317

آخر کیوں پھولوں کا شہر ماں کی نظروں میں نہیں!

کرکٹ دیکھنے کا اتنا زیادہ شوقین نہیں ہوں کہ کسی بھی ٹیم کا  میچ دیکھ لوں البتہ اگر پاکستان کی کسی غیر ملکی ٹیم کے ساتھ میچ ہو تو پھر پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ دیکھتا ہوں اور پاکستانی بالنگ صرف اس لمحے میں دیکھتا ہوں جب میچ بالکل سیریس مرحلے میں ہو اس کے علاوہ غیر ملکیوں کے درمیان ہونے والے میچز تو بالکل نہیں دیکھتا ہوں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر میچ ہو چاہے ونڈیز ، 20/20 یا ٹیسٹ تو پھر ان دونوں بڑے حریفوں کے درمیان ہر میچ اے ٹو زیٹ  ٹی وی سکرین پر بڑی شوق سے دیکھتا ہوں بلکہ صرف میں نہیں برصغیر پاک و ہند میں ان دونوں حریفوں کے درمیان ہر میچ کو دیکھنے کے لئے لوگ بڑے بےتاب ہوتے ہیں کرکٹ دیکھنے کے دیوانے جو بینک بیلنس سے اچھے ہو پہلے تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ پاک انڈیا میچ کو اپنے آنکھوں سے سٹیڈیم میں دیکھے جو ایک بڑے تفریح سے کم نہیں ہوتے ہیں۔ 

پاکستان میں سرلنکا کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد پاکستانی  سٹیڈیمز ویران ہوچکے تھے جس سے غیر ملکی ٹیم کے پاکستانی دورے بالکل ختم ہوگئے تھے اور وہ ملک جس کا نوجوان کھیلوں سے  محبت کرتا ہو وہ نوجوان ذہنی دباؤ اور مختلف نشوں میں مبتلا ہوا۔ کسی بھی ملک کو اپنا نوجوان اثاثہ مختلف نشوں سے محفوظ رکھنے کے لئے نوجوانوں کےلئے کھیلوں کے میدان آباد کرنے پڑتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کھیلوں کے میدان آباد نظر نہیں آتے کھیل ہر بچے کا بنیادی حق ہے یہ حق بھی پاکستان میں حکومتی سطح پر مخصوص طبقے کے بچوں کے لئے ہوتے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پاکستانی میدانوں کو ہر لحاظ سے آباد کرانے کے لئے ایک اہم رول ادا کررہے ہیں۔ پی ایس ایل کی بدولت اور پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کی پاکستانی قوم سے محبت غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان کھینچ لے آئے۔ جس سے دنیا میں پاکستان کا soft image گیا اور پی ایس ایل کے سیکنڈ ایڈیشن میں پاکستان میں پی ایس ایل کے میچز کھیلنے کے لئے غیر ملکی ٹیموں کے کھلاڑی پاکستان کے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے لئے پاکستان آنے کو تیار ہوئی۔ اس طرح پی ایس ایل تری اور پی ایس ایل فور نے کراچی کے ساتھ لاہور کو بھی روشنی کا شہر بنادیا جس کی روشنی پاکستان کے کونے کونے تک پہنچی تھی۔

پی ایس ایل five کے شیڈول کو کسی بھائی نے اپنے سپورٹ پیچ پر اپلوڈ کیا تھا جونہی میرے موبائل سکرین پر پی ایس ایل five کا شیڈول نمودار ہوا تو میں نے سوچا چلو دیکھ لیتے ہیں۔ اس شیڈول میں آخر کیا ہے؟ جب قریب سے ایک دفعہ دیکھ لیا تو پھر دل کے تسکین کے لئے ایک مرتبہ پھر شیڈول کو آہستہ آہستہ اور غور سے دیکھ لیا تو دوسرے مرتبہ دیکھنے کے ساتھ دل تھوڑا ناراض بھی ہوتا رہا اور آخر میں تو دل ہی بیٹھ گیا۔

میں نے جب شیڈول میں دیکھا کہ پھولوں کے شہر پشاور اسٹیڈیم میں ایک میچ بھی نہیں کھیلا جائے گا تو یقین مانیں دل ٹوٹ گیا پھر صرف بہانوں سے دل کو جوڑنا شروع کیا کہ پشاور پھولوں کا شہر ہے اور موسم بہار آنے والا ہے جسمیں نئے پھول اگنے ہیں شاید پی ایس ایل انتظامیہ یہ سوچ کر پشاور میں میچ نہیں کروانا چاہتے  تاکہ غیروں کی نظریں کہیں لگ نہ جائے۔

پھولوں کا شہر ہو اور وہاں کھیلوں کے میدان ویران ہوں۔ تو آپ سوچ لے کیا یہ اس شہر کے ساتھ زیادتی نہیں تو اور کیا ہے۔ شاید پی سی ایل انتظامیہ میں غیر ملکی پالیسی میکرز موجود ہو جن کے علم میں نہیں ہے کہ پاکستان میں کراچی، لاہور، روالپنڈی اور ملتان کے علاوہ پھولوں کے شہر پشاور میں بھی سٹیڈیم ہے اور کرکٹ کے دیوانے وہاں بھی ہیں۔ پشاور تو کیا بلوچستان کو بھی ہر چیز کی طرح پی ایس ایل میں بھی نظر انداز کر دیا۔ جہاں پشاور کی طرح پی ایس ایل کا ایک میچ بھی وہاں نہیں ہوگا۔ 

ریاست کو چاہیے کہ پورے پاکستان کو ماں جیسی نظروں سے دیکھ لیں۔ اور ماں جیسی محبت کرلے کہیں ایسا تو نہیں ہیں۔ کہ پھولوں کا شہر ماں(ریاست) کی نظروں میں نہیں ہیں۔ ماں(ریاست) کو سمجھ لینا چاہیے پاکستان صرف کراچی، لاہور، روالپنڈی اور ملتان تک محدود نہیں ہیں بلکہ بہت وسیع ہیں۔

 پھولوں کے شہر کو مین سکرین پر لانا چاہئے۔ تاکہ یہاں وہ تمام منفی سوچوں کو ختم کیا جائے۔ جو اس ماں(ریاست) کے بارے میں سوتیلی ماں جیسا سوچ بن گئی ہیں۔ یہ تمام سوچے، نظریئے تب ختم ہوگئے جب یہاں کھیلوں کے میدان آباد ہوگئے۔

بشکریہ اردو کالمز