وبائی امراض کے ماہرین ) (Epidimologistsکے مطابق سپر اسپریڈرز ایک ایسے مرحلے کانام ہے جس میںوائرس سے متاثرہ شخص سے دیگر دو یا تین افراد کو وائرس منتقل ہوسکتا ہے جسکا اصطلاحی نام
R nought ہے۔ کرونا کے وائرس کی بابت چین نے R nought کی حد 2.38 رکھی جبکہ super spreader میں ایک متاثرہ شخص سو افراد سے لیکرایک ہزار افرادتک متاثرکرسکتے ہیں۔ دو ہفتے قبل کل کیسزکی تعداد پندرہ ہزار کے لگ بھگ تھی مگر رواں ہفتہ مذکورہ تعداد تین گنا بڑھ گیا ہے۔ جس کی ایک وجہ super spreaders بتایا جاتا ہے۔
بنیادی طور super spreader کے متعلق ماہرین نے جن وجوہات کی نشاندہی کی ہیں ان میں سب سے پہلی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ متاثرہ شخص کے جسم کا دفاعی نظام (Immune System)کافی کمزور پڑجاتاہے جو وائرس کے سامنے بے بس ہو کر دوسروں کوبھی متاثر کرتا ہے۔
دوسر ا نظریہ ہے کہ متاثرہ شخص کا دفاعی نظام کافی قوی ہونے کی وجہ سے مریض میں بیماری کے علامات (symptoms)ظاہر ہونے نہیں دیتا ہے جس کے باعث وہ خاموشی یا غیر محسوس طریقے سے بہت بڑی تعداد میں دوسرے افراد کوبھی ساتھ ساتھ متاثر کرتا رہتاہے ۔
اس حوالے سے ایک تاریخی مثا ل ہمارے سامنے موجود ہے وہ یہ کہ میری میلن ((Marry mallon نامی ایک آئرش خاتون تھی جو ٹائیفائیڈ میری ( (Typhoid Marry کے نام سے بھی جانی جاتی ہے ۔مذکورہ خاتون Typhiod سے متاثر تھی لیکن بظاہر صحت مند لگ رہی تھی اس دوران متاثرہ خاتون نے کئی گھروں میں کام کاج کیا جس کہ وجہ سے وہ جہاں بھی اپنی خدمات سرانجام دیتی وہاں کئی لوگ بیمار پڑجاتے تھے ۔ یہ تعداد ایک مختصر مدت میں اکیاون افرادتک پہنچا ۔ وجہ معلوم کرنے کے لئے جب ریسرچ کی گئی توٹائی فائیڈ کے وائرس کے پھیلاو میں میری میلن نے super spreader ثابت ہوئی ۔ حفاظتی اقدام کی خاطر مریضہ کو غالبا تیس برس تک گوشہ تنہائی میں رکھا گیا ۔
جنوبی کوریا میں 18فروری تک کرونا وائرس سے کوئی شخص متاثر نہیں تھا ۔اس کے ٹھیک تین روز بعد یک دم کروناکے وائرس سے کئی افراد کے متاثرین ہونے کی بری خبرپھیلی۔ آگے جاکر یہ تعداد 51تک پہنچی ۔جب ڈاکٹروں نے پہلے کیس کی ہسٹری دیکھی تو پتہ چلا کہ ایک چند روز قبل چین کے شہر اوہان سے Schinchenji نامی ایک کلیساسے وابستہ رہے جس نے Daegue شہر میں کم سے کم پچاس افراد کو متاثر کیا ۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں بھی ایک ایسا کیس سامنے آیا تھا ۔
پاکستان میں ابھی تک super spreaderکیس کی کوئی تصدیق تو نہیں ہوئی ہے البتہ اگر کرونا وائرس کی کیسز میں اچانک اضافہ ہوتا ہے تو ممکنہ طور پر وہ کسی super spreader کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔لہذا super spreader کو روکنے کے لیے social distancing پر شعوروآگاہی پھیلانا لازمی ہے تاکہ لوگ احتیاط کرتے رہے ۔ اس امر کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ حکومت موجودہ لاک ڈاون میں حفاظتی تدابیر میں مزید سختی لانے کی بروقت کوشش کریں تاکہ پاکستان میں بسنے والے کروڑوں انسانون کی زندگی محفوظ ہوسکے ۔اور کرونائی اسپراسپریڈرز سے وباءمزید نہ بڑھے۔