57

 میری سی ایم پنجاب ،مزدور دوست پالیسیوں سے سماجی انصاف تک


حکمرانی کا اصل امتحان بڑے منصوبوں کے افتتاح میں نہیں بلکہ اس بات میں پوشیدہ ہوتا ہے کہ ریاست اپنے کمزور طبقات کے ساتھ کتنا کھڑی ہے۔ ''میری سی ایم پنجاب'' محض ایک جذباتی عنوان نہیں بلکہ ایک عوامی توقع ہے،ایسی توقع جو مزدور کے پسینے کو عزت، محنت کو تحفظ اور خدمت کو اعتراف دلوانے کی خواہاں ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جس انداز میں عوامی فلاح کو حکومتی ترجیحات کا محور بنایا، وہ اس امر کا ثبوت ہے کہ پنجاب میں سماجی تحفظ کے تصور کو وسعت دی جا رہی ہے۔پنجاب کی معیشت کا انحصار صنعتی، زرعی اور خدماتی شعبوں سے وابستہ لاکھوں محنت کشوں پر ہے۔ کم از کم اجرت میں اضافہ، لیبر قوانین پر عملدرآمد کی سختی، اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تحت رہائشی اسکیموں کی بحالی جیسے اقدامات مزدور دوست طرزِ حکمرانی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حکومت نے نہ صرف کم از کم اجرت کے نفاذ کو یقینی بنانے کی بات کی بلکہ اس پر عملدرآمد کے لیے مانیٹرنگ نظام کو بھی فعال کیا تاکہ نجی شعبے میں استحصال کا دروازہ بند کیا جا سکے۔اسی طرح سوشل سکیورٹی کے دائرہ کار کو بڑھانے، مزدوروں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے علاج معالجے کی سہولیات بہتر بنانے اور جدید طبی آلات کی فراہمی جیسے اقدامات قابلِ ذکر ہیں۔ صنعتی علاقوں میں سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، ادویات کی دستیابی اور طبی عملے کی تعیناتی میں بہتری نے مزدور طبقے کو ایک عملی ریلیف فراہم کیا ہے۔ یہ احساس کہ ریاست ان کی صحت کی ذمہ دار ہے، مزدور کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔تعلیم کے شعبے میں بھی مزدوروں کے بچوں کے لیے وظائف اور اسکالرشپس میں اضافہ کیا گیا۔ ہنر مندی کے پروگرامز اور ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز کے قیام سے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ خواتین مزدوروں کے لیے خصوصی اقدامات، محفوظ ورکنگ ماحول اور ہراسگی کے خلاف سخت پالیسی بھی حکومت کی سنجیدہ سوچ کا مظہر ہیں۔ دیہی مزدوروں اور زرعی محنت کشوں کے لیے مالی معاونت اور رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانا بھی اسی وژن کا حصہ ہے۔یہ تمام اقدامات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مزدور کو صرف ووٹر نہیں بلکہ ریاستی ترقی کا شراکت دار سمجھتی ہیں۔ لیکن ایک ذمہ دار قلمکار کا فرض ہے کہ وہ تصویر کا دوسرا رخ بھی اجاگر کرے،وہ رخ جو ابھی توجہ کا منتظر ہے۔لاہور کے پانچ تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتالوں کے ملازمین اس وقت شدید بے چینی کا شکار ہیں۔ یہ وہ ادارے ہیں جو شہری اور نیم شہری آبادی کو بنیادی اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں تعینات نرسز، لیڈی ہیلتھ ورکرز، وارڈ بوائز، لیبارٹری ٹیکنیشنز، ایکسرے اسسٹنٹس اور دیگر معاون عملہ دن رات عوامی خدمت میں مصروف رہتا ہے۔ ایمرجنسی کی کال ہو یا وبائی صورتحال، یہی لوگ سب سے پہلے صفِ اول میں کھڑے ہوتے ہیں۔افسوسناک امر یہ ہے کہ انہیں متعدد مزدور فلاحی اسکیموں میں شامل نہیں کیا گیا۔ نہ انہیں کسی خصوصی الاؤنس کا خاطر خواہ فائدہ ملا اور نہ ہی گزشتہ تین برس سے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا۔ مہنگائی کی موجودہ لہر میں جب یوٹیلیٹی بلز، تعلیمی اخراجات اور روزمرہ ضروریات کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں، ایسے میں تنخواہوں کا جمود ان کے لیے معاشی مشکلات کو دوچند کر رہا ہے۔یہ مسئلہ محض تنخواہ کا نہیں بلکہ پیشہ ورانہ وقار کا بھی ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ یہ کارکن دراصل پنجاب کے عوام کی جان و مال کے محافظ ہیں۔ اگر وہ مالی دباؤ، عدم تحفظ اور نظراندازی کا شکار ہوں گے تو اس کے اثرات براہِ راست عوامی خدمت کے معیار پر مرتب ہوں گے۔ ایک مطمئن اور باوقار طبی عملہ ہی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سے مودبانہ اور مخلصانہ گزارش ہے کہ لاہور کے ان پانچ ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کے ملازمین کی صورتحال کا خصوصی جائزہ لیا جائے۔ انہیں بھی مزدور فلاحی پروگرامز، ہیلتھ الاؤنس، مہنگائی الاؤنس اور دیگر حکومتی مراعات میں شامل کیا جائے۔ تنخواہوں پر نظرثانی کر کے گزشتہ برس سے زیرِ التواء اضافہ فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ اگر صنعتی مزدور کے لیے سوشل سکیورٹی ناگزیر ہے تو طبی مزدور کے لیے بھی معاشی تحفظ اتنا ہی ضروری ہے۔مزید برآں، صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع، تربیتی پروگرامز اور کارکردگی پر مبنی
 مراعات متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کا حوصلہ بلند ہوگا بلکہ صحت عامہ کا نظام بھی مضبوط ہوگا۔ حکومت اگر ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور شفافیت کے نظام کو ان ہسپتالوں تک وسعت دے تو وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔''میری سی ایم پنجاب'' سے عوام کی یہی امید ہے کہ وہ کسی بھی طبقے کو محرومی کا احساس نہیں ہونے دیں گی۔ مزدور چاہے فیکٹری میں کام کرتا ہو، کھیت میں ہل چلاتا ہو یا ہسپتال میں مریض کی تیمارداری کرتا ہو،وہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سماجی انصاف کا تقاضا ہے کہ فلاحی اسکیموں کا دائرہ وسیع ہو اور ان تک رسائی میں کسی قسم کی تفریق نہ ہو۔آج پنجاب ترقیاتی منصوبوں، انفراسٹرکچر کی بہتری اور سماجی بہبود کے نئے سفر پر گامزن ہے۔ اس سفر کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ہر مزدور خود کو اس ترقی کا حصہ محسوس کرے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے جس عزم کے ساتھ خدمت کا آغاز کیا ہے، امید ہے وہ اسی سنجیدگی سے ان طبی ملازمین کی آواز بھی سنیں گی اور فوری عملی اقدامات کے ذریعے ان کی دادرسی کریں گی۔کیونکہ ایک مضبوط، صحت مند اور خوشحال پنجاب کی بنیاد صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ اس مزدور کے اعتماد سے استوار ہوتی ہے جو اپنے پسینے سے ریاست کی دیواریں مضبوط کرتا ہے۔ اگر مزدور مطمئن ہوگا تو پنجاب مستحکم ہوگا،اور یہی ایک فلاحی ریاست کی اصل پہچان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بشکریہ اردو کالمز