174

حمل ہوا مگر بچہ کہاں ہے؟

”میری آخری ماہواری دو مہینے پہلے آئی تھی۔ دس دن سے ہلکی ہلکی بلیڈنگ ہو رہی ہے۔ پیشاب میں حمل کی موجودگی ظاہر ہو چکی، کیا میرا حمل ضائع ہو رہا ہے؟“

یہ تھی ہسٹری اور سوال جو ڈاکٹر سے پوچھا گیا۔ ڈاکٹر نے جھٹ الٹراساؤنڈ کی میز پہ لٹایا اور پیٹ میں جھانکنے کی کوشش کی۔ دو مہینے کا حمل لازمی رحم میں نظر آنا چاہیے، مگر مریضہ کا رحم خالی تھا۔

کیا ہو سکتا ہے؟
شاید اسقاط ہو چکا؟ یا شاید حمل بائیو کیمیکل تھا۔ پیشاب میں تو آ گیا مگر بچہ نہیں بنا۔

ایسی صورت حال میں خون میں بیٹا ایچ سی جی Beta HCG نامی ہارمون چیک کیا جاتا ہے جس کی مقدار بتاتی ہے کہ حمل تھا بھی یا نہیں؟ ہے یا نہیں؟ کہاں ہو سکتا ہے؟ اور کیا کیا جائے؟

ڈاکٹر نے بیٹا ایچ سی جی کروایا۔ مریض کو انتظار کرنے کا کہا مگر وہ نہیں رکی۔ سات دن گزرنے کے بعد وہ نتیجہ پوچھنے آئی تو بیٹا ایچ سی جی سات ہزار پانچ سو تیس تھا اور یاد رہے کہ ٹیسٹ ایک ہفتہ پہلے کیا گیا تھا۔

پوچھنے پہ پتہ چلا کہ بلیڈنگ ابھی بھی جاری ہے لیکن کم کم۔ ڈاکٹر نے مریض کو ہسپتال میں داخل کرنے کی کوشش کی مگر مریضہ پھر سے انکار کر کے چلی گئی۔ جانے سے پہلے بیٹا ایچ سی جی کروانے کے لیے خون کا نمونہ لے لیا گیا۔

اب کے بیٹا ایچ سی جی کی مقدار پانچ ہزار سات سو آٹھ ہو چکی تھی۔ رحم ابھی بھی خالی تھا۔

ڈاکٹر کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ بیٹا ایچ سی جی اسقاط کے بعد گر رہا ہے، بایو کیمیکل حمل کے بعد گر رہا ہے یا کہیں اکٹوپک حمل ہے؟

بہر کیف فیصلہ کیا گیا کہ مریضہ کو اڑتالیس گھنٹے کے بعد پھر سے بلایا جائے گا۔ اڑتالیس گھنٹے کے بعد بیٹا ایچ سی جی چار ہزار ایک سو تھا اور اس کے بھی اڑتالیس گھنٹے کے بعد دو ہزار آٹھ سو تھا۔ اس دوران مریضہ کو کہیں کوئی درد نہیں تھا لیکن ہلکی بلیڈنگ ابھی بھی ہو رہی تھی۔ الٹرا ساؤنڈ پہ کبھی بھی نظر نہیں آیا تھا۔

تقریباً چھتیس گھنٹے کے بعد مریضہ کو پیٹ میں شدید درد شروع ہوا۔ نزدیکی ہیلتھ سینٹر پہنچی تو انہوں نے درد کش ٹیکہ لگا کر گھر بھیج دیا۔ شام ہوتے ہوتے درد کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔ مریضہ دوبارہ ہیلتھ سینٹر پہنچی تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ ریجنل ہسپتال بھیجا جائے۔ ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہلے یہ سمجھا گیا کہ مریضہ کا اپنڈکس پھٹ گیا ہے کہ درد پیٹ کے دائیں جانب تھا اور الٹرا ساؤنڈ پہ پیٹ میں خون بھرا ہوا تھا۔

ایمرجنسی ڈاکٹر نے سرجن اور گائناکالوجسٹ کو بلوایا کہ آ کر مریض دیکھ کر فیصلہ کریں کہ کیا مسئلہ ہے؟ مریضہ کا بلڈ پریشر کم ہو رہا تھا۔ گائناکالوجسٹ کے ہسٹری لینے پہ علم ہوا کہ مریضہ بیٹا ایچ سی جی کے فالو اپ پہ ہے۔ سینئیر سے مشورہ کیا تو جواب ملا، خون کی بوتلیں تیار کرواؤ اور مریضہ کو آپریشن تھیٹر منتقل کرو۔

