270

کس کس کو بتایا؟

ہیروں کی خریداری اور چوری کی قصہ گوئی میں جو بات بار بار پوچھی گئی اور کئی لوگوں نے پوچھی۔
آپ نے صاحب کو اس واقعے کے متعلق بتایا کہ نہیں؟ بتایا تو کیا بتایا؟ اور ان کا ردعمل کیا تھا؟

 

وہ رات ہمارے لیے بہت مشکل تھی، باجی ہمیں تسلی تو دے چکی تھیں مگر پھر بھی بار بار دل ٹھہر سا جاتا۔ آہ اتنا زیور اور اتنا روپیہ۔ ایک معمولی میڈیکل افسر ، پدرم سلطان بود بھی نہیں اور شوہر و سسرال بھی متوسط۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور خیال۔ صبح سفر پہ نکلنا ہے، حیدرآباد جا کر صاحب کے ساتھ کچھ دن گزارنے ہیں جو ایک مشکل کورس کی پڑھائی میں مشغول ہیں۔ ڈسٹرب ہو جائیں گے۔

 

مگر ہم بھی تو نقصان کے غم سے بے حال ہیں۔ اپنی بے وقوفی پہ غصہ بھی بہت ہے کہ کیسے لٹ گئے ایک عام سی جاہل عورت کے ہاتھوں۔ ناراض ہیں ہم اپنے آپ سے کہ کیا ہوئی ہماری ذہانت، حاضر جوابی، فیصلہ کرنے کی اہلیت، اعتماد، زمانے سے ٹکرا جانے کا شوق، چھٹی حس اور کچھ غیر معمولی بھانپنے کا وصف۔ کیا ہوا وہ سب؟

کیوں لائے اسے اپنے کمرے میں؟ کیا ضرورت تھی کڑھائیاں دیکھنے کی۔ اتنے بے شمار کپڑے تو پہلے سے بنوا کر رکھے ہیں۔ کیوں اس کی فالتو باتیں سُنیں؟ کیوں ہمیں شک نہیں ہوا؟ کیوں نہیں بھانپا ہم نے اس فراڈ کو؟ کیوں شوق ہے ہمیں طرح طرح کی کہانیاں سننے اور راہ چلتوں کو منہ لگانے کا؟

شاید فوجی میس کے کمرے میں لانے سے شک نہیں ہوا کہ وہ عورتیں ایسی ہمت دکھا سکتی ہیں جہاں گیٹ پہ رائفل پکڑے گارڈ کھڑا ہے۔ یا شاید ہم سمجھتے تھے کہ ہمیں کوئی بے وقوف نہیں بنا سکتا۔ کتابیں پڑھ پڑھ کر خود کو تیس مار خان سمجھ بیٹھے تھے۔

 

اففف۔ کس قدر ہنسیں گے سب لوگ کہ یہ ہے طاہرہ کاظمی کی اوقات۔ راہ چلتی مائی کے ہاتھوں لٹ بیٹھی۔

اور صاحب کیا کہیں گے؟ ظاہر ہے کچھ مذاق اُڑے گا کچھ ڈانٹ پڑے گی۔ بہت سمجھتی ہو نا خود کو۔ تمہاری اوقات تو بس اتنی سی ہے کہ ایک عام سی عورت بھی تمہیں اُلو بنا جائے۔

اور صاحب کے کان تک کچھ بھی پہنچا۔ سمجھو سسرال تک پہنچا۔ باغ تو سارا جانے ہے۔ سب مل کر ٹھٹھے اُڑائیں گے۔ بس یہی تھی ان کی سمارٹ نیس اور خود پہ غرور۔

شاید پولیس کچھ مدد کرے؟ کیا مدد کرے گی؟ نہ نام پتا نہ رہائش۔ ہزار سوال پوچھے جائیں گے جن کا جواب ہمارے پاس نہیں ہو گا۔ ہمیں تضحیک نما نظروں سے دیکھا جائے گا۔ یہ عورتیں جتنی مرضی پڑھ لکھ جائیں، ہوتی بے وقوف ہی ہیں۔ فوجی افسروں کو پتا چلے گا۔ بار بار صاحب سے پوچھیں گے۔ اظہار افسوس بھی اور صاحب کی بیوی کی کم عقلی پہ دبی دبی ہنسی بھی۔ گھروں تک بات پہنچے گی۔ بیس بیگمات کے فون آ جائیں گے، پارٹیوں میں بار بار پوچھا جائے گا۔ ہائے بھابھی کیسے ہوا یہ سب؟ کون تھی وہ؟ آپ کیوں لائیں اسے ساتھ؟ آپ کو شک کیوں نہیں ہوا؟ کمرے تک کیوں لائیں؟

 

پھر ہر کوئی قصہ سنائے گا۔ ہاں میری چاچی کے ساتھ ہوا۔ ارے میری خالہ ایسے لُٹ گئیں۔ ہماری ہمسائی بھی یہی کچھ کر بیٹھیں۔ توبہ توبہ برا وقت نہ آئے کسی پہ۔

نہیں۔ ہم کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے۔ بتا ہی نہیں سکتے۔ ہم بھانت بھانت کے لوگوں سے یہ سب نہیں سن سکتے۔ بار بار نکُو نہیں بن سکتے۔ چیزیں ہماری گئیں اور باتیں بھی ہم ہی سُنیں۔ نہیں ہر گز نہیں۔ ایک ہی ہستی تھی جس نے ہمیں جج کئیے بغیر حوصلہ دینا تھا۔ وہ دے چکیں۔ بس اب کوئی اور نہیں۔

اچھی بات یہ تھی کہ صاحب کو ہماری چیزیں گننے کی نہ عادت تھی نہ شوق سو ہم جانتے تھے کہ وہ کبھی نہیں پوچھیں گے کہ کہاں ہے ہیرے کا سیٹ اور کہاں ہیں سونے کی انگوٹھیاں۔

 

سو فیصلہ کیا اور کان لپیٹ کر ہم سو گئے۔ نیند آئی کہ نہیں۔ شاید نہیں۔

صبح اٹھے، نہاد ہو کر زبردست سا جوڑا پہنا۔ بچی کو تیار کیا اور تیزگام میں سوار ہو گئے۔ لاکھ دھیان ادھر ادھر بٹاتے مگر تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک آہ نکل ہی جاتی۔ اور ہمیں علم تھا کہ حیدرآباد میں ہم یہ آہ بھی نہیں بھر سکتے۔ بس یہی کچھ گھنٹے ہیں غم منانے کے سو منا لو بی بی۔

حیدرآباد میں تین ہفتے گزارے۔ دوستوں سے ملے۔ دعوتیں، گپیں، سیر و تفریح، موج میلا۔ کراچی بھی گئے۔ اور خود کو بہلاتے بہلاتے بہل ہی گئے۔

چھبیس برس گزر گئے۔ صاحب سے اس معاملے میں کبھی بات ہی نہیں کی۔ دفن کر دیا سب کچھ اپنے اندر۔ کسی اور بہن بھائی / رشتے دار کو بھی نہیں بتایا۔ ہم شاید اتنے ہی گہرے ہیں۔ زندگی گزارنے کا ایک فن یہ بھی ہے۔ آہ و زاری کیے بنا اپنے اندر کچھ قبریں بنا لی جائیں اور سر اونچا کر کے شان سے زندگی کا سفر طے کیا جائے۔

 

شاید اس پوسٹ کے بعد صاحب جان جائیں۔ لیکن شاید نہیں۔ وہ ہمیں پڑھتے کب ہیں۔ گھر کی مرغی ہیں بھئی ہم۔

بشکریہ ہم سب