13

آٹھ بجے کا انقلاب!

رات آٹھ بجے بازار بند کرنے کے فیصلے سے ہمارے معاشرے میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ فیصلہ اگرچہ بظاہر معاشی مجبوریوں خصوصاً پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کیا گیا، لیکن اسکے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہے بلکہ سماجی اور اخلاقی سطح پر بھی اسکے خوشگوار نتائج سامنے آرہے ہیں۔ رات گئے بلاوجہ بازاروں میں کسی ایک بہانے یا کسی دوسرے بہانے گھومنے پھرنے کی بجائے محسوس کیا جا رہا ہے کہ لوگ اور خصوصاً مرد حضرات اور نوجوان اپنی فیملیز کو زیادہ وقت دے رہے ہیں۔ بہت سی فضول خرچیاں ختم ہو گئیں۔ سب سے پہلے اگر توانائی کے پہلو کو دیکھا جائے تو رات گئے تک کھلے رہنے والے بازاروں کی بندش سے بجلی کے استعمال میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں توانائی کا بحران مستقل مسئلہ رہا ہے، یہ قدم نہایت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ غیر ضروری روشنیاں، دکانوں کی سجاوٹ، اور دیر رات تک جاری رہنے والی تجارتی سرگرمیاں نہ صرف بجلی کے ضیاع کا باعث بنتی تھیں بلکہ مجموعی قومی وسائل پر بھی بوجھ ڈالتی ہیں۔ دنیا دن کی روشنی میں کام کرتی ہے اور ہم رات کو دن اور دن کو رات بنانے میں لگے رہے۔ اس فیصلے کا اصل فائدہ معاشرتی رویوں میں آنے والی تبدیلی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ ماضی میں یہ ایک عام معمول بن چکا تھا کہ لوگ دن کے اوقات میں غیر فعال رہتے اور شام کے بعد زندگی کا آغاز ہوتا۔ بازار رات گئے تک آباد رہتے، اور بے مقصد گھومنا پھرنا، دوستوں کے ساتھ دیر تک بیٹھکیں لگانا، اور غیر ضروری مصروفیات زندگی کا حصہ بن گئی تھیں۔ اس طرزِ زندگی نے نہ صرف خاندانی نظام کو متاثر کیا بلکہ صحت اور نظم و ضبط پر بھی منفی اثرات ڈالے۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ لوگ جلدی خریداری مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، گھروں کو جلد لوٹ آتے ہیں اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کا رجحان بڑھا ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر چھوٹی لگتی ہے، لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ خاندان مضبوط ہوتے ہیں، بچوں پر مثبت اثر پڑتا ہے اور معاشرے میں ایک سنجیدگی اور توازن پیدا ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ممالک میں بازار اور کاروباری مراکز ایک مقررہ وقت پر بند ہو جاتے ہیں۔ وہاں زندگی ایک نظم کے تحت چلتی ہے، جہاں دن کام کیلئےاور رات آرام کیلئے مخصوص ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں ایک الٹی روایت پروان چڑھ چکی تھی، جس میں دن کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا اور رات کو غیر ضروری سرگرمیوں میں گزارا جاتا تھا۔ یہ نہ صرف غیر پیداواری تھا بلکہ سماجی بگاڑ کا سبب بھی بن رہا تھا۔

دینی نقطۂ نظر سے بھی اس معاملے پر غور کیا جائے تو رات کو آرام اور سکون کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ فطری نظام بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے کہ انسان دن میں محنت کرے اور رات کو سکون حاصل کرے۔ جب ہم اس ترتیب کو الٹ دیتے ہیں تو اس کے منفی اثرات لازماً سامنے آتے ہیں، چاہے وہ جسمانی ہوں، ذہنی یا روحانی۔ یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آتی ہے خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی صورت میں تو ہماری حکومتیں دوبارہ پرانے معمولات کی طرف لوٹ سکتی ہیں۔ لیکن یہاں اصل سوال نیت اور پالیسی کے تسلسل کا ہے۔ کیا ہم ہر اچھے قدم کو وقتی مجبوری سمجھ کر چھوڑ دیں گے، یا اسے مستقل بہتری میں بدلنے کا عزم کریں گے؟ حکومت کیلئے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اس پالیسی کو عارضی کے بجائے مستقل بنیادوں پر نافذ کرے۔ اس کیلئے تاجر برادری سے مشاورت، عوامی آگاہی، اور متبادل سہولیات فراہم کرنا ضروری ہوگا، تاکہ کسی طبقے کو غیر ضروری نقصان نہ پہنچے۔ اگر یہ قدم حکمت اور تدبر کے ساتھ اٹھایا جائے تو نہ صرف توانائی کی بچت ممکن ہے بلکہ معاشرتی اصلاح کا ایک نیا باب بھی کھل سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کسی بھی قوم کی ترقی صرف معاشی اشاریوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کے معاشرتی رویوں، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ رات آٹھ بجے بازار بند کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک انتظامی اقدام ہے، مگر درحقیقت یہ ہمارے طرزِ زندگی کو درست سمت دینے کی ایک سنجیدہ کوشش بن سکتا ہے بشرطیکہ ہم اسے وقتی نہیں بلکہ مستقل اصلاح کے طور پر اپنائیں۔

بشکریہ ڈان ںیوز