اگلے پندرہ بیس منٹ میں مریضہ آپریشن ٹیبل پہ تھی۔ پیٹ کھولتے ہی بے شمار لوتھڑوں کے ساتھ خون بہہ نکلا۔ خون نکالنے والا پائپ مسلسل خون کو کھینچ رہا تھا اور بوتل بھرتی جا رہی تھی۔ دو لیٹر خون ضائع ہوا۔

پیٹ کھولنے پہ رحم کو سب سے پہلے دیکھا گیا۔ اور مجرم وہیں پہ پکڑا گیا۔ رحم کے ساتھ موجود ٹیوب پھٹ چکی تھی اور وہاں سے خون رس رہا تھا۔ یہ ایکٹوپک حمل تھا۔

جونہی ٹیوب کاٹ کر نکالی گئی اور بقیہ حصے کو سی دیا گیا، خون کا بہاؤ بند ہو گیا اور مریضہ کا بلڈ پریشر نارمل ہونا شروع ہو گیا۔

سب سے پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہیے کہ جب بھی محسوس ہو کہ مریضہ کی جان خطرے میں ہے کہ اندر کہیں کسی جگہ سے بلیڈنگ پیٹ میں جمع ہو رہی ہے، فوراً آپریشن تھیٹر لے جا کر پیٹ کے اندر دیکھنا چاہیے کہ معاملہ کیا ہے؟

پیٹ کے اندر لیپرو سکوپک کیمرے سے بھی جھانکا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ بلڈ پریشر اپنی جگہ پہ قائم ہو اور مریضہ کی حالت خطرے میں نہ ہو۔ دوسری صورت میں پیٹ کھولنا ہی مناسب ترین ہے۔ اگر یہ علم نہ ہو کہ بلیڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے یعنی گائنی کے علاقے سے یا سرجن کے؟ تب دونوں مل کر پیٹ کھول سکتے ہیں۔ انتڑیاں، جگر، تلی، گردے اور مثانہ سرجن کا علاقہ ہیں جبکہ بچے دانی، انڈے دانی اور فیلوپین ٹیوبز گائنی کی ذمہ داری۔ کبھی کبھار گائنی کے علاقے میں کچھ زیادہ گڑبڑ ہو جائے تو جنرل سرجن سے مدد لی جا سکتی ہے۔

اس کیس میں دوسری بات یہ تھی کہ یہ سمجھا گیا کہ مریضہ کا اسقاط ہو گیا۔ یہاں جان لیجیے کہ اگر اسقاط ہونے کا کوئی ثبوت نہ ہو یعنی الٹراساؤنڈ پہ حمل کبھی بھی رحم میں دیکھا نہیں گیا اور نہ ہی حمل کی باقیات ویجائنا کے راستے باہر نکلیں اور ڈاکٹر یا مریضہ نے دیکھیں۔ اگر ایسا ہو تب ہر حمل ایکٹوپک ہی سمجھا جائے گا، جب تک شواہد کچھ اور نہ بتائیں۔

تیسری اہم بات یہ کہ گو کہ بیٹا ایچ سی جی نیچے آ رہا تھا پھر بھی اس کی خون میں مقدار بہت زیادہ تھی سو ایکٹوپک کی تشخیص ذہن میں آنی چاہیے تھی۔

چوتھی بات کہ جب بھی پیٹ میں درد ہو، تشخیص کیے بغیر درد کش ٹیکہ نہ لگائیں۔ درد کش ٹیکہ عارضی طور پہ آرام دے گا اور بیماری کی طرف سے دھیان بٹ جائے گا۔

پانچویں بات یہ کہ اگر کسی کو اپنڈکس کا شائبہ بھی ہو تب بھی ماہواری اور حمل سے متعلقہ ہسٹری ضرور پوچھنی چاہیے۔

چھٹی بات یہ کہ مریضہ کو ہر بار ہسپتال داخلے سے انکار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کبھی کبھی بات بہت واضح نہ بھی ہو تب بھی مریضہ کی سیفٹی اس بات میں ہوتی ہے کہ کچھ دیر نگہداشت میں رہا جائے اور ہسپتال میں سینئیر ڈاکٹر اسے دیکھ سکیں۔

مریضہ کو چار بوتل سرخ خون اور چار بوتل سفید خون دیا گیا۔ مریضہ کی حالت خطرے سے باہر تھی۔ لیکن مریضہ کے شوہر کے پاس یہ تمام سوالات تھے جن کا جواب ہم نے لکھا ہے۔

حمل، اسقاط اور زچگی کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیجیے۔ اس توتے میں ایک عورت کی زندگی بند ہوتی ہے۔

بشکریہ ہم سب