن کے قالب میں ڈھالا، اس طرح فکری ، جذباتی اور جمالیاتی سطح پر ایتھنز ایک ایسا مرکز بن کر ابھرا جہاں انسان نے خود کو دریافت کرنے،معاشرہ بنانے اور حسن کو بیان کرنے کے نئے اسلوب دریافت کیے۔
اس شہر کی تاریخی عمارتیں ،گلیاں اور درودیوار آج بھی اس بات کی علامت ہیں کہ جب فکر آزاد اور مکالمہ زندہ تو تہذیبیں جنم لیتی ہیں ۔ قبل مسیح کے سقراطی دور کےاسی ایتھنز شہر میں اس وقت کے مشہور شاعر اگاتھون نے اپنے ڈرامے کو پہلا انعام ملنے کی خوشی میں بہت بڑی ضیافت کا اہتمام کیا، محبت کے موضوع پر بات ہو رہی تھی، باری باری سب اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے ، فیڈرس کی باری آئی تو اس کے اس جملے نے گفتگو کا رُخ بدل دیا۔’’محبت سب سے پرانا اور طاقتور دیوتا ہے ،یہ عام نوجوانوں کو ہیرو بنا دیتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ محبوب کی موجودگی میں کوئی محبت کرنے والا بزدلی نہیں دکھا سکتا،دوستو تو مجھے عاشقوں کی فوج دو میں تمہیں دنیا فتح کرکے دکھا دوں گا‘‘۔
رات بیت رہی تھی ، نہ جانے کیسے مشروب پئے جارہے تھے کہ زمینی اور آسمانی حقیقتیں یکجا ہو رہی تھیں۔ مزاحیہ اور سنجیدہ شاعر سب منطقی گفتگو کر رہے تھے ، دیوتا زیوس کے ہاتھوں شروع کے مکمل انسان کا عورت مرد یعنی آدم اور حوا کی صورت تقسیم کرنا بھی زیر بحث آیا اور آرسٹوفینز نے انکے دوبارہ ملاپ کی خواہش کو محبت سے تعبیر کیا۔ رفتہ رفتہ بحث زمینی سے آسمانی محبت کی سمت رخ کر گئی کیونکہ اسی محفل میں سقراط بھی موجود تھا ۔سقراط بولنے لگا تو کائنات تھم گئی ، اس کے چند فقرے سابقہ دلائل کو پاش پاش کرگئے،سقراط نے کہا محبت دراصل انسانی روح کی ملکوتی حسن کیلئے شدید تڑپ اور خواہش کا نام ہے، محبت کرنے والا حُسن کی جستجو اور تمنا ہی نہیں کرتا حُسن کو تخلیق بھی کرتا ہے،فانی بدن میں لافانیت کا بیج بو کر اُسے مٹنے سے بچانے کا طلبگار ہوتا ہے۔ جنسیں اس لئے ایک دوسرے کی چاہت رکھتی ہیں کیونکہ اس طرح وہ اپنے آپ کو نئے سرے سے تخلیق کرتی اور وقت کو طول دیتے ہوئے ابدیت کی طرف لے جانے کی مشتاق ہوتی ہیں۔ والدین کی اولاد سے محبت کے پیچھے بھی یہی جذبہ کار فرما ہے۔محبت کرنے والے والدین کی روح صرف بچوں کو جنم نہیں دیتی بلکہ حسن کی دائمی جستجو میں شامل ہونے والے ساتھی انسان تخلیق کرتی ہے۔ وہ حسن جس کوہم سب محبت کے ذریعے دوام بخشنے کے تمنائی ہیں وہ دانش ،نیکی،احترام ،دلیری، حوصلہ ، برداشت،انصاف اور ایمان ہے اگر ایک اختصار میں کہنا مقصود ہو تو محبت صداقت ہے اور سچائی وہ راستہ جو انسان کو سیدھا خدا کی بارگاہ میں لے جاتا ہے ۔یہ قبل مسیح سے صدیوں پہلے کا مکالمہ تھا ، آج ہزاروں سال گزرنے کے بعد اپنی محفلوں کے فکری عروج یا زوال کے بارے میں ہمیں خود فیصلہ کرنا ہے۔
