نئی نئی شادی کے دن، ہم اور ہمارے صاحب دونوں فلمیں دیکھنے کے شوقین۔ کبھی ٹی وی تو کبھی وی سی آر۔ عموماً تو فلم کا دورانیہ اچھا ہی گزرتا، مصیبت یعنی ”وختا“ تب پڑتا جب فلم میں یکایک کوئی ریپ سین آ جاتا۔ چیختی چلاتی لڑکی، منتیں کرتی، واسطے دیتی، ادھرادھر بھاگتی۔ پیچھے پیچھے خوفناک صورت مرد، لپک کر راستہ روکتا، پھر اپنی ہوس کا شکار بناتا۔ یہ دیکھ کر ہمارا رنگ پیلا پڑ جاتا، دانت کچکچاتے، مٹھیاں بھینچتے، مرد کو صلواتیں سناتے ہم با آواز بلند کہتے۔ کیا اس منحوس صورت آدمی سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں؟
کچھ عرصہ تو ہمیں اس سوال کا جواب نہیں ملا لیکن ایک دن صاحب تنگ آ کر بول ہی پڑے۔
ہے۔ ٹوٹکا ایک؟
وہ کیا؟ ہم نے بے چینی سے پوچھا۔
پہلے اندازہ لگاؤ۔
پستول؟
نہیں بھئی، لڑکیاں کہاں رکھتی ہیں پستول؟ وہ جھنجھلائے۔
چاقو؟ ہم نے فوراً پینترا بدلا۔
اچھا پستول تو رکھتیں نہیں، چاقو ضرور ہی رکھیں گی۔ وہ چڑ کر بولے۔
زہر بھرا انجکشن۔ ہم نے ایک اور بم پھوڑا۔
خدا کا خوف کرو۔ لگتا ہے تمہاری پرواز بس قتل کرنے تک ہی ہے۔ محترمہ قاتلہ!
جوڈو کراٹے؟ ہم نے ایک اور پینترا بدلا۔
تمہیں آتا ہے کیا جوڈو کراٹے؟
نہیں۔ ہم نے نفی میں سر ہلایا۔
سوچو تم جیسی نے نہیں سیکھا تو عام لڑکی کیا سیکھے گی؟ طنز بھرا جملہ آیا۔
یہ مجھ جیسی لڑکی سے کیا مراد ہے آپ کی۔ ہماری سوئی ادھر گھوم گئی۔
بھئی جو زمانے کی کچھ نہ کچھ خبر رکھتی ہو۔ وہ ہوگی تم جیسی۔ مسکراہٹ کے ساتھ جواب ملا۔
شکر ہے۔ اچھا بتائیے نا کیا کر سکتی ہے لڑکی ایسے وقت میں؟ ہم پھر اصل موضوع کی طرف آئے۔
گھٹنا۔ وہ ہنسے۔
گھٹنا؟ کیا مطلب؟ ہم نے حیران ہو کر دیکھا۔
بھئی گھٹنا مارنا آتا ہو۔ وہ اور ہنسے۔
لو اتنے لحیم شحیم مرد پر لڑکی کا گھٹنا کیا کر لے گا؟ ہم نے اگلا سوال کیا۔
روکے گا اور ضرور روکے گا۔ وہ اور ہنسے اور کہا: لگنا اصل مقام پر چاہیے!
اصل مقام؟ اور یہ اصل مقام کون سا اور کہاں واقع ہوتا ہے بھلا؟
رانوں کے بیچ۔
رانوں کے بیچ، مطلب پیشاب والی جگہ؟
نہیں۔ لیکن عین اُس کے نیچے، یعنی۔ اگر مرد کے خصیوں پہ ایک زوردار کک، گھٹنا یا مکّا پڑ جائے، تو یقین مانو زمین پر دھول چاٹنے لگے گا، اُٹھ نہیں سکے گا زمین سے۔
کیا واقعی؟ ہم نے حیران ہو کر پوچھا۔
ہاں ہاں۔ بہت نازک حصہ ہے مرد کے جسم کا۔ جب کوئی مرد عورت کو زبردستی زیر کرنا چاہے اور اس کے بازو وغیرہ پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو بس تبھی عورت کو اپنے دفاع میں یہ حملہ کرنا ہے، ٹھیک رانوں کے بیچ عین اُس وقت جب اس کی ٹانگیں کھُلی ہوں۔ اور کک، گھٹنا یا مکا پوری قوت سے نشانے پر لگے، پوری نفرت اور طاقت کو جمع کر کے۔
یہ نسخہ ہم نے ازبر کر لیا۔ شکر ہے ابھی تک تو استعمال کی ضرورت نہیں پڑی لیکن اب ہر لڑکی اور عورت کو یہ سمجھانا اور بتانا ضرور چاہتے ہیں کیوں کہ برے وقت اور مرد کا کوئی وقت اور علم ممکن نہیں۔ مرد چاہے شوہر ہو یا کوئی اور۔
اب اس کوئی اور کی تفصیل میں اس لیے ہم نہیں جائیں گے کہ ساری مثالیں اور واقعات سامنے ہونے کے باوجود ایروں غیروں ہی کی نہیں ایریوں غیریوں کی دُموں پر پیر آ جائے گا اور اصل مقصد غارت نہیں تو دور ضرور ہو جائے گا۔ لیکن یہ تو کہہ ہی سکتے ہیں نا کہ آمادگی اور رضامندی کے بغیر ہمارے جسموں کو ہاتھ لگانے کا حق اور اختیار کسی کو نہیں۔ اور ہمارے لیے یہی معنی ہیں ”میرا جسم میری مرضی“ کے۔
