915

ویلنٹائن ڈے اور پاکستانی معیشت


معیشت کو سمجھنے والا اور کاروبار کرنے والوں کا سوچنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے ہی ایک ایسا دن ہے جس میں کاروباری حضرات کے پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتے ہیں ایک محتاط انداز کے مطابق ویلنٹائن ڈے کے موقع پر دنیا بھر میں محض ترقی یافتہ ممالک میں 15 کروڑ سے زائد کارڈز کا تبادلہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ہی میرے خیال میں معاشی طور پر بھی ویلنٹائن ڈے کو ایک بڑی سرگرمی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے اور کرسمس کے بعد ویلنٹائن ڈے ہی دوسرا بڑا تہوار ہے، جس میں خریدوفروخت عروج پر ہوتی ہے  

آج 14فروری ہے  محبت کرنے والوں کا عالمی دن یعنی ’ویلنٹائن ڈے‘ ہے ویلنٹائن ڈے کو محبت کرنے والی ہی منائیں گے اور ارادہ محبت رکھنے والے بھی! ہم جیسے لوگ منائیں یا نامنائیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے البتہ اگر پاکستان میں محبت کے پیاسے ویلنٹائن ڈے منائے تو پاکستانی معیشت کو ایک بڑا سہارا مل سکتا ہے تو بسم اللہ کرے اور "ویلنٹائن ڈے" منائے۔ خان صاحب ویسی ہی معیشت کا قبلہ درست نہیں کرسکتا تو خان صاحب کو چاہیے کہ معیشت کو اوپر لے جانے کے لئے ایک واحد ہی راستہ رہ گیا ہے وہ ہے "ویلنٹائن ڈے" یہ دن خان صاحب خود بھی منالے اور پاکستانیوں کے لئے بھی اس دن کے نسبت سے ایک ٹویٹ ضرور کرلیں خان صاحب اس بات پر زور دے کہ ویلنٹائن ڈے کو منانے والے صرف کارڈ کا تبادلہ نہ کریں بلکہ آپس میں مٹھائیوں ، پھولوں اور تحائف کا تبادلہ بھی کرتے رہیں 

خان صاحب کے ان اقدامات اٹھانے کے بعد بھی اگر پاکستانی معیشت کا قبلہ درست نہیں ہوسکتا ہیں تو پھر  خان صاحب کو چاہیے کہ بلاول بھٹو کے فارمولے کا سہارا لے " جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے" اس فارمولے کو خان صاحب نے ہم پر تو implement کیا ہے جب ٹیکس زیادہ ہو تو زیادہ مہنگائی آتا ہیں لیکن خان صاحب کو اب سنجیدگی سے سوچنا چاہیے اگر خان صاحب واقعی پاکستانی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتا ہے جو اس سے پہلے کبھی بھی پاؤں پر کھڑا نہیں تھا (اگر تھا تو وہ بھی دوسروں کے پاؤں پر تھا) اور نا اب ہیں تو پھر خان صاحب کو ویلنٹائن ڈے کو صرف 14 فروری تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ بلاول بھٹو کے فارمولے کو عملی جامہ پہنا کر ہر مہینے کے 14 تاریخ کو ویلنٹائن ڈے منانا کا اعلان کرے۔ جب سال میں ایک بار ویلنٹائن ڈے ہوگا تو اس سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں آئی گئی اگر سال میں بارہ بار ویلنٹائن ڈے منائے جائیں۔ سرمایہ کاری تو آئے گئے ہی اور اس کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر مراد سعید "آئی ایم ایف" کو دو ارب ڈالر اس کی منہ پر مار دینگے۔

بلاول بھٹو کا فارمولا بھی اگر پاکستانی معیشت کے لئے سودمند ثابت نہیں ہوسکا تو پھر خان صاحب کے ہاتھوں کی لکیروں میں ہی پاکستانی معیشت کے حوالے سے کوئی لکیر موجود نہیں ہوگا۔ سوشل میڈیا پر ایک صاحب نے ویلنٹائن ڈے کے مناسبت سے انگلش میں پوسٹ کیا اور اپنے پوسٹ میں لکھا ہے "ایک مسکراہٹ ایک رشتہ شروع کر سکتی ہے۔ ایک لفظ سے لڑائی ختم ہو سکتی ہے۔ ایک نظر کسی رشتے کو بچا سکتی ہے۔ ایک شخص آپ کی زندگی بدل سکتا ہے" 

الفاظ کو اگر غور سے دیکھا جائے تو شاعرانہ الفاظ لگتے ہیں ان الفاظ میں امیدیں بہت زیادہ ہیں جو ہم نے خان صاحب سے بھی لگا رکھے ہیں۔ خان صاحب کے حکومت کو دیکھا جائے تو یہ الفاظ بالکل فٹ آتے ہیں۔ ایک شخص پاکستانی معیشت کو بدل سکتا تھا لیکن خان صاحب نے ان کو موقع ہی نہیں دیا ایک دن کے لئے خزانہ کے وزارت پر بٹھا دیا اور دوسرے دن اس کو کہا چل اٹھ جا تم معیشت کو چلانے کے قابل ہی نہیں ہوں وہ صاحب بھی تو حیران ہوا تھا کہ یہ فیصلہ بھی خان صاحب کا ہوسکتا ہے جس نے میرے نام سے ہی الیکشن کمپین شروع کیا تھا اور پاکستانی عوام کو کہا تھا بس اسد عمر ہی ایک ایسا پاکستانی ڈاکٹر ہیں جس نے پاکستانی معیشت کو اوپر لے جانے کے لئے، عوام کو بیس کروڑ نوکریاں دینے کے لئے، پچاس لاکھ گھر بنانے کے لئے اور آئی ایم ایف کے منہ پر دو ارب ڈالر پھینکنے وغیرہ وغیرہ کےلئے ایک ایسا کیپسول ایجاد کیا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ماہر معاشیات  کو سر چکرانے پر مجبور کیا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام تبدیلی سرکار کے غبارہ کو بھرنے کے لئے شدید بےتاب تھی جس کو بھرنے کے بعد ابھی تک اس غبارہ کو ہواؤں کی اشد ضرورت ہے اگر ہوائیں نہ ملے تو کسی بھی وقت یہ غبارہ اپنی توازن کھو بیٹھ سکتا ہے اور ابھی کھونے کے قریب بھی ہے  پاکستانی معیشت کے لئے ڈاکٹر اسد عمر نے جو کیپسول تیار کئے تھے بنا تجربہ، بنا کسی لالچ ، بنا کسی اور ڈاکٹر کا سہارا لئی وہ کیپسول تبدیلی سرکار کو حکومت ملتے ہی سو دن کے اندر اندر expire ہوگئے جو تبدیلی سرکار کے لئے ایک بڑا صدمہ میں سمجھتا ہوں۔ اور ابھی تک تبدیلی سرکار نے اس کیپسول کے متبادل صرف ٹیکس کیپسول پر کام  کررہے ہیں میں سمجھتا ہوں اگر ٹیکس کیپسول کے ساتھ ساتھ ویلنٹائن ڈے پر کام کیا جائے کیونکہ عشق کے امتحانی  حال میں پاکستانی زیادہ ہوتے ہیں جو پاکستانی ہر عشق باآسانی سے کرسکتا ہیں جس سے پاکستانی معیشت کو مثبت اشارے بھی ملے گی اور پیٹ پالنے والوں کو دو وقت کی روٹی بھی۔


 

بشکریہ اردو کالمز