195

درس کربلا 


 امام عالی مقام نے میدان کربلا میں جان قربان کرکے صبح قیامت تک اس پیغام کی شمع فروزاں کر دی کہ اگر حق کا پرچم  بلند کرنے اور رکھنے کیلئے جان بھی چلی جائے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں، انسانیت رہتی دنیا تک کربلا سے ثابت قدمی اور حق کی سربلندی کیلئے کربلا سے روشنی لیتی رہے گی ۔ جوش ملیح آبادی نے درست کہا!
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
 یکم محرم الحرام کی آمد کیساتھ امن ، وابستگی اور ایک دوسرے کے خیالات برداشت کرنے کا سبق دھرایا جاتا ہے ۔ شہدائے کربلا سے منسوب سیمینار اور تقاریب میں جہاں امام حسین کی سیرت پر روشنی ڈالی جاتی ہے وہاں شرکاء کے ذریعے سے پیغام حق عام لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے  کہ ہم سب نے مل کر دین کی سربلندی کے لیے میدان عمل میں آنا ہے ۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران امن و شانتی کے لیے یکے بعد دیگرے اجلاس منعقد کرتے ہیں جس میں مختلف مکاتبِ فکر کی نمائندہ شخصیات امن و محبت اور عقیدت سے جڑے وعدوں کی تجدید کرتی ہیں ۔راولپنڈی کے پانچ ستارہ ہوٹل میں منعقد  حسینیہ  کانفرنس سے خطاب میں بار بار شرکاء کی توجہ اتباع ِ سیرت  امام عالی مقام کی طرف  مبذول کروائی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم ِ عاشورہ اسلام سے پہلے بھی ذی وقار دن تھا ۔ کائنات میں تقریباً تمام اہم اُمور اسی دن کو وقوع پذیر ہوئے ۔زمین و آسمان کی آفرنیش سے لے کر قیامت برپا ہونے تک کے تمام اُمور اسی دن طے پانے کے بارے میں ثبوت ملتے ہیں۔حضرت جبرئیل  سمیت تمام ملائکہ کی پیدائش ،کرہ  ارض کا پہلا دن ،زمین پر بارش کا پہلا قطرہ،بیشتر انبیاء و رسل کی مصیبتوں اور تکلیفوں سے بریت اور اعلیٰ مراتب پرفائزہونا یوم عاشورا کو ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے کی روایات ملتی ہیں۔حضرت موسیٰ  اور اُن کی قوم پر فرعون نے ظلم و بر بریت کی انتہا کر دی تھی اس کی چیرہ دستیوں سے نجات اسی دن اُن کو حاصل ہوئی تھی۔حضرت آدم  کی ولادت اور توبہ اسی مہینہ میں قبول فرمائی تھی۔اسی دن حضرت نوح   کی کشتی کو طوفان سے نجات ملی،حضرت ابراہیم  کو آگ میں ڈالا گیا اور وہ گلزار بن گئی۔حضرت یعقوب  کو بینائی ،حضر ایوب  کو شفا ،حضرت یونس  مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس دن سرکار کل جہاںۖ نے مدیہ منورہ میں اسلامی مملکت کی اساس ڈال کر وحدت ،اخوت،مساوات اور توحید الٰہی پر مبنی معاشرہ تشکیل دیاچونکہ اسی دن حضرت موسیٰ  اور ان کی قوم کو اللہ نے فرعون سے نجات دلا کر اُسے بحر قلزم میں غرق کر دیا تھا اسلئے یہودی قوم آج بھی اس دن کو یوم تشکر کے طور پر عید کی طرح مناتی ہے۔جب پیارے حضور ۖ کو علم ہوا کہ یہودی یوم عاشورا کو یوم عید کی طرح مناتے ہیں تو آپ ۖ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ بھی اس واقعہ کی نسبت سے روزہ رکھیں اور آپ ۖ نے بھی روزہ رکھا اور فرمایاکہ حضر ت موسیٰ  کا زیادہ حقدار ہوں۔صحابہ کرام  نے حضور اکرم ۖ سے پوچھا کہ رمضان المبارک کے بعد کونسے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت زیادہ ہے تو آپ ۖ نے فرمایا کہ محرم الحرام میں روزہ رکھنا زیادہ افضل ہے لیکن یہ روزہ رکھنا یا نہ رکھنا ہر شخص کی مرضی پر منحصر ہے ۔مسلمان یوم عاشورا کو روزہ رکھتے ۔صدقہ خیرات کرتے اور بہتر سے بہتر کام کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اسی دن 61ہجری میں سےّدنا امام حسین  اور اُن کے ساتھیوں کی شہادت کا واقعہ پیش آیا جس سے اس دن کی عظمت اور درجات اور بھی زیادہ بڑھ گئے۔یزید کی تخت نشینی سے جب خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی تو حضرت امام حسین  نے یزید کو خلیفہ ماننے سے صاف انکار کر دیا۔آپ  کے علاوہ عبد الرحمٰن بن ابی بکر  ۔عبد اللہ بن عمر۔اور عبد اللہ بن زبیر   بھی اُن صحابہ کرام میں شامل تھے جنہوں نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کیا۔جب حضرت عبداللہ بن زبیر  کے ساتھ ایک جھڑپ میں یزیدی لشکر کا سپہ سالار مارا گیا تو اہل کوفہ  نے امام عالی  کو خلافت کا حقیقی حقدار سمجھ کر آپ  کو خلافت کی دعوت دی اور آپ   کا ساتھ دینے کیلئے خطوط لکھے۔حضرت امام حسین  نے اُن کے خطوط کی تصدیق کیلئے حضرت مسلم بن عقیل کو کوفے روانہ کیا۔تقریباً 12ہزار کوفیوں نے بیعت کر کے اپنی عقیدت مندی کا اظہار کیا ۔جب حضرت مسلم بن عقیل  کو اُن کی وفاداری کا یقین ہو گیاتو حضرت امام حسین  کو اطلاع بھیجی کہ آپ   تشریف لے آئیں۔لوگ آپ  کے دست مبارک پر بیعت کرنے کیلئے بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ابن زیاد کو جب علم ہوا تو حضرت مسلم بن عقیل  کو بے دردی سے شہید کرا دیا۔حضرت امام حسین  کو اپنے بھائی کی شہادت کا علم ہوگیا  مگر آپ  کے ارادے کو کوئی متزلزل نہ کر سکا۔آپ  نے روانگی سے پہلے مدینہ کی طرف رُخ مبارک کر کے عرض کی ۔"یا رسو ل اللہۖ ! آپ  کے نواسے کو خلافت کی تمنا ہر گز نہیں ۔اُمت محمدیہ کو راہ راست پر لانا خلافت راشدہ کے طریقے پر قائم کرنا چاہتا ہوں۔آپ  ۖ کی نظر کرم اور اللہ سے صبر و استقامت کا طلبگار ہوں"
یہ درست ہے کہ جب تک اتباع نہ ہو عشق و محبت ادھوری رہتی ہے ۔ہم اگر حب اور سیرت میں فاصلہ کم کر دیں تو ہمارے سارے مسائل حل ہوجائیں ۔ '' بڑوں'' کو نئی نسل تک یہ پیغام پہنچانا چاہیے کہ محبت، عقیدت اور عشق کے فروغ کیساتھ سیرت پر عمل پیرا ہونا کس قدر ضروری اور اہم فریضہ ہے ۔ اللہ کریم ہم سب کو حقیقی طور پر پیغام کربلا اور درس کربلا کا وارث اور امین بنا دے ۔ آمین 


 

بشکریہ اردو کالمز