یہ تمہید باندھنے کی ضرورت اس لئے پڑی کہ ازدواجی تعلقات میں تشدد کی خبریں جب سامنے آتی ہیں تو جی چاہتا ہے کہ اس موضوع پہ کھل کے بات کی جائے۔
دنیا کا کوئی بھی قانون یا مذہب ایک فرد کو دوسرے فرد پہ ظلم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ مرد اپنی وحشیانہ جبلت کی تسکین کے لیے جب بھی عورت کے جسم کو کاٹتا اور بھنبھوڑتا ہے، تو یہ عورت کے جسم کی توہین تو ہے ہی، بحیثیت ایک انسان اس کی ذات کی کھلی نفی بھی ہے۔
حال ہی میں ملتان سے گرفتار ہونے والے شوہر کی یہی کہانی ہے جس نے اپنی بیوی کو تین سالوں سے جنسی اذیت کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ بیوی کی چھاتیوں کو دانتوں سے کاٹنے، بھنبھوڑنے اور ویجائنا میں ہاتھ ڈال کر چیرنے پھاڑنے کے عمل کی کہانی رونگٹے کھڑی کرتی ہے۔
کچھ برسوں پہلے راولپنڈی کے اُس مولوی کا قصہ تو بھلایا ہی نہیں جا سکتا جو بیوی کی ویجائنا میں لوہے کی راڈ ڈال کر کرنٹ لگاتا تھا۔ جب بیوی کا جسم تکلیف سے جھٹکے لیتے تھا تب مولی صاحب کو ”چس“ آتی تھی۔
اسی طرح محترمہ نویدہ کوثر نے بھی ایک کہانی لکھی تھی، برمحل ہے سو دہرا دیتے ہیں۔ نویدہ کوثرلکھتی ہیں۔
” کل ایک بہت امیر فیکٹری مالک کی بیگم ماسک پہنے آئیں، ماسک لینے کی وجہ یہ تھی کہ سارے چہرے پہ کتوں کی طرح دانتوں کے کاٹنے کے نشان تھے۔ زبان اتنی متاثر کہ مشکل سے بات سمجھ آتی۔ سارا جسم کٹا پھٹا، پائیوڈین لگائی ہوئی، تین چار جگہ تو ٹانکے لگے ہوئے تھے، تیز بخار اور انفیکشن زدہ زخم۔ رسی، برف اور سگریٹ لگانے کا استعمال بھی ہمیشہ ہوتا ہے، یہ کوئی افسانہ نہیں، سچا واقعہ ہے۔“
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں شادی سے پہلے ہی لڑکیوں کو فرماں برداری، تابعداری اور شوہر کا مطیع رہنے کے سبق اس قدر پڑھا کر رخصت کیا جاتا ہے کہ وہ سمجھ ہی نہیں پاتیں کہ ان کے حقوق کیا ہیں اور اُن کی خلاف ورزی کیا ہے؟
کیا کبھی والدین نے اپنی بچیوں سے اس موضوع پہ بات کی کہ شادی کے بعد جنسی تعلق میں کیا درست ہے اور کیا غلط؟ جنسی عمل میں تمہاری مرضی اور تمہاری اجازت کا عمل دخل ہو گا کہ نہیں؟
دو باتیں یاد رکھیے، اگر کسی بھی جنسی فعل سے عورت تکلیف محسوس کرتی ہے تو مرد کو اس کے کرنے کی اجازت / اختیار نہیں۔ دوسری بات consent یا اجازت کی ہے، اگر کسی بھی فعل کے لئے بیوی کی مرضی/ اجازت شامل نہیں تب بھی شوہر وہ فعل انجام نہیں دے سکتا۔
ابتدا میں ہم نے جو بات کی اس سے ریپ یا مرضی کے بغیر جنسی عمل سے بچاؤ تو ممکن ہے ہی مگر شوہر کو بھی یہ احساس دلایا جاسکتا ہے کہ جسم کے نازک حصوں کو بے جا چھیڑنے سے کس قدر تکلیف ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے مارکیٹ میں لڑکی نامی خام مال کی اس قدر فراوانی ہے کہ بیچنے والے کو ذرا برابر فکر نہیں کہ لڑکی کا حشر کیا ہو گا اور حشر خراب کرنے والے کو بھی پروا نہیں کہ پوچھ گچھ یا احتساب کی نوبت آ سکتی ہے۔ ایک مر گئی، خس کم جہاں پاک۔ دوسری آ جائے گی، مارکیٹیں بھری پڑی ہیں۔
لیکن، لڑکیو! میری بیٹیو! میری بہنو! اپنے جسم کی عزت و احترام اور حفاظت کسی بھی طرح مذہباً یا اخلاقاً گناہ یا جرم نہیں اور اپنی حفاظت کے لیے اپنے ہی ہاتھ پاؤں استعمال کرنا کیوں کر غلط ہو سکتا ہے؟ سیکھیں اور ضرور سیکھیں اور سوشل میڈیا تو اس کے لیے سب سے اچھا پلیٹ فارم ہے۔ بہت سی بہن بیٹیوں نے سیکھ رکھا ہے انہیں چاہیے کہ دوسروں کو بھی سکھائیں اور بتائیں۔