614

بلوچستان کے وسائل اور للچائی ہوئی نظریں (قسط۔1-2)

سردار عطاء اللہ مینگل نے اپنے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے بلوچ نوجوانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ایک پتے کی بات کی تھی۔ انہوں نے کہا، دیکھو! آزادی حاصل کرنا بہت آسان ہے، لیکن اسے سنبھال کر رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ ان کی یہ بات بلوچستان کے خطے پر صادق آتی ہے۔ بلوچستان کی سرزمین اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے مدتوں عالمی طاقتوں کے لئے اہمیت کی حامل رہی ہے اور آج بھی ہے۔ لیکن اس کے وسائل بھی ہمیشہ سے علاقائی قوتوں کے لئے کشمکش کا باعث بنے رہے۔ ایک زمانہ تھا جب توانائی کی ضروریات کوئلے سے پوری کی جاتی تھیں۔ اپنے وقت کی تیز رفتار سواری ٹرین کا سٹیم انجن اسی کوئلے کا محتاج تھا۔ بجلی پیدا کرنے والے بڑے بڑے تھرمل پاور سٹیشن بھی کوئلے سے چلائے جاتے تھے اور کوئلہ شمالی بلوچستان کے علاقوں میں وافر مقدار میں پایا جاتا تھا۔ یہ علاقہ زیادہ تر پشتون قبائل کا مسکن ہے، لیکن پشتون اور بلوچ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ باہم احترام کے رشتے سے رہتے چلے آئے ہیں۔ اس لئے ان وسائل پر کبھی ان کا جھگڑا نہیں ہوا تھا۔ سادہ لوح بلوچ تو دین کے بارے میں شروع دن سے پشتونوں کو اپنا رہبر و رہنما خیال کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مدتوں بلوچ اور براہوی علاقوں میں یہ تصور راسخ تھا کہ امام مسجد پشتون ہونا چاہئے۔ انگریز جب بلوچ سرزمین کے قریبی سرحدی علاقوں، ڈیرہ غازی خان اور جیکب آباد تک آ پہنچا تو پھر اس کی للچائی ہوئی نظروں کے سامنے بلوچستان کا سنگلاخ خطہ تھا جو اس وقت اپنے دور کی سب سے بڑی توانائی ’’کوئلے‘‘ سے مالا مال تھا۔ ڈیرہ غازی خان کا پولیٹیکل ایجنٹ رابرٹ سنڈیمن اور جیکب آباد کا ڈپٹی کمشنر جان جیکب دونوں وسائل سے مالا مال اس خطے کی جانب اپنے اپنے طریقِ کار سے آگے بڑھنا چاہتے تھے۔ جان جیکب انگریز فوج کے بَل بوتے پر اسے فتح کرنا چاہتا تھا جبکہ رابرٹ سنڈیمن بلوچ قبائل کے سرداروں کو ساتھ ملا کر اس خطے پر اپنا اقتدار قائم کرنا چاہتا تھا۔ 1873ء میں ان دونوں کے طریقِ کار پر غور کرنے کے لئے جیکب آباد میں ایک بہت بڑی میٹنگ بلائی گئی۔ وہاں رابرٹ سنڈیمن نے ’’فارورڈ پالیسی‘‘ (Forward Policy) کے عنوان سے اپنا کیس پیش کیا۔ اس نے بتایا کہ بلوچوں سے لڑائی خاصی مہنگی پڑ سکتی ہے اور آپ پہلے بھی اس کا تجربہ کر چکے ہیں، اس لئے انہیں اپنے ساتھ اقتدار میں شریک کر کے آگے بڑھنا چاہئے۔ انگریز سندھ فتح کر چکا تھا اور طاقت کے نشے میں سرشار تھا، اس لئے رابرٹ سنڈیمن کی تجویز رد کر دی گئی اور اس بظاہر ’’بزدل‘‘ شخص کو جیکب آباد چھوڑ دینے کا حکم دے دیا گیا اور ساتھ ہی یہ حکم نامہ بھی جاری کیا گیا کہ جو شخص بھی کسی مری یا بگٹی کا سر کاٹ کر لائے گا، اسے دس روپے انعام دیا جائے گا۔ اس حکم نامے کا تذکرہ ہنری کسنجر نے بھی اپنی کتاب "The white house years" میں کیا ہے۔ انگریز اس میٹنگ سے بہت پہلے 1839ء میں مری قبائل کے علاقے کاہان پر فوج کشی میں شکست کھا چکا تھا۔ اس جنگ کی پوری روئداد کیپٹن لوئس برائون (Lewis Brown) نے اپنے روزنامچے میں تحریر کی ہے جسے بعد میں ایک کتابچے کی صورت شائع کیا گیا جس کا نام "Defence of Kahan" ہے اور آج بھی انڈیا آفس لائبریری لندن میں موجود ہے۔ بلوچستان پر قبضے کی خواہش اس لئے بھی مسلسل قائم رہی کیونکہ یہ خطہ جنگی حکمتِ عملی کے لئے بہت اہم تھا۔ انگریز زیادہ سے زیادہ علاقہ اپنے قبضے میں رکھنا چاہتا تھا تاکہ زارِ روس کی پیش قدمی کو روک سکے۔ جان جیکب نے ایک بار پھر کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہو سکی تو تھک ہار کر رابرٹ سنڈیمن کو اسی کی فارورڈ پالیسی پر عمل کرنے کی اجازت مل گئی۔ سنڈیمن اس دوران ڈیرہ غازی خان کے بلوچ سرداروں میں بہت مقبول ہو چکا تھا۔ یہاں کے لغاری اور مزاری قبائل کے ذریعے اس نے مری، بگٹی اور کھیتران قبائل کے سرداروں سے اچھی خاصی دوستی گانٹھ لی تھی۔ سنڈیمن نے ایک سفارتی وفد بنا کر خان آف قلات سے ملاقات کا پروگرام ترتیب دیا۔ اس وفد کو ترتیب دینے کی ذمہ داری نواب امام بخش مزاری اور نواب جمال خان لغاری کے ذمہ لگائی گئی اور ان دونوں سرداروں نے کمال مہارت سے تقریباً تمام بلوچ سرداروں کو رابرٹ سنڈیمن کے قافلے میں شامل کروا دیا۔ یہ قافلہ جب یکم جنوری 1876ء کو خان آف قلات کے دربارِ عام میں شریک ہوا تو اس میں سردار ملا محمد خان رئیسانی، سردار اللہ ڈنہ کرد، شادی خان بنگلزئی، محمد سید خان محمد شہی، جندہ خان شہوانی، مری قبیلے سے مہر اللہ خان، میر ہزار خان، گل محمد خان، کرم خان بجارانی، نال خان لوہارانی، بگٹی قبیلے سے گہور خان بگٹی، ہیبت خان مسوری بگٹی، فتح خان نوتھانی بگٹی، روگہہ خان کھلپر بگٹی، کھیترانوں میں بلوچ خان کھیتران، قادر بخش کھیتران، دین محمد خان بزدار اور ڈیرہ غازی خان کے تمام بلوچ سردار رابرٹ سنڈیمن کی قیادت میں خان آف قلات کے دربار میں حاضر تھے۔ اس لمحے خان آف قلات کے ساتھ اس کے بیٹے اور صرف دو بلوچ سردار رہ گئے، ایک سردار نور دین خان مینگل اور دوسرا سردار قیصر خان موسیانی۔ دربار میں سنّاٹا چھا گیا۔ خان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ بلوچستان کے تمام سردار اب انگریز کے پرچم تلے جمع ہو چکے ہیں۔ خان کو اپنی عزت اور مقام و مرتبہ برقرار رکھنے کے لئے انگریز سے ایک ایسا معاہدہ کرنا پڑا جس کے بعد وہ ایک نمائشی خان بن کر رہ گیا۔ 13 جولائی 1878ء کو کئے گئے معاہدے کے تحت اب اس کا بلوچ سرداروں پر براہِ راست اختیار ختم ہو گیا۔ ریاستِ قلات کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ یوں تو یہ معاہدہ انگریز اور خان آف قلات کے درمیان تھا، لیکن اس پر بحیثیت فریق سرداروں کے بھی دستخط ثبت کروائے گئے تاکہ ہر سردار کو اپنی علیحدہ علیحدہ اہمیت کا احساس ہو سکے۔ خان آف قلات احمد یار خان نے اپنی کتاب میں اس سانحے کا تذکرہ کرتے ہوئے رابرٹ سنڈیمن کے یہ الفاظ تحریر کئے ہیں، ’’گورنر جنرل کے ایجنٹ کو خان کے مقابلے میں زیادہ قابلِ احترام، ارفع اور فرمانبرداری کا مستحق سمجھ لیا گیا‘‘۔ انگریز نے یوں سرداری نظام اور سردار کی بالادستی کو مستحکم کیا اور سردار کی تابعداری کو انگریز کی تابعداری کے ساتھ مشروط کر کے وہ بلوچ جو ایک آزادانہ معاشرے میں زندگی گزارنے کے عادی تھے، انہیں اپنی قوت کی پشت پناہی سے سردار کا مطیع و فرمانبردار بنا دیا گیا۔ انگریز نے سرداروں کے ذریعے اپنے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی پوری کوشش کی۔ جرگہ کا ایک ایسا نظام بنایا گیا جس کا سربراہ انگریز پولیٹیکل ایجنٹ ہوتا تھا۔ تمام بلوچ سردار اپنے سے زیادہ انگریز کے خلاف اُٹھنے والی آواز کو قوت سے دباتے تھے۔ جس طرح آج ایک ٹویٹ پر لوگوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے اس دور میں بھی انگریز سے باغیانہ سوچ رکھنے والا نہ صرف انگریز کا مجرم ہوتا تھا بلکہ بلوچ جرگے کا بھی سزاوار۔ اس کی مثال وہ مشہور واقعہ ہے جب 1929ء میں ہفت روزہ ’’ہمدرد‘‘ میں نوابزادہ یوسف عزیز مگسی کا ’’فریادِ بلوچستان‘‘ کے نام سے مضمون شائع ہوا تو سرداروں کے ’’معزز‘‘ جرگے نے اس انقلابی سردار کو ایک سال قید اور پندرہ ہزار روپے جرمانے کی سزا دے دی۔ (جاری ہے) (نوٹ): غوثیہ کالج مظفر گڑھ 12 سال سے جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے میں چوتھی جماعت سے لے کر ایم اے تک یتیم و نادار طلباء و طالبات کی مدد کر رہا ہے۔ پہلے کراچی کے ایک بزرگ حاجی عبدالرزاق اس کی سرپرستی کرتے تھے 2012ء میں وہ انتقال کر گئے، پھر مشہور کالم نگار اور بیوروکریٹ ڈاکٹر صفدر محمود ان کے لئے کالموں میں اپیل کرتے تھے، ان کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری میں نے قبول کر لی ہے۔ انکے پرنسپل ڈاکٹر محمد طارق کا فون نمبر 03003312052 ہے۔ رابطہ کر کے تسلی فرما کر مدد کر سکتے ہیں۔ انگریز کو بلوچستان پر حکومت کرنے اور اس خطے کے وسائل سے ’’لطف اندوز‘‘ ہونے کے لئے باقی ماندہ ہندوستان کی طرح بالکل طاقت کا استعمال نہیں کرنا پڑا، بلکہ سرداروں کی ان کے قبیلوں پر بالادستی کو انگریز کی قوت سے اس قدر مستحکم کر دیا گیا کہ اب وہ بلوچ سردار جو کبھی ایک جمہوری حکمران کی طرح اپنے قبیلے کے معاملات چلایا کرتے تھے، ایک خونخوار ڈکٹیٹر کی طرح اُبھر کر سامنے آ گئے۔ سردار اب ایک ایسا مطلق العنان سربراہ تھا کہ جس کے حکم کے سامنے پورا قبیلہ بے بس تھا۔ سردار کی ناراضی اب صرف سردار کی ناراضگی نہیں رہ گئی تھی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تاجِ برطانیہ کی قوت سے بھی ٹکرانا تھا۔ ایسی قوت و اختیار اور مکمل بادشاہت کا نشہ اس سے پہلے سرداروں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اسی لئے اپنے اس غلبے کے تحفظ کے لئے وہ انگریز پر دل و جان سے فریفتہ اور خدمت گار بن گئے۔ تیرہ جولائی 1876ء کو خان آف قلات خان خدائیداد خان سے معاہدے کے بعد انگریز نے عملاً سرداروں کو خان آف قلات کی عمل داری سے نکال لیا تھا اور وہ مکمل طور پر انگریز حکومت کی چھتری تلے آ چکے تھے۔ رابرٹ سنڈیمن نے آہستہ آہستہ سرداروں کو خودمختار کر کے ان کی عوام پر کُلّی اختیار کی راہ ہموار کرنا شروع کر دی۔ سب سے پہلے لسبیلہ کو ایک جداگانہ حیثیت دی گئی۔ جام آف لسبیلہ خان کو قلات سے آزاد کر کے اسے ایک آزاد الحاقی حیثیت دلائی گئی۔ رابرٹ سنڈیمن کی قبر بھی اسی لسبیلہ میں ہے جہاں وہ ملیریا کی وجہ سے انتقال کر گیا تھا۔ خان سے معاہدے کے بعد انگریز نے خان آف قلات سے کوئٹہ، نوشکی اور بولان کا علاقہ اجارے پر حاصل کیا، اور پھر چمن، پشین، ژہوپ اور دیگر وہ علاقے جو گندمک معاہدے کے تحت افغانستان سے حاصل کئے گئے تھے، ان سب کو ملا کر برٹش بلوچستان کے نام سے ایک ایجنسی تخلیق کی گئی، جس کی بنیادی حیثیت ایک سرحد ی تزویری خطے (Border Strategic Territory) کی تھی۔ کوئٹہ کے چلتن پہاڑ کے عقب میں جنوب کی سمت خان آف قلات کی ریاست تھی، جبکہ شمال مغرب کی جانب تقریباً سات سو کلومیٹر لمبی سرحد جو افغانستان سے ملتی تھی اس کے ساتھ آباد کئی میل چوڑی پٹی بھی برٹش بلوچستان میں شامل کر لی گئی جس میں پنجپائی، کردگاب، نوشکی، چاغی، دالبندین، نوکنڈی اور تفتان کے شہر شامل تھے۔ یوں خان آف قلات جو صدیوں سے افغان خطے کے ساتھ جُڑا ہوا تھا، بلکہ اکثر بلوچ سردار بھی نسلاً پشتون ہی تھے، اسے مکمل طور پر افغانستان سے کاٹ دیا گیا۔ یہ خطہ جسے برٹش بلوچستان کہتے تھے، انگریز کے لئے عسکری طور پر بھی بہت اہمیت رکھتا تھا اور معدنیاتی ذخائر سے مالامال ہونے کی وجہ سے بھی بہت اہم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز حکومت نے اپنی ساری ترقیاتی سرگرمیاں اسی خطے تک مرکوز رکھیں اور ریاست قلات ایک قدیم روایتی پسماندگی کا نقشہ بنی رہی۔ برٹش بلوچستان کو اس دور کی تیز رفتار، سواری، ریلوے ٹرین سے منسلک کرنے کے لئے ریلوے لائنوں کا جال بچھا دیا گیا۔ کوئٹہ چونکہ ایک مرکزی مقام اور فوجی ہیڈ کوارٹر تھا، اس لئے اسے ہر طرف سے ملانے کے لئے سڑکیں تعمیر کی گئیں اور طویل ریلوے لائن بچھائی گئی۔ سبی ّ سے کوئٹہ تک قدیم بولان پاس میں اٹھائیس سُرنگیں تعمیر کر کے ان کے بیچوں بیچ ٹرین کی پٹری ڈالی گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ شروع میں یہ ایک تنگ پٹری (Narrow Gauge) والی ریلوے لائن تھی، لیکن پھر یہ محسوس کیا گیا کہ چونکہ پورے برصغیر میں بڑی پٹری (Wide Gauge) والی ٹرینیں چلتی ہیں تو اسے بڑے سسٹم سے منسلک کرنے کیلئے تبدیل کر دیا گیا، جس کے لئے ازسرنو نئی سُرنگیں کھودی گئیں اور جدید ریلوے لائن بچھائی گئی۔ جہاں جہاں اور جس علاقے میں بھی کوئلہ یا دیگر معدنیات موجود تھیں وہاں تک ریلوے لائن ہر صورت پہنچائی گئی۔ سبی ّ سے ایک لائن ہرنائی کی طرف بچھائی گئی جو سانگان سے ہوتی ہوئی مری قبائل کے علاقے سے گزرتی ہے اور پھر پشتون علاقوں میں داخل ہو جاتی ہے۔ ہرنائی کے بعد یہ ریلوے لائن کوئلے کے ذخائر سے مالامال علاقوں ناکس، زردآلو اور خوست وغیرہ سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پہنچتی تھی۔ اس کے راستے میں دنیا کو حیران کر دینے والا ایک ریلوے پُل ’’چھپر رفٹ‘‘ 1886ء میں تعمیر کیا گیا، جو زمین سے 260 فٹ اُونچا تھا اور دو پہاڑوں کے درمیان سُرنگیں کھود کر اسے باقی علاقوں سے ملایا گیا تھا۔ انگریز مؤرخ اس پُل کو اپنے وقت کی انجینئرنگ کا ایک معجزہ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح بولان میں موجود کوئلہ اور دیگر معدنی وسائل تک پہنچنے کے لئے تیز رفتار ٹرین کی پٹری بچھائی گئی۔ بولان درّے کے عین درمیان میں مچھ کا وہ مقام آتا ہے جس کے اردگرد کے پہاڑ، کوئلے کے ذخائر سے مالامال ہیں۔ جنگی ضروریات کی تکمیل کے لئے افغانستان کے بارڈر تک دو ریلوے لائنیں تعمیر کی گئیں۔ ایک کوئٹہ سے چمن تک اور دوسری کوئٹہ سے ژہوپ تک۔ ژہوپ کو اس زمانے میں ’’فورٹ سنڈیمن‘‘ کہتے تھے۔ کوئٹہ اور چمن کے درمیان ایک بلند و بالا پہاڑ خوجک آتا ہے۔ اس پہاڑ پر انگریز نے پختہ مورچے تعمیر کئے اور ساڑھے چھ ہزار میٹر بلند اور چار کلومیٹر لمبی سُرنگ کھود کر ریلوے لائن کو سرحدی شہر چمن تک پہنچا دیا۔ کوئٹہ سے ژہوپ تک بچھائی جانے والی ریلوے لائن بھی حیران کن تھی، جس پر دنیا کا بلند ترین ریلوے سٹیشن کان مہتر زئی آتا تھا۔ یہ کام 1891ء تک مکمل ہو گیا۔ انگریز نے یہ تمام کام بغیر کسی طاقت کا استعمال کئے، سرداروں کے تعاون سے مکمل کیا۔ انگریز حکمرانوں نے سرکاری لیویز کے دستے بنائے اور انہیں سردار کے مکمل اختیار میں دے دیا۔ ایک بلوچ سردار جو پہلے اپنے اندرونی قبائلی نظام کی وجہ سے فیصلے کرتا تھا اور امن و عامہ قائم کرتا تھا اب وہ ایک خارجی حکمران بن گیا، جس کے پاس لیویز نام کی ایک پولیس فورس تھی، جو اسے طاقتور بناتی تھی۔ سردار پہلے قبیلے کے بزرگ اور معتبر ہوا کرتے تھے، مگر اب انہیں حاکم بنا دیا گیا۔ برٹش بلوچستان کے اکثر علاقوں میں ریلوے لائن بچھانے، کوئٹہ میں ایجنٹ ٹو گورنر جنرل کا ہیڈ کوارٹر قائم کرنے، وہاں شاندار کنٹونمنٹ تعمیر کرنے اور ہندوستان کی افغانستان کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کے بعد سنڈیمن دُنیا سے کوچ کر گیا۔ اب انگریز بلوچستان میں ہر لحاظ سے مستحکم ہو گیا تھا۔ پشتون اور بلوچ سردار سب کے سب اس کی مٹھی میں تھے اور ان سرداروں کے ذریعے عوام انگریز کے قابو میں۔ انگریز کو ہندوستان کے باقی علاقوں کی نسبت بلوچستان کو کنٹرول کرنے کے لئے بہت ہی کم سرمایہ خرچ کرنا پڑا۔ چند ہزار لیویز کی تنخواہیں اور بدلے میں اتنے وسیع و عریض خطے پر حکمرانی۔ یہ سب سنڈیمن کی فارورڈ پالیسی کے ذریعے بلوچ اور پشتون سرداروں کو انگریز کی حکمرانی میں شریک کرنے سے ہی ممکن ہو سکا۔ سنڈیمن مر گیا تو اس کے جانشین جیمز برائون (James Browne) کو ایک مستحکم انگریز حکومت ملی۔ اسے سنڈیمن کی فارورڈ پالیسی اور سرداروں کو خوش رکھنے کی ’’حیثیت‘‘ کچھ زیادہ اچھی نہ لگی۔ وہ چاہتا تھا کہ خان آف قلات کی یہ ’’نمائشی حیثیت‘‘ بھی ختم کر دی جائے اور تمام سردار براہِ راست انگریز ایجنٹ ٹو گورنر جنرل کے ماتحت ہو جائیں۔ (جاری ہے)

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز