186

     انسانیت ابھی مکمل دفن نہیں ہوئی

ٔوقت کے بے رحم سمندر میں کچھ کہانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو لفظوں سے نہیں، بلکہ آنکھوں سے لکھی جاتی ہیں۔ آج کا دن تھانہ کاہنہ کی دیواروں پر ثبت ایک ایسی ہی کہاقنی کا گواہ بن گیا۔کہانی ایک مجبور باپ کی، ایک اجڑتے خواب کی، اور کچھ غیرت مند انسانوں کی جو آج بھی دیے کی مانند جلتے ہیں، روشنی بانٹتے ہیں۔ کہانی کا آغاز ایک درد بھری کال سے ہوا۔ صدر صواآصل پریس کلب، محترم منیر احمد بھٹی صاحب نے رابطہ کیا۔ ان کی آواز میں اضطراب کی لہر تھی، وہ اضطراب جو کسی سچے درد کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: "آج ایک بوڑھے باپ کی آہیں آسمان چیر رہی ہیں، ہمیں تھانہ کاہنہ جانا ہوگا۔" ہم بروقت تھانہ کاہنہ پہنچے۔تھانے میں ایس ایچ او ناصر حمید اپنی کرسی پر رعب اور وقار کے ساتھ جلوہ افروز تھے۔ مگر ان کی شخصیت کے پس پردہ چھپی ہوئی شفقت، ان کی آنکھوں میں اترتی ہوئی انسانیت اور دل میں دھڑکتی ہمدردی پہلی ہی نظر میں عیاں ہو رہی تھی۔ یہ وہ سپاہی نہیں تھے جو فقط طاقت کی زبان بولتے ہیں؛ یہ وہ دردمند انسان تھے جو انصاف کو صرف قانونی دفعات میں نہیں، بلکہ دلوں کے زخموں میں تلاش کرتے ہیں۔ تحقیق کا آغاز ہوا تو کہانی دل چیر دینے والی نکلی۔ اٹھارہ برس پہلے ایک میاں بیوی کے راستے جدا ہو گئے تھے۔ اولاد ماں کے ساتھ نانا جان کے گھر چلی گئی، جہاں وقت نے ان کو پروان چڑھایا۔ باپ کہیں دور تنہائیوں میں جی رہا تھا، لیکن دل میں اولاد کی محبت کا چراغ ہمیشہ روشن رکھا۔برسوں بعد، حالات نے اجازت دی تو باپ نے اپنی تمام محبت اور ہمدردی کو ایک مکان کی شکل میں ڈھال دیا۔ ایک چھت دی تاکہ بیٹا اور بیٹی عزت سے زندگی گزار سکیں، در بدر نہ ہوں۔ مگر وقت نے ایسا تلخ رنگ دکھایا کہ وہی اولاد جس کے لیے باپ نے اپنے خوابوں کی قربانی دی، اپنے سائے میں پناہ دی، آج اسی باپ کو بیدردی سے گھر سے نکال چکی تھی۔ باپ کی آنکھوں میں نمی تھی، الفاظ بوجھل تھے، اور دل ٹوٹا ہوا تھا۔ایس ایچ او ناصر حمید نے اس درد بھری کہانی کو سنا تو ان کے چہرے پر سنجیدگی کے سائے گہرے ہو گئے۔ انہوں نے فوری طور پر ایک معتبر قانون دان سے رابطہ کیا تاکہ قانون کے مطابق رہنمائی حاصل کی جا سکے۔ یہ عمل ظاہر کرتا تھا کہ وہ انصاف کے تقاضے جذبے یا روایتی عمل سے نہیں، بلکہ قانونی بصیرت اور ذمہ داری کے ساتھ پورا کرنا چاہتے ہیں۔ قانون دان سے مشورہ لینے کے بعد ناصر حمید نے باوقار انداز میں فیصلہ کیا کہ پہلے مصالحت کی سنجیدہ کوشش کی جائے گی تاکہ اس باپ کو اس کی عزت اور چھت واپس ملے، اور اگر صلح کی راہ نہ نکلی تو قانون کی پوری طاقت بروئے کار لائی جائے گی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دل میں امید کا ایک دیا روشن ہوا کہ جب معاشرہ بے حسی کی گھاٹی میں اتر جائے تو بھی کہیں کہیں دیانتدار کردار انسانیت کے چراغ جلائے رکھتے ہیں۔یہاں یہ بھی نہ بھولنا چاہیے کہ اس ساری جدوجہد کی پہلی کرن محترم منیر احمد بھٹی صاحب تھے۔ وہی صحافی جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات سے بالاتر ہو کر درد کی پکار پر لبیک کہا۔ ان کی حساسیت اور انسان دوستی نے ایک ایسا معاملہ اجاگر کیا جو بظاہر ایک فرد کی اذیت تھی مگر درحقیقت پورے معاشرے کی بے حسی کی عکاسی کر رہا تھا۔ منیر احمد بھٹی کا کردار یہ پیغام دیتا ہے کہ صحافت ابھی ختم نہیں ہوئی، کہ حق گوئی کے علمبردار آج بھی زندہ ہیں، اور وہ ہر اس جگہ موجود ہیں جہاں ظلم کو بے نقاب کرنا ہو، مظلوم کی آواز بننا ہو۔مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اس بوڑھے باپ پر دکھوں کے پہاڑ تب ٹوٹے جب گھر سے نکالے جانے کے بعد مسلسل صدموں، محرومیوں اور دربدر کی ٹھوکروں نے اس کے جسم کو مفلوج کر دیا۔ فالج کا جان لیوا حملہ اس کی ہڈیوں کو توڑ گیا۔ آج وہ بیمار، بیکس اور ناتواں باپ، کرائے کے کمروں میں در بدر ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ ہر در پر دستک دیتا ہے، مگر انصاف کی منزل ابھی دور ہے۔ مگر امید کا دیا بجھا نہیں ہے، کیونکہ ایسے فرض شناس اور درد دل رکھنے والے سپاہی جیسے ناصر حمید، اور ایسے زندہ ضمیر والے صحافی جیسے منیر احمد بھٹی موجود ہیں۔تھانہ کاہنہ کی دیواریں، فرش اور چھتیں شاید اس دن یہ گواہی دے رہی تھیں کہ انسانیت ابھی مکمل دفن نہیں ہوئی۔ ابھی بھی کچھ دل دھڑکتے ہیں جو انصاف، سچائی اور انسان دوستی کے لیے تڑپتے ہیں۔ واپسی پر دل میں ایک دعا تھی، جو بار بار لبوں پر آتی رہی: اے خدا! ہمارے دلوں کو والدین کی محبت اور شکرگزاری سے بھر دے۔ ہمیں ایسی نسلیں عطا کر جو والدین کی خدمت کو اپنی کامیابی اور فخر سمجھیں۔ ہمیں ایسے سپاہی اور صحافی عطا کر جو سچائی اور انسانیت کے محافظ ہوں، جو امید کے چراغ ہر اندھیرے میں روشن رکھتے ہوں۔یہ کہانی صرف ایک بوڑھے باپ کی نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ایک تلخ یاد دہانی کہ محبت کے بیج وہی بوتے ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ یہ فصل دعاوں میں لوٹتی ہے۔ مگر جو مفاد اور بیوفائی کے بیج بوتے ہیں، وہ تنہائی، بیماری اور مایوسی کی فصل کاٹتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
 

بشکریہ اردو کالمز