236

محرام الحرام

محرم سال کا پہلا مہینہ ہے اس مہینے کو محرم الحرام بھی کہتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کے محرم کو محرام الحرام کیوں کہتے ہیں ؟ محرم کے مہینے کو محرم اسکی تعظیم کی وجہ سے کہتے ہیں لفظ محرم الحرام کا مطلب ہے قابل احترام۔

بسا اوقات کسے چیز کی ممانعت اور حرمت اسکی عظمت کی وجہ سے ہوتی ہے اس مہینے کو انتہائی محترم مہینہ یعنی حرمت والا مہینہ کہا جاتا ہے اس مہینے میں جنگ و جدل کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اسی حرمت کی وجہ سے اسے محرم کہتے ہیں ۔حرمت والے چار مہینے ہیں جن میں زلقعد زی الحجہ محرم اور رجب شامل ہے۔

محرم الحرام ایک عظمت والا بابرکت مہینہ ہے اس ماہ مبارک سے ہی ہمارا اسلامی سال شروع ہوتا ہے اور یہ حرمت والے مہینوں میں شامل ہے۔

یوم عاشورہ بھی محرم میں بےپناہ تاریخی معجزوں سے بھرا پڑا ہے اس دن اللہ پاک کے بےپناہ معجزات ہوئے ۔

محرم میں ہی یعنی یوم عاشورہ یعنی دس محرم کو آسمان وزمین قلم اور حضرت آدم کو پیدا کیا گیا

یوم عاشورہ کوہی حضرت آدم کی توبہ قبول ہوئی

اسی دن حضرت ادریس کو آسمان پر اٹھایا گیا

اسی دن حضرت نوح کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہوکر کوہ جودی پر لنگرانداز ہوئی ۔

اسی دن حضرت ابراہیم کو خلیل اللہ بنایا گیا اور ان پر آگ گل گلزار ہوئی۔

اسی دن حضرت اسماعیل کی پیدائش ہوئی۔

اسی دن حضرت یوسف کو قید خانے سے رہائی ملی اور مصر کی حکومت ملی۔

اور اسی دن حضرت یوسف کی حضرت یعقوب سے ایک طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔

اسی دن حضرت سلیمان کو بادشاہت واپس ملی۔

اسی دن حضرت ایوب کو سخت بیماری سے شفا ملی ۔

اسی دن حضرت یونس چالیس روز مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد نکالے گئے۔

اور مورخین کا کہنا ہے کہ دس محرم کوہی قیامت آئے گی اور دنیا ہمیشہ کے لئے فنا ہوجائے گی۔

اور ایسے ہی کئی معجزات کی وجہ سے محرم بےپناہ اہمیت کا حامل مہینہ قرار دیا جاتا ہے۔

محرم کی پہلی تاریخ کوہی حضرت عمر نے جام شہادت نصیب فرمائی۔

حضرت عمر بن خطاب وہ خلیفہ تھے جن کے بارے میں اللہ تعالی کے پیارے نبی نے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگی تھی کے اے اللہ مجھے عمر بن خطاب عطا فرمادے یا عمرو بن ہشام 

حضرت عمر کے بارے میں ہمارے نبی نے فرمایا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا (ترمذی)

یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہمارے نبی کے پیارے نواسوں نے کئی دردناک مظالم سہنے کے بعد جام شہادت نوش فرمائی ایسی دردناک شہادت جو تاریخ میں کہیں نہیں پائی جاتی۔

یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن پاک نہیں بلکہ محافظ قرآن نے قرآن کی حفاظت فرمائی۔

سر سجدے میں تھا اور زبان پر زکر خدا۔

ایسی شہادت پھر کسی کو نصیب نہ ہوئی بعد امام حسین کے۔

محرم الحرام کا احترام کرنا ہم سب پر لازم ہے شیعہ ہویا سنی ان فرقوں میں مت پڑے ہم مسلمان ہے اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے سوچیں اہل السلام سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اس مہینے کا احترام کیا جائے بلکہ کربلا کے حقیقی واقعات اور ان کے پس منظر کیا تھا اس کو جانے اور ان پر عمل کیا جائے  کیونکہ حضرت حسین نہ شیعہ تھے نہ سنی بلکہ پوری امت کے امام تھے۔

محرم کا مقدس مہینہ ہمیں ایثارو قