52

واقعۂ معراج النبیﷺ تاریخ انسانی کا سب سے طویل ترین سفر

اس واقعہ کی تاریخ اور سال کے متعلق ‘ مؤرخین اور اہل سیر کی آراء مختلف ہیں، ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ نبوت کے بارہویں سال 27 رجب کو 51 سال 5 مہینہ کی عمر میں نبی کریم ﷺ کو معراج ہوئی۔ جیساکہ علّامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’مہرِ نبوت‘‘ میں تحریر فرمایا ہے۔ اِسراء کے معنی رات کو لے جانے کے ہیں۔ مسجدِ حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجدِ اقصیٰ کا سفر جس کا تذکرہ سورۂ بنی اسرائیل ’’سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصٰی‘‘ میں کیا گیا ہے، اس کو اِسراء کہتے ہیں۔ اور یہاں سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا اس کا نام معراج ہے۔ ’’معراج‘‘ عروج سے نکلا ہے، جس کے معنی چڑھنے کے ہیں۔ حدیث میں’’عُرِجَ بِيْ‘‘ یعنی ’’مجھ کو اوپر چڑھایا گیا‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس لیے اس سفر کا نام معراج ہوگیا۔ اس مقدس واقعہ کو اِسراء اور معراج دونوں ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر سورۂ نجم کی آیات میں بھی ہے: ’’پھر وہ قریب آیا، اور جھک پڑا، یہاں تک کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر قریب آگیا، بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک، اس طرح اللہ کو اپنے بندے پر جو وحی نازل فرمانی تھی، وہ نازل فرمائی۔‘‘ سورۃ النجم کی آیات 13 تا 18 میں وضاحت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں: ’’ اور حقیقت یہ ہے انہوں نے اس (فرشتے) کو ایک اور مرتبہ دیکھا ہے۔ اس بیر کے درخت کے پاس جس کا نام سدرۃ المنتہیٰ ہے، اسی کے پاس جنت المأویٰ ہے، اس وقت اس بیر کے درخت پر وہ چیزیں چھائی ہوئی تھیں، جو بھی اس پر چھائی ہوئی تھیں۔ (نبی کریمﷺ کی) آنکھ نہ تو چکرائی، اور نہ حد سے آگے بڑھی، سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بہت کچھ دیکھا ہے۔‘‘ اور یہ واقعہ احادیثِ متواترہ سے بھی ثابت ہے، یعنی صحابہؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کی ایک بڑی تعداد سے معراج کے واقعہ سے متعلق احادیث مروی ہیں۔ (1( انسانی تاریخ کا سب سے لمبا سفر: قرآن کریم اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے، کہ اسراء ومعراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں، بلکہ جسمانی تھا، یعنی نبی کریمﷺ کا یہ سفر کوئی خواب نہیں تھا، بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا۔ یہ ایک معجزہ تھا، کہ مختلف مراحل سے گزرکر اتنا بڑا سفر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے صرف رات کے ایک حصہ میں مکمل کردیا۔ اللہ تعالیٰ جو اس پوری کائنات کا پیدا کرنے والاہے، اس کے لیے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے، کیونکہ وہ تو قادرِ مطلق ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کے تو ارادہ کرنے پر چیز کا وجود ہو جاتا ہے۔ معراج کا واقعہ پوری انسانی تاریخ کا ایک ایسا عظیم، مبارک اور بے نظیر معجزہ ہے، جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ خالقِ کائنات نے اپنے محبوبﷺ کو دعوت دے کر اپنا مہمان بنانے کا وہ شرفِ عظیم عطا فرمایا، جو نہ کسی انسان کو کبھی حاصل ہوا ہے، اور نہ کسی مقرَّب ترین فرشتے کو یہ اعزاز بخشا گیا۔ (2) واقعۂ معراج کا غرض و غایت: واقعۂ معراج کے مقاصد میں جو سب سے مختصر اور عظیم بات قرآن کریم کی سورۂ بنی اسرائیل میں ذکر کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم (اللہ تعالیٰ) نے آپﷺ کو اپنی کچھ نشانیاں دکھلائیں۔ اس کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد اپنے حبیب محمدﷺ کو وہ عظیم الشان مقام ومرتبہ دینا ہے، جو کسی بھی بشر حتیٰ کہ کسی مقرب ترین فرشتہ کو نہیں ملا ہے، اور نہ ملے گا۔ نیز اس کے مقاصد میں اُمتِ مسلمہ کو یہ پیغام دینا ہے، کہ نماز ایسا مہتم بالشان عمل اور عظیم عبادت ہے، کہ اس کی فرضیت کا اعلان زمین پر نہیں، بلکہ ساتوں آسمانوں کے اوپر بلند واعلیٰ مقام پر معراج کی رات میں ہوا۔ نیز اس کا حکم حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ نبی کریمﷺ تک نہیں پہنچا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرضیت ِ نماز کا تحفہ بذاتِ خود اپنے حبیبﷺ کو عطا فرمایا۔ نماز اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے اور اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کو مانگنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ (3) واقعۂ معراج کی مختصر تفصیل: اس واقعہ کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سونے کا طشت لایا گیا، جو حکمت اور ایمان سے پُر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ چاک کیا گیا، پھر اُسے زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر اُسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا، اور پھر بجلی کی رفتار سے زیادہ تیز چلنے والی ایک سواری یعنی براق لایا گیا، جو لمبا سفید رنگ کا چوپایا تھا، اس کاقد گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نظر پڑتی تھی۔ اس پر سوار کرکے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس لے جایا گیا، اور وہاں تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھی، پھر آسمانوں کی طرف لے جایا گیا۔ پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام ، دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام ، تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام ، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام ، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام ، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد ’’البیت المعمور‘‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کردیا گیا، جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے اللہ کی عبادت کے لیے داخل ہوتے ہیں، جو دوبارہ اس میں لوٹ کر نہیں آتے۔ پھر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا۔ نبی کریمﷺ نے دیکھا، کہ اس کے پتے اتنے بڑے ہیں، جیسے ہاتھی کے کان ہوں، اور اس کے پھل اتنے بڑے بڑے ہیں، جیسے مٹکے ہوں۔ جب سدرۃ المنتہیٰ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ڈھانکنے والی چیزوں نے ڈھانک لیا، تو اس کا حال بدل گیا، اللہ تعالی کی کسی بھی مخلوق میں اتنی طاقت نہیں، کہ اس کے حسن کو بیان کرسکے۔ سدرۃ المنتہیٰ کی جڑ میں چار نہریں نظر آئیں؛ دو باطنی نہریں اور دو ظاہری نہریں۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت کرنے پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتایا,، کہ باطنی دو نہریں جنت کی نہریں ہیں اور ظاہری دو نہریں دریائے فرات اور دریائے نیل ہیں۔ ( دریائے فرات عراق میں اور دریائے نیل مصر میں ہے)۔ (4) نماز کی فرضیت: اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی وحی فرمائی جن کی وحی اس وقت فرمانا تھا، اور پچاس نمازیں فرض کیں۔ واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کہنے پر نبی کریمﷺ چند مرتبہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوئے، اور نماز کی تخفیف کی درخواست کی۔ ہر مرتبہ پانچ نمازیں معاف کردی گئیں، یہاں تک کہ صرف پانچ نمازیں رہ گئیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر بھی مزید تخفیف کی بات کہی، لیکن اس کے بعد آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہا، کہ مجھے اس سے زیادہ تخفیف کا سوال کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے، اور میں اللّٰہ تعالٰی کے اس حکم کو تسلیم کرتا ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ندا دی گئی؛ میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی ہے، یعنی میں نے اپنے فریضہ کا حکم باقی رکھا، اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی، اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس بناکر دیتا ہوں۔ غرضیکہ ادا کرنے میں پانچ ہیں، اورثواب میں پچاس ہی ہیں۔ (5) معراج پر نبی کریمﷺ کو کون سے تین انعامات عطا کئے گئے؟ اس موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین انعام دیئے گئے. 1:-حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ سے انسان کا رشتہ جوڑنے کا سب سے اہم ذریعہ یعنی نماز کی فرضیت کا تحفہ ملا، اور نبی کریمﷺ کا اپنی اُمت کی فکر اور اللہ کے فضل وکرم کی وجہ سے پانچ نمازوں کی ادائیگی پر پچاس نمازوں کا ثواب دیا جائے گا۔ 2:- سورۃ البقرہ کی آخری آیت ’’آمَنَ الرَّسُولُ‘‘سے لے کر آخر تک عنایت فرمائی گئی۔ 3:- اس قانون کا اعلان کیا گیا، کہ نبی کریمﷺ کی اُمت کے شرک کے علاوہ تمام گناہوں کی معافی ممکن ہے، یعنی کبیرہ گناہوں کی وجہ سے ہمیشہ عذاب میں نہیں رہیں گے، بلکہ توبہ سے معاف ہوجائیں گے، یا عذاب بھگت کر چھٹکارا مل جائے گا، البتہ کافر اور مشرک ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (6) معراج میں دیدارِ الٰہی: زمانہ ٔ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شبِ معراج میں دیدارِ خداوندی سے مشرف ہوئے یا نہیں؟ اور اگر رؤیت ہوئی، تو وہ رؤیت بصری تھی یا رؤیت قلبی تھی؟ البتہ ہمارے لیے اتنا مان لینا ان شاء اللہ! کافی ہے کہ یہ واقعہ برحق ہے، یہ واقعہ رات کے صرف ایک حصہ میں ہوا، نیز بیداری کی حالت میں ہوا ہے، اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ایک بڑا معجزہ ہے۔ (7) قریش کی تکذیب اور ان پر حجت قائم ہونا: رات کے صرف ایک حصہ میں مکہ مکرمہ سے بیت المقدس جانا، انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت میں وہاں نماز پڑھنا، پھر وہاں سے آسمانوں تک تشریف لے جانا، انبیاء کرام علیہم السلام سے ملاقات اور پھر اللہ جل شانہٗ کی دربار میں حاضری، جنت و دوزخ کو دیکھنا، مکہ مکرمہ تک واپس آنا، اور واپسی پر قریش کے ایک تجارتی قافلہ سے ملاقات ہونا، جو ملک شام سے واپس آرہا تھا، جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کو معراج کا واقعہ بیان کیا، تو قریش تعجب کرنے لگے، اور جھٹلانے لگے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ؛ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی ہے، تو سچ فرمایا ہے۔ اس پر قریش کے لوگ کہنے لگے، کہ کیا تم اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہو؟ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا، کہ میں تو اس سے بھی زیادہ عجیب باتوں کی تصدیق کرتا ہوں، اور وہ یہ کہ آسمانوں سے آپ کے پاس وحی آتی ہے۔ اسی وجہ سے آپ ؓ کا لقب صدیق پڑ گیا۔ اس کے بعد جب قریشِ مکہ کی جانب سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المقدس کے احوال دریافت کیے گئے، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بیت المقدس کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روشن فرما دیا، اُس وقت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں تشریف فرما تھے۔ قریشِ مکہ سوال کرتے جارہے تھے، اور نبی کریمﷺ جواب دیتے جارہے تھے۔ (8) سفرِ معراج کے بعض مشاہدات: اس اہم وعظیم سفر میں رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت و دوزخ کے مشاہدہ کے ساتھ مختلف گناہگاروں کے احوال بھی دکھائے گئے، جن میں سے بعض گناہگاروں کے احوال اس جذبہ سے تحریر کیے جا رہے ہیں، کہ ان گناہوں سے ہم خود بھی بچیں، اور دوسروں کو بھی بچنے کی ترغیب دیں۔ (9) کچھ لوگ اپنے سینوں کو ناخنوں سے چھیل رہے تھے: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ کہ جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں ایسے لوگوں پر گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے، اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے۔ میں نے جبرئیل علیہ السلام سے دریافت کیا، کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، کہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے ہیں۔(یعنی ان کی غیبت کرتے ہیں) اور ان کی بے آبروئی کرنے میں پڑے رہتے ہیں۔ (ابوداود) (10) سود خوروں کی بدحالی: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ کہ جس رات مجھے سیر کرائی گئی میں ایسے لوگوں پر بھی گزرا؛ جن کے پیٹ اتنے بڑے بڑے تھے؛ جیسے (انسانوں کے رہنے کے) گھر ہوتے ہیں، ان میں سانپ تھے، جو باہر سے ان کے پیٹوں میں نظر آرہے تھے۔ میں نے کہا کہ: اے جبرئیل ! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ سود کھانے والے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح) کچھ لوگوں کے سر پتھروں سے کچلے جارہے تھے، رحمت اللعالمینﷺ کا گزر، ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا، جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے تھے، کچل جانے کے بعد پھر ویسے ہی ہوجاتے تھے، جیسے پہلے تھے۔ اسی طرح یہ سلسلہ جاری تھا؛ ختم نہیں ہورہا تھا۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا؛ کہ یہ لوگ نماز میں کاہلی کرنے والے ہیں۔ (انوار السراج فی ذکر الاسراء والمعراج ، مولانا عاشق الہٰی ؒ) (11) زکاۃ نہ دینے والوں کی بدحالی: نبی کریمﷺ کا گزر، ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا، جن کی شرمگاہوں پر آگے اور پیچھے چیتھڑے لپٹے ہوئے ہیں، اور اونٹ وبیل کی طرح چرتے ہیں، اور کانٹے دار و خبیث درخت اور جہنم کے پتھر کھارہے ہیں، نبی کریمﷺ نے پوچھا، یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا؛ کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو اپنے مالوں کی زکاۃ ادا نہیں کرتے ہیں۔ (انوار السراج فی ذکر الاسراء والمعراج ، مولانا عاشق الہٰی ؒ) (13) سڑا ہوا گوشت کھانے والے لوگ: نبی کریمﷺ کا گزر، ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا، جن کے سامنے ایک ہانڈی میں پکا ہوا گوشت ہے، اور ایک ہانڈی میں کچا اور سڑا ہوا گوشت رکھا ہے، یہ لوگ سڑا ہوا گوشت کھارہے ہیں، اور پکا ہوا گوشت نہیں کھارہے ہیں، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا؛ یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا؛ کہ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس حلال اور طیب عورت موجود ہے، مگر وہ زانیہ اور فاحشہ عورت کے ساتھ رات گزارتے ہیں، اور صبح تک اسی کے ساتھ رہتے ہیں، اور وہ عورتیں ہیں جو حلال اور طیب شوہر کو چھوڑ کر کسی زانی اور بدکار شخص کے ساتھ رات گزارتی ہیں۔ (انوار السراج فی ذکر الاسراء والمعراج ، مولانا عاشق الہٰیؒ) (14) سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے؟ احادیث میں ’’سدرۃ المنتہٰی‘‘ اور ’’السدرۃ المنتہٰی‘‘ دونوں طرح استعمال ہوا ہے۔ قرآن کریم میں ’’سدرۃ المنتہٰی‘‘ استعمال ہوا ہے۔ ’’سدرۃ‘‘ کے معنی بیر کے ہیں اور ’’منتہٰی‘‘کے معنی انتہا ہونے کی جگہ کے ہیں۔ اس درخت کا یہ نام رکھنے کی وجہ صحیح مسلم میں اس طرح ہے؛ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ کہ اوپر سے جو احکام نازل ہوتے ہیں، وہ اسی پر منتہی ہوجاتے ہیں، اور جو بندوں کے اعمال نیچے سے اوپر جاتے ہیں، وہ وہاں پر ٹھہر جاتے ہیں، یعنی آنے والے احکام پہلے وہاں آتے ہیں، پھر وہاں سے نازل ہوتے ہیں، اور نیچے سے جانے والے جو اعمال ہیں، وہ وہاں ٹھہر جاتے ہیں، پھر اوپر اٹھائے جاتے ہیں۔ (15) وضاحت: واقعۂ معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کوئی خاص عبادت ہر سال ہمارے لیے مسنون یا ضروری نہیں ہے۔ تاریخ کے اس بے مثال واقعہ کو بیان کرنے کا اہم مقصد یہ ہے، کہ ہم اس عظیم الشان واقعہ کی کسی حد تک تفصیلات سے واقف ہوں، اور ہم اُن گناہوں سے بچیں، جن کے ارتکاب کرنے والوں کا برا انجام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا، اور پھر اُمت کو بیان فرمایا۔ (16) شب معراج کی عبادت: سوال: واقعہ معراج، 27 رجب کی عبادت کے بارے میں شرعی نقطہ نظر کی وضاحت فرما دیجئے؟ جواب: واضح رہے کہ حتمی طور پر یہ بات طے نہیں ہے؛ کہ واقعہ معراج کس مہینہ اور کس شب میں پیش آیا، اس حوالے سے مختلف اقوال منقو ل ہیں، اپنی طرف سے یقینی طور پر متعین کرکے کسی رات کو شبِ معراج قرار دینا درست نہیں ہے، عوام میں مشہور یہ ہے، کہ رجب کی ستائیسویں رات ہے۔ تاہم اس شب میں خصوصیت سے کوئی الگ نماز یا عبادت کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، اور خصوصیت کے ساتھ اس رات میں عبادت کا اہتمام کرنا، اور لوگوں کو ترغیب دینا درست نہیں۔ لہٰذا 27، رجب کو حتمی طور پر شب ِمعراج کہنا درست نہیں، بلکہ شبِ معراج کے بارے میں چند اقوال منقول ہیں۔ بعض نے 12 ربیع الاول، بعض نے 17 ربیع الاول، بعض نے 27 ربیع الاول، بعض نے 17 ربیع الآخر، بعض نے 27 ربیع الآخر، بعض نے 27 رجب، بعض نے 17 رمضان، بعض نے 27 رمضان اور بعض نے 27 شوال کو شبِ معراج قرار دیا ہے۔ ان اقوالِ کثیرہ میں سے کسی تاریخ کے لیے کوئی وجۂ ترجیح نہیں، چنانچہ حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: ’’وقد اختار الحافظ عبد الغني بن سرور المقدسي في سیرته أن الإسراء کان لیلة السابع والعشرین من رجب وقد أورد حدیثًا لایصح سنده، ذکرناه في فضائل شهر رجب‘‘. (البدایة والنہایة، ج:3،ص:109) اسی طرح اس رات میں کوئی خاص عبادت بھی مشروع نہیں۔ اس رات کو عبادت کی رات سمجھنا اور ا س رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ متعین کرنا، اور اُسے مسنون سمجھنا شریعت کے مطابق نہیں، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر کسی شخص کی عادت ہے، کہ وہ رات کو عبادت کرتا ہے، اور ہفتہ واری روزہ رکھتا ہے، تو اس کو اجازت ہوگی۔ اسی رات اور دن کو مخصوص کرکے عبادت کرنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم اللہ تعالی ہمیں دین سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

بشکریہ اردو کالمز