پاکستان میں بہنے والے دریا لاکھوں سال سے بہتے ہوئے زندہ داستان کی مثال ہیں
پاکستان کی معیشت ایک ایسے پہیے کی مانند ہے جو بجلی کے بغیر گھوم نہیں سکتا، کیونکہ جب کارخانہ رک جاتا ہے تو برآمدات میں کمی ہو جاتی ہے، ڈالرز کی کمی ہو جاتی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو جاتے ہیں، معیشت کمزور ہو جاتی ہے اور یوں ملک قرضوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ حال ہی میں شائع شدہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں اکیاسی ہزار ارب روپے کا قرض ہونے کے باعث ہر شہری سوا تین لاکھ روپے کا قرض دار بن چکا ہے۔ ایک بات ہے کہ حکمران ہمیں یاد رکھیں نہ رکھیں لیکن قرض دینے والوں کو یہ عوام کی غربت، مجبوری کا احساس ہوتا ہے لہٰذا وہ جب بھی قرض دیتے ہیں حکومت قرض دار کا نام پاکستانی عوام ہی لکھواتی ہے۔
اسی لیے اسے پورے پاکستانی عوام کے مشترکہ کھاتے کے تحت جب تقسیم کیا گیا تو فی شہری سوا تین لاکھ کا مقروض نکلا۔ہماری بجلی کی پیداوار کا مسئلہ بھارت کے منفی جابرانہ اور غیر منصفانہ رویے سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت نے ہمارے تمام دریاؤں پر اپنا کنٹرول بڑھا لیا ہے اور جب پانی رک جاتا ہے تو صرف کھیت ہی نہیں سوکھتے معیشت بھی سوکھ جاتی ہے اور پاکستان اپنی معیشت کی جنگ گولیوں سے نہیں پانی سے لڑ رہا ہے اور بھارت آبی دہشت گردی کو اپنے حق میں خوب استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان میں بہنے والے دریا لاکھوں سال سے بہتے ہوئے زندہ داستان کی مثال ہیں، کیونکہ یہ دریا کسی نقشے پر کھنچی ہوئی لکیر نہیں بلکہ وہ ایک سانس لیتا ہوا وجود ہے جو پہاڑوں کی گود سے نکلتا ہے، میدانوں کی پیشانی کو چومتا ہے۔ پنجاب کے دریاؤں کی سندھو دریا سے محبت کی کہانی بے مثال بھی ہے اور لازوال بھی ہے۔
یہ پنج آب، پنجند کے مقام پر اکٹھے ہوتے ہیں اور پھر سمندر میں جانے سے پہلے دریائے سندھ کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ دریا ہیں جو اپنے آخری مقام سے پہلے ہزاروں میل دور برف پوش پہاڑوں کے بیچ ایک ننھی سی دھار کی صورت جنم لیتے ہیں اور یہ دھار آگے چل کر دریا کی شکل اختیار کر لیتی ہے جو کھیتوں کو سیراب کرتا ہے۔ اس پر بند باندھ کر ڈیمز تعمیر کرکے سستی ترین بجلی حاصل کرتے ہیں جو شہروں اور دیہاتوں کو زندگی دیتا ہے لیکن جب ہم ان دریاؤں کو صرف پانی سمجھ لیتے ہیں تو ان کی روح کو کھو دیتے ہیں جس سے کھیت پیاسے رہ جاتے ہیں، بجلی کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب مقدر میں لکھ دیے جاتے ہیں۔
پاکستان کی طرف آنے والے تمام دریا جو ہمیں پانی دیتے ہیں، زمین کو زرخیز بناتے ہیں، زندگی کو آگے بڑھاتے ہیں مگر بھارت کی آبی دہشت گردی کے باعث یہ دریا ہم سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں اس کے بوند بوند پانی کو ہم ترس رہے ہیں، ہمارے کھیت کھلیان ان کی راہ تک رہے ہیں۔ پاکستان میں پانی کے ذریعے بجلی کی پیداوار صرف 27 فی صد ہے اور دیگر مہنگے ذرائع سے بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔ 1994 میں جب آئی پی پیز نے پاکستان میں قدم رکھا تو ہم نے مہنگے معاہدے کیے، خطے کے دیگر ممالک نے ہم سے کہیں سستے نرخوں پر معاہدے کیے بس جب سے ہماری بجلی مہنگی سے مہنگی ہوتی چلی جا رہی ہے۔دوسرا اہم سبب یہ ہے کہ جب سے ہم آئی ایم ایف کے ساتھ جڑے ہیں اس کی طرف سے پہلا نسخہ ہی یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ بجلی کے نرخ بڑھاؤ۔ اب ان سب باتوں کا یہ نتیجہ نکل رہا ہے کہ بجلی مہنگی ہوتی چلی جا رہی ہے۔
ان دنوں مہنگائی 12 فی صد نوٹ کی جا رہی ہے۔ بجلی کے نرخ میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ گیس مہنگی کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف یہ خبر بھی سامنے آگئی ہے کہ کوہاٹ کے علاقے میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دریافت پاکستان کے توانائی بحران کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے، لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ماضی کی کئی دریافتوں کی طرح فائلوں، بیوروکریسی اور تاخیری حربوں کے اندھیروں میں نہ گم ہو جائے، اگر یہ منصوبہ شفافیت کے ساتھ آگے بڑھا تو درآمدی بل میں کمی ہوگی، صنعتی پہیہ تیز ہوگا، یہ دریافت ہمیں ایک موقع دے رہی ہے کہ اپنی پالیسیوں کو بہتر سے بہتر بنائیں اور اس ملک کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف لے کر جائیں۔
کوہاٹ کی زمین نے تو اپنا خزانہ دے دیا ہے اب یہ حکومت پر منحصر ہے کہ کتنی جلدی ان ذخائر سے قوم کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ ورنہ اس طرح کے اعلانات پہلے بھی ہوتے رہے اور بڑے بڑے دعوے بھی کیے جاتے رہے لیکن ملک میں تیل اور گیس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں دیکھا جاتا ہے، اگرچہ اس کنویں کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ حکومت نے اپنی زبردست سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے اور پیداوار میں اضافے کے لیے متحرک ہو چکی ہے۔ امید ہے کہ ملک کی توانائی کی ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
