گزشتہ ہفتہ بہت ہی عزیز جناب ابوبکر صدیق صاحب کی طرف سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا۔پنجاب سول آفیسر میس میں ایک عمدہ تقریب میاں مشتاق جاوید صاحب ،جو اخوت فاؤنڈیشن فلوریڈا کے سربراہ ہیں،کے اعزاز میں منعقد ہو رہی تھی۔تقریب کے میزبان معروف سماجی شخصیت ،بانی و چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن جناب ڈاکٹر امجد ثاقب تھے۔ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے معززین تشریف فرما تھے ۔ڈاکٹر صاحب نے مختصر خطاب میں اخوت فاؤنڈیشن کی عظیم خدمات کو سمیٹنے کی کوشش کی اور مسقبل کے منصوبہ جات کی تفصیل بھی بیان کی ۔میاں مشتاق جاوید کی خدمات کا تذکرہ کیا اور میاں صاحب کو دعوت گفتگوبھی دی۔ میاں صاحب نے بڑی پر مغز اور ایماں افروز گفتگو کی ، ذاتی زندگی سے چند واقعات سنائے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کی ترقی کا راز خدمت خلق میں پوشیدہ ہے۔ میاں صاحب درد دل رکھنے والے پاکستانی اور ایک طویل عرصہ سے دیار غیر میں مقیم ہیں لیکن ان کا دل پاکستانی عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے۔اخوت کے پلیٹ فارم سے ملک عزیز کے مکینوں کے لیے بہت کچھ کر رہے ہیں اور بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان کے ساتھ تشریف لائے ڈاکٹر محمد ایوب صاحب بھی بہت عظیم انسان ہیں جو اپنی مال ومتاع اللہ پاک کی رضا کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں ۔سچ یہی ہے کہ بہت سے پاکستانی اپنے روشن مسقبل کے لیے تارک وطن ہوئے،اپنی دن رات کی محنت سے دیار غیر میں کامیابیوں کی داستاں رقم کی ، ملک عزیز کا نام روشن کیا ۔انتہائی مصروف زندگیوں میں وہ ہم وطنوں کو نہیں بھولے ۔ خدمت خلق کے منصوبہ جات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔یہ عظیم لوگ ہیں ۔اگرچہ ان کا یہ جذبہ دکھلاوے کے لیے نہیں لیکن سماجی تنظیموں کو ان کی خدمات کا تعارف کروانا چاہیے۔
جناب عبدالرزاق ساجد کا شمار بھی ان فرشتہ صفت افراد میں ہوتا ہے جو دن رات انہی عظیم مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہیں۔آپ المصطفیٰ ٹرسٹ کی روح رواں ہیں۔ بابرکت نام والے اس عظیم ادارہ کی خدمت خلق کے بہت سے شعبوں میں دنیا بھر میں اتنی خدمات ہیں کہ ان پر بلامبالغہ ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔
حالیہ سیلاب میں جس جوش ، جذبہ اور جنون کے ساتھ یہ تنظیم اور اس کے اراکین اپنا آرام اور سکون قربان کر کے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف رہے اس کی مثال نہیں ملتی۔عبدالرزاق ساجد صاحب انگلستان کی پر سکون اور پرتعیش طرز زندگی کو ترک کر کے پاکستان اور دیگر ممالک میں آفت زدہ علاقوں میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔گزشتہ روز المصطفیٰ رسٹ کے مرکزی دفتر میں سیلاب متاثرین کے دکھ درد بانٹنے والے عظیم کارکنوں کے اعزاز میںتقریب تھی۔راقم سطور داتا کے نگر میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے محروم رہا۔ معروف دانشور اورسماجی کارکن جناب محمد نواز کھرل کا شکریہ جن کی نوازشوں سے ٹرسٹ کی عمدہ تقریب کا حصہ بننے کی سعادت نصیب ہو جاتی ہے۔
پیارے پڑھنے والے خدمت خلق اسلام کا طرہء امتیاز ہے۔اسلامی تعلیمات میں خدمت خلق پر بہت زور دیا ۔اسی لیے اسلام کو دین رحمت بھی کہا جاتا ہے اور کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو ر حمت اللعمین یعنی تمام جہانوں کے لیے رحمت کہا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے سہاروں کا سہارا تھے کمزوروں اور ضعیفوں کا بوجھ اٹھاتے ، فاقہ کشوں کو کھانا کھلاتے یہاں تک کہ جانوروں کا بھی خیال رکھتے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بھی خدمت خلق کی تلقین فرمائی۔ فرمایا تم زمین والوں پر رحم کرو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا ، فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں فرماتا جو دوسرے انسانوں پررحم نہیں کرتا اور یہ بھی فرمایاکہ تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جس سے لوگوں کو نفع پہنچے ۔ شاعر نے ان اسلامی تعلیمات کو خوبصورتی کے ساتھ ایک شعر میں بیان کر دیا کہ
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے تو بات ہی ختم کر دی کہ
تو کز محنت دیگران بی غمی
نشایت کہ نامت نہند آدمی
ترجمہ ہے کہاے انسان اگر تمہیں دوسروں کے غم کا احساس نہیں ہے تو تجھے اپنے آپ کو انسان کہنے کا کوئی حق نہیں۔شیخ سعدی نے ایک حکایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ایک آدمی حجاز مقدس کے سفر میں ہر قد م پر دو رکعت نماز پڑھتا تھا ۔وہ اس عبادت کے طریقہ میں اتنا مگن تھا کہ بیابان کے کانٹے بھی اپنے پیروں سے نہیں نکالتا تھا۔ایک دن غیب کے ایک فرشتہ نے آواز دی کہ کے اے نیک انسان، اے پاک فطرت انسان بطور احسان اور بخشش کسی کے دل کو خوش کرناہر قدم پر ہزاروں سجدوں سے بہتر ہے۔
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
خدمت خلق ایک مقدس جذبہ ہے اور بڑی سعادت بھی ۔خوش نصیب ہیں وہ افرد جن کے اندر یہ جذبہ موجزن ہے۔ جن کے اندر ابھی تک یہ جذبہ بیدار نہیں ہوا تو وہ خالق کائنات سے اس جذبہ کی سچے دل سے طلب کریں۔دور حاضرمیں مملکت خداداد میں اس کی بہت ضرورت ہے۔