598

دیر آید درست آید

    9/11  کی واقعے کے بعد پوری اسلامی دنیا کا جغرافیہ بدل چکا ہے۔امریکہ نے خود کو معصوم اور اسلامی دنیا کو قصور وار ٹھہرا کر  بار بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں جہاں بھی شر و فساد ہوگا اس کا ذمہ دار محض مسلمان ہوگا گوکہ اس کے پاس سرٹیفیکیٹ ہے کہ وہ جسے چاہے ذلیل کرے اور جسے چاہے عزت نوازے۔
    اسامہ بن لادن جس کا تعلق سعودی عرب سے تھا اور اس نے القاعدہ تنظیم کا سنگ بنیاد رکھا تھااور باقاعدہ طور پر وہ اس تنظیم کے بانی جانے جاتے ہیں۔  اس نے 9/11 کی ذمہ داری لیتے ہوئے باقاعدہ یہ الزام اپنے سر لیا تھا کہ اس خوفناک حادثے میں القاعدہ کا پورا پورا ہاتھ ہے۔تب سے لے کر اس کی موت تک امریکہ آوارہ کتے کی طرح اس کے پیچھے پڑی تھی۔  آخر کار  2 مئی 2011  کی رات ایک بجے پاکستان کے فوجی شہر ایبٹ آباد کے بلال ٹائون میں رات کے گھپ اندھیرے میں امریکی فوج نے آکر اس کو موت کے نیند سلا دیا اس آپریشن کا نام تھا '' آپریشن نیپچون سپئیر'' ۔  اس رات پورے پاکستان میں ہلچل سی مچ گئی تھی اور ساری عوام اس شش و پنج میں تھی کہ آخر کار امریکی فوج پاکستان میں آکر کیسے یہ سب کر سکتا ہے۔ پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا امریکہ کی اس چالاکی کی بھینٹ چڑھ چکی ہے اور وہ جہاں چاہے اپنا قبضہ مسلط کر سکتا ہے لیکن اسے یہ پتہ نہیں کہ ہمارا بھی ایک دن سورج ڈھل جائے گا اور وہ دن دور نہیں جب امریکہ سپر پاور کی جگہ سپر ویک کہا جائے گا۔
    اسی دوران پاکستان میں مشرف کے دور میں تقریباََ 37 ڈرون حملے ہوئے،  زرداری دور میں تقریباََ 47 کے آس پاس ہوئے اور نواز شریف کے دور میں یعنی سال 2013-18 میں  65 ڈرون حملے ہوئے جس کے نتیجے میں 301افراد شہید جبکہ 70 کے آس پاس بری طرح گھائل ہوئے تھے۔ دوسری طرف عمران کی حکومت میں اب تک کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہونے کا امکان ہے۔ 
    پچھلے دنوں عمران خان نے HBO کو انٹرویو دیتے ہوئے جب انٹرویور نے اس سے پوچھا کہ آپ سے اگر امریکہ اپنی مدد کے لئے زمین کی مانگ کریں تو کیا آپ دیں گے، اس پر عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ  بالکل نہیں (Absolutely Not) ۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ جب امریکہ نے اسامہ بن لادن کو ختم کیا تھا اس وقت بھی وہ پاکستان میں ہی تھا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا تھا کہ امریکی فوج کس طرح اس سر زمیں میں داخل ہوئی اور کس کی اجازت سے انھوں نے پاک سر زمین پر ایک شخص کو مارا تھا خواہ اگر وہ کوئی دہشت گرد کیوں نہ ہو، لیکن اس دفعہ امریکہ کو منہ توڑ جواب ملنے کے ساتھ کچھ حد تک پاکستان کی طرف سے مایوسی کی ہوا بھی چلی ہے۔ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے ان کی مانگ کو رد کرنا اور ان کی تذلیل کرنا چھوٹی بات نہیں لیکن دوسری طرف اگر ہم دیکھیں تو امریکہ بھی پاکستان کو ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتا آرہا ہے ، اب ہم اسے گزشتہ حکمرانوں کی نا اہلی یا ڈرپوکی سمجھیں ۔
    گزشتہ بدھ کو عمران خان نے قومی اسمبلی بجٹ سیشن کے فلور پہ کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن اور دہشت گرد (الطاف حسین) پچھلے تیس سالوں سے لندن میں جاکے بیٹھا ہے ، کیا برطانیہ حکومت ہمیں اس پرڈرون حملے کی اجازت دے گی؟ امریکہ سے تعلقات پر بحث کرتے ہوئے وزیر اعظم صاحب نے بتایا کہ پاکستان بخوشی امریکہ کے ساتھ کھڑا رہے گا اگر وہ امن لانا چاہتے ہیں تو، بصورت دیگر ہم اس کے خلاف ہوں گے۔انھوں نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو افغانستان میں منہ کی کھائی ہے اور اسے بد تریں شکست کا سامنا ہوا ہے۔
    وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا امریکہ کے آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اور اس کی ہر بات کا منہ توڑ جواب دینے کا محض مطلب یہ ہے کہ پاکستان اب ایک مظبوط ریاست بن چکی ہے جو امریکہ جیسے سفاک ریاست کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ 
 
 

بشکریہ اردو کالمز