424

سوات ایک بار پھر دہشت گردی کی زد میں

    اکتوبر 2001 میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو مُلا صوفی محمد مالاکنڈ سے ہزاروں لوگوں کو اپنے ساتھ جنگ کے لئے افغانستان لے گئے جن میں مُلا فضل اللہ بھی شامل تھے۔ افغانستان سے واپسی پر فضل اللہ گرفتار ہوئے اور تْریباََ  17 ماہ تک جیل میں رہے۔
    انھوں نے سنہ 2005 اور  2006 میں سوات میں غیر قانونی FM ریڈیو چینل شروع کیا جس کی وجہ سے انھیں بہت کم عرصے میں لوگوں میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس ایف ایم چینل پر مغرب خصوصاََ  امریکہ، حفاظتی ٹِیکوں،  لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف دبا دب خطبے دئے جاتے تھے۔  2006میں مُلا فضل اللہ نے علاقے میں '' شریعت''  کے نفاذ کے لئے عملی اقدامات بھی شروع کر دئے  جس میں مقامی تنازعات کے فیصلے کرنا اور گلی کوچوں میں جنگجوئوں کا گشت شامل تھا۔
پھر بات حد سے بڑھ گئی اور وادی میں خود کش حملوں، سکولوں پر حملے اور اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا تو مقامی انتظامیہ نے مُلا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کا ارادہ کیا جس کے بعد پھر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مشترکہ کار روائی شروع ہوئی۔اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کی درخواست پر پاک فوج ایک محدود مینڈیٹ کے ساتھ سوات میں آئی جو کہ اب تک سوات میں براجمان ہے۔
 سوات جو کہ اس وقت پاکستان کا جنت مانا جاتا تھا ، کاروبار اپنے عروج پر تھا، سیاحت کا بھر مار تھا، ہر طرف امن اور خاش حالی تھی۔ ایک ایسی صورتِ حال پیدا ہوگئی جس نے سوات کو کھنڈر بنا دیا ، ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول برپا کر دیا گیا اور سب سے بڑی افسردگی کی بات یہ تھی کہ پختون کو اور خصوصاََ سوات باسیوں کو پورے خطے میں ''دہشتگرد'' کا خطاب دیا گیا۔
2009 سے لے کر 2013 تک پورا پختون خوا آگ کی لپیٹ میں تھا ہر شہر میں خود کش حملے، سکولوں اور کالجوں میں دھماکے، بے گناہ لوگوں کو اغوا کرنا روز کا معمول بن گیا تھا۔ لیکن 2013 کے بعد رفتہ رفتہ حالات ٹھیک ہونے لگے، آہستہ آہستہ سوات اپنے پرانے دنوں کلی جانب گامزن ہونے لگا۔ 2021 تک سوات مکمل پُر امن ہوگیا تھا ۔ سیاحت میں ایک بار پھر سوات نے میدان مار لیا تھا۔ کاروبار نے اپنے پنجے گھاڑ لئے تھے اور ہر طرف امن و خوش حالی کا دور دورہ تھا۔ 
2022 سوات کے لئے نیک شگون ثابت نہیں ہوا اور ایک بار پھر دہشت گردی اور دہشت گردوں نے سوات کا رخ کیا۔ اچانک حالات خراب ہوئے اور دہشت گردی کے تھوڑے بہت واقعات رونما ہونے لگے۔ لیکن پچھلے دو مہینوں سے جو واقعات آئے دن رونما ہوتے آرہے ہیں وہ خطے میں امن کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ ہر دن کوئی نیا حادثہ رونما ہوتا ہے۔ پہلے سوات کے علاقہ تحصیل کبل میں امن کمیٹی کے چئیرمین اور اس کے دو ساتھیوں پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کر دیا گیا اور وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ اس کے اگلے دن تحصیل خوازہ خیلہ میں ایک نجی کمپنی میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو اغوا کر دیا گیا اور رہائی کے بدلے میں کروڑوں کا تاوان مانگا گیا۔ اس کے اگلے دن ایک ٹھیکیدار کو دھمکی امیز فون کالز آتے رہے کہ ہمیں پانچ کروڑ کا بھتہ دے دو ورنہ لاش بھی نہیں ملے گی۔ دو دن پہلے سوات بائی پاس پر باپ بیٹے کو جن کا تعلق شانگلہ سے بتایا جا رہا تھا کو سرِ عام دن دیہاڑے اسلحہ سے لیس نا معلوم افراد نے گولیوں سے چھلنی کر دئے۔ کل سکول وین پر بے رحمانہ حملہ کر دیا گیا جس میں سکول بس ڈرائیور موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ کئی طلبا زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دئے گئے ۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ دھمکی آمیز کالز آتے رہتے ہیں اور اس کا لوکیشن ٹریک نہیں ہو پارہا ۔ لوگوں کو دن دیہاڑے بندوقوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے  قاتل کا خفیہ کیمرے میں ریکارڈنگ ہوتی ہے لیکن FIR نا معلوم افراد کے خلاف کاٹ دیا جاتا ہے۔ اس ملک میں جب بھی دہشت گردی آتی ہے تو پختونوں کے ہاں آتی ہے۔ ریاست پختونوںکو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ ہمیشہ پختونوں پر ظلم ڈھایا گیا ہے، ان کے حقوق تلف کر دئے گئے ہیں، ان کے گھر لوٹے گئے ہیں لیکن جب بھی وہ اپنے حقوق مانگنے نکل جاتے ہیں تو ان پر دہشت گرد کا لیبل چسپان کر دیا جاتا ہے۔ بچے ان کے مر رہے ہیں، بیویاں ان کی بیوائیں ہوتیں جارہی ہیں  لیکن جب بھی انصاف مانگتے ہیں تو الٹا انھیں قصور وار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ آخر کیوں؟ کیا گناہ کئے ہیں پختونوں کے آبائو اجداد نے جو اتنا بڑا خمیازہ بھگت رہے ہیں؟ جب بھی نا انصافی ہوئی ہے پختون کے ساتھ ہوئی ہے۔ جب بھی حق تلفی ہوئی ہے پختون کی ہوئی ہے۔ ریاست مکمل طور پر پختونوں کے حق میں بے بس ہے۔
 سب جانتے ہیں کہ یہ دہشت گرد کون ہیں اور ان کے سہولت کار کون ہیں۔ہم پختون ریاست سے التجا کرتے ہیں کہ خدا کے لئے ہم پررحم کریں،  ہم اور اپنی گھر گرہستی دوسروں کی خوشی کیلئے تباہ نہیں کر سکتے۔ ہمارے بھی بال بچے ہیں، گھر ہیں خاندان ہیں ، ہمارے بھی احساسات ہیں ہمارے احساسات کی قدر کریں ۔ ہمیں تحفظ دیں، ہمیں بھی اس ملک پر اتنا ہی حق ہے جتنا باقی لوگوں کا ہے۔ 
    مجھے اپنے پختون بھائیوں سے درخواست ہے کہ پہلے اپنا حق اس ملک کے آئین کے مین مطابق مانگیں، احتجاج کریں لیکن دستور میں رہ کر اور پر  امن احتجاج کریں، جو بھی کرنا ہے پُر امن طریقے سے اور قانون کے حدود میں رہ کر کریں۔ اگر اس کے بعد بھی بات نہ بنے تو پھر میری ریاست سے التجا ہے کہ جو بھی ہوگا ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔
پختونوں نے اور خاص کر سوات کے باسیوں نے اپنی زندگی میں مظالم سہے ہیں شائد ہی دنیا کی تاریخ میں کسی قوم نے سہا ہو۔ ان کے بھائیوں کو ان کی نظروں کے سامنے اٹھا دئے اور اگلے دن کسی چوک چوراہے پر لٹکے ہوئے ملے۔ ان کی نظروں کے سامنے ان کے گھروں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ ان کی مائوں بہنوں کو سرِ عام بے آبرو کر دیا گیا۔ لیکن جب بھی پختون نے اپنے تحفظ کی بات کی تو اسے زبردستی سے چُپ کرا دیا گیا یا ان پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر دیا گیا۔ 
                
                لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
                یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے 

بشکریہ اردو کالمز