906

کرونا وائرس قدرتی آفت یا امیر طبقے کی سازش؟

   نسل انسانی کو دنیا میں بے شمار مسائل درپیش ہیں ۔ان میں زیادہ تر مسائل انسان کے ہی پیدا کردہ ہیں۔ ایک انسان دوسرے کی نقصان میں ہی اپنا فائدہ ڈھونڈرہاہے ۔کبھی کبھار تود وسروں کی موت میں بقا ءتلاش کرتاہے۔ لہذا موجودہ دور میں انسان کا جن مشکل حالات سے سامنا ہے ان میں جنگی حالات ، معاوشی بحران اور بے شمار بیماریوں کے خلاف لڑنا شامل ہے۔ پچھلے چند مہینوں سے کرونا وائرس نے دنیا بھر میں معیشت، تعلیم اور مذہبی سرگرمیوں کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ اگر نہیں کیا ہے تو انٹرنیت صارفین ،خبروں یا Comapines Paharma کو جن کا کاروبار اس جان لیوا وائرس کے ساتھ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی مہلک بیماریوں کی وجہ سے انسانوں میں خوف کا ماحول پیدا کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کرونا وائرس جتنا خطرناک ہے اس سے کئی زیادہ مہلک وائرسز نے لاکھوں افراد کو موت کے منہ میں دھکیلا۔ 
   کرونا وائرس کو بنیادی طور پر ایک زونوٹیک (Zoonotic) وائرس یعنی جانوروں سے انسانوں تک پھر ایک انسان سے دوسرے میں عمل تنفس کے ذریعے پھیلنے والا وائرس مانا جاتا ہے جبکہ اس پر کئی ایسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں گویا مذکورہ وائرس انسانی تیار کردہ وائرس ہے۔ جن میں تین اہم اعتراضات سب سے زیادہ پیش کے جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کراناوائرس امریکہ کی جانب سے چین پر ایک بائیلوجیکل حملہ ہے۔ دوسرا کہ کرونا وائرس ایک قدرتی پروسز کے ذریعے سے جانوروں سے پھیلنا شروع ہوا جبکہ تیسرا یہ کہ کرواناوائرس چین کے شہر اوہان میں ہے ایک لیبارٹری میں تیار کیا گیاتھا۔ اس حوالے سے DEAN KOONTZکی کتاب EYES OF THE DARKNESS میںجو پیشنگوئی کی گی تھی اس میں اگرچہ اس وائرس کا واضح طور پر نام نہیں لیاگیا ہے لیکن اس میں جس شہر کاذکر کیا گیا ہے وہ چین کا شہر اوہان ہی ہے ۔کتاب کے باب ۹۳ میں بتایاگیا ہے©©© ©©©© " وہ اس کو اوہان چارسو کان نام دینگے کیونکہ یہ ان کی آر ڈی این اے ©RDNAمیں اوہان شہر کے باہر لیب میں تیار کیا گیا©©©©" ۔آگے بیان کرتا ہے کہ اوہان چارسو ایک بہترین ہتھیار ہے۔یہ صرف انسانوں پر اثر کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، 2017ء ایک French کامک Asteriic and the Chariot Race۹۳ سیریز میں دکھایا گیا تھا کہ کرونا وائرس ایک ماسک پہنے ہوئے کردار کا نام تھا جو دشمنوں سے لڑتا دکھا یا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹر steven soderbergh کی 2011 میں بنائی گئی Hollywood فلم میں کرونا وائرس سے ملتے جلتے ایک وبائی مرض دکھا یا گیا تھا جو پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے لگتا ہے اور لاکھوں انسانوں کو لقمہ عجل بنا لیتا ہے۔ کہ بدقسمتی سے ٓج وہ فلمی کہانی سچ ثابت ہوئی۔
    تو اس نازک صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسانوں کو پہلے سے ایسے ناموں کے ساتھ ذہنی طور پر واقف کیا جاتا ہے؟ اور کیا دنیا میں اتنی بیماریاں ±قدرتی طور پر انسانوں پر مسلط ہوتی رہتی ہیں یا دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی ہی انسانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے؟

 درحقیقت ، دنیا کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس میں کہی نہ کہی یہ خطرہ لائق ہوتا ہے کہ وہ دن دور نہیں کہ اس دنیا میں آبادی اس حد تک بڑھ جائے گی کہ یہاں انسانوں کے لیے رہنا دشوار ہوجائے گا۔ اس وقت دنیا کی کل آبادی لگ بگ سات ارب ہے۔ جس میں آبادی کے لحاظ سے چین سرفہرست ہے۔
 اس ضمن میں اقوام متحدہ ک ایجنڈا ۲ کے پوائنٹ نمبر۹میںدرج ہے کہ مختلف تدابیر کے ذریعے دنیا کے بڑھتی ہوئی آبادی کو مزید بڑھنے سے روکنا ہے۔جس کے لیے مختلف پلیٹ فارمز پرکام شروع کیا گیا ہے۔ اس لائحہ عمل کے لیے دنیا کے چند نامور شخصیات جیسے کہ سی این این کے بانی Ted Turnerاور مائیکروسافٹ کے موجد بل گیٹس شامل ہے۔ Ted Turner نے اپنی ایک انٹر ویو میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیاہے کہ دنیا میں ضرورت سے زیادہ لوگ رہ رہے ہیں جن کی وجہ سے ہمیں گلوبل وارمنگ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جبکہ بل گیٹس نے بھی آبادی کو کم کرنے کے لیے مختلف ویکسینیشنز کی تصدیق کی ہے۔ یقینا بڑھتی ہوئی آبادی پر تو کسی نہ کسی طرح سے قابو پایا جاسکتا ہے لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ سات ارب کے آبادی کو کم سے کمتر سطح پر لایا جاسکے؟ جی ہاں ایسا ممکن ہے۔ 
 درصل دنیا میں ایک امیر اور ایجادات کرنے والا طبقہ ہے جبکہ دوسرا غریب اور لاچار طبقہ ہے ۔اس دنیا میں موجود وسائل کو دونوں طبقات استعمال کرتی ہیں۔ چونکہ امیر طبقے کی کلچر الگ ہے تو وہ ایک ایسے نظام بنانے کی چکرمیں ہیں جہاں ایک حکومت، ایک قانون ، ایک کرنسی اور ایک ہی مذہب ہو۔ اس کی سب سے بہترین مثال یورپین یونین اور یونائیٹڈ عرب عمارات ہیں۔تو وقت کے ساتھ ساتھ ممکن ہے کہ امیر طبقہ ایسانظام رائج کریں جس میں آبادی کو کم کرکے ساری دنیا میں ایک ہی نظام قائم کرے۔ ٓبادی کو کم کرنے کے لیے جو ممکنہ طریقہ کار ہے ان میں پہلا Quick Elemination of Life ہے جس میں ایک آہستہ لائحہ عمل کے ذریعے آبادی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ان میں خاص طور پر ہارپ ٹیکنالوجی، ابورشن ، اور جنگی ہتھیار کا استعمال شامل ہے۔ جبکہ دوسرا طریقہ کار Slow Elemination of life یعنی وقت کے ساتھ ساتھ آبادی کو کم کیا جائے گا۔جس میں Chemtrials,VaccinationاورGenetically Modified Organismsکے ذریعے آبادی کو نہ صرف بڑھنے سے روک لیا جائے گا بلکہ آبادی کو بھی کم کیا جائے گا۔ 
ٓ ان میں خاص طور پر ویکسینینشنز قابل ذکر ہے، موجودہ دور میں مذکورہ تمام عموامل زیر عمل ہیں۔ کرونا وائرس پہلا وائرس نہیں ہے جس سے لاکھوں انسانوں کی جانیں جاسکتی ہیں ۔ ماضی میں بھی چند جان لیوا وائرسز حملہ کر چکے ہیں جن کے نتیجے میں لاکھوں لوگ لقمہ عجل بنے ہیں۔جن میں خاص طور پر SARS,MERS,SWIN FLU,EBOLA,RABIES,BIRDS FLU,وغیرہ شامل ہیں۔ جب کبھی ایسا کوئی مہلک وائرس پھیلتا ہے تو ان سے دنیا بھر میں ہزاروں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے آیا کہ یہ محض قدرت کا امتحان ہے یا اامیراور کاروباری طبقے کی ایک سوچھی سمجھی سازش؟ (واللہ علم بالصواب)
 
 

بشکریہ اردو کالمز