14

پاکستان کا بطور ثالث سفارتی کردار

عالمی تعلقات کے موجودہ دور میں ریاستوں کی حیثیت صرف عسکری قوت یا معاشی طاقت نہیں بلکہ سفارتی اور عالمی امن کیلئے ان کے کردار سےدیکھی اور باور جاتی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم اور مثبت تبدیلی سامنے آئی ہے جس میں پاکستان ایک بحران زدہ ریاست کے تاثر سے نکل کر امن اور مصالحت کے ابھرتے کردار کے طور پر عالمی سطح پر اپنی شناخت منوارہا ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان کو دہشت گردی اور خطے کے جغرافیائی تنازعات کا سامنا رہا ہے لیکن موجودہ حکومت نے حالیہ چند برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کے رجحانات میں واضح تبدیلی کی ہے جس میں تصادم کے بجائے ڈائیلاگ اور کشیدگی کے بجائے سفارتکاری کو مرکزی اہمیت دی جارہی ہے۔ یہی رجحان پاکستان کی نئی سفارتی شناخت کی بنیاد بن رہا ہے جس میں پاکستان اپنی سفارتی پالیسیوں کو تسلسل اور طویل حکمت عملی کے ذریعے مستحکم کررہاہے۔ ان اقدامات سے ہمیں کئی دور رس فوائد حاصل ہوسکتے ہیں جس سے امن کے علمبردار کی حیثیت سے پاکستان کا دنیا میں سافٹ امیج ابھرے گا، عالمی سطح پر پاکستان کا رسک پروفائل کم ہوگا جس سے توانائی، انفراسٹرکچر، معدنیات، ٹیکنالوجی، آئل اور گیس سیکٹر اور آئل ریفائنری کے شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک،ایشین ڈویلپمنٹ بینک، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک اور آئی ایف سی سے مالی مدد حاصل کرنا آسان ہوگا۔ پاکستان کو اقوام متحدہ ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) جیسے عالمی فورمز پر زیادہ موثر لیڈرشپ ملے گی اور پاکستان علاقائی تنازعات میں ایک کامیاب سہولت کار کے طور پر ابھرے گا۔خطے کے ممالک دفاعی ساز و سامان کے حصول کی دوڑ میں اپنے وسائل جھونک دینا چاہتے ہیں۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ اندرونی طور پر دہشت گردی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی اور ہم بہتر طور پر اپنے وسائل ترقیاتی منصوبوں میں استعمال کرسکیں گے۔ پاکستان جغرافیائی طور پر وسط ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک تجارتی اور لاجسٹک حب بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود بدقسمتی سے پاکستان کا چینی، خوردنی تیل اور دیگر فوڈ آئٹمز کا گزشتہ سال امپورٹ بل 7 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔ زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کراکے ہم اپنے ملک اور خطے میں فوڈ سیکورٹی فراہم کرسکتے ہیں۔ حالیہ ایران، امریکہ تنازع میں دنیا نے گوادر پورٹ کی اہمیت کو محسوس کیا ہے جسکی مثال ہزاروں اضافی کنٹینرز کی گوادر پورٹ شپمنٹ اور منتقلی ہے۔ کامیاب قومیں حالات سے سیکھ کر اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ پاکستان کو بھی حالیہ جنگ میں آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل اور گیس کی سپلائی میں مشکلات سے سیکھنا چاہئے کہ ہم زیادہ سے زیادہ متبادل توانائی پر منتقل ہوں۔ شمسی توانائی (سولر)، پانی (ہائیڈرو)، ہوا (ونڈ پاور)، کوئلے اور نیوکلیئر سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو فروغ دینا ہوگا۔ ان ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کیلئے ہمیں تیل اور گیس امپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ قدرتی وسائل ہیں اور مقامی طور پر دستیاب ہیں۔ ملک میں سولر انرجی کی پیداوار میں وسعت حیرت انگیز ہے جس میں صارفین نے سستی بجلی حاصل کرنے کیلئے اپنے وسائل سے گھروں پر سولر پینلز نصب کئے اور آج حکومت سولر انرجی کی وسعت کو روکنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ نیشنل گرڈ پر حکومت کی اضافی بجلی استعمال کی جاسکے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل اور ایران سے سستا تیل خریدنے کی امریکی رضامندی کی خواہش غیر مناسب نہیں مگر اس وقت ہمارے ثالثی کردار کی وجہ سے مناسب نہیں لیکن ہمیں ان اقدامات کو اپنی ترجیحات میں رکھنا ہوگا جو سفارتکاری کو ملکی معاشی بہتری اور عوامی ریلیف میں تبدیل کرسکتی ہیں۔

گزشتہ دنوں کراچی اور اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی، وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر اور ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال کو میں نے تجویز دی کہ ان پاکستانیوں ،جو ملک میں امن و امان کی صورتحال یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنا سرمایہ بیرون ملک لے گئے تھے، کو اپنا سرمایہ پاکستان واپس لانے کا موقع دیا جائے کیونکہ ان کا پیسہ اپنے ملک میں ہی زیادہ محفوظ ہے جس کا انہیں اب احساس ہوچکا ہے۔ میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو عالمی سطح پر پاکستان کو عزت وقار اور مرتبہ دلانے میں ان کی انتھک کوششوں اور کامیاب سفارتکاری پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس سلسلے میں صدر مملکت آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رہنمائی اور اتحادی کی حیثیت سے پیپلزپارٹی کا حکومت سے تعاون بھی قابل ستائش ہے۔ پاکستان سفارتی طور پر خطے کا ایک اہم ملک بن چکا ہے جبکہ بھارت اس معاملے میں غیر متعلق ہوچکا ہے۔ اب ہمیں پاکستان کو معاشی لحاظ سے مضبوط کرنا ہوگا اور امریکی مارکیٹ میں مزید ٹیرف کم کرواکے اضافی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کی سپورٹ سے جی ایس پی پلس معاہدے کی تجدید بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہونی چاہئے جو ملکی معاشی ترقی کیلئے نہایت اہم ہے۔

بشکریہ ہم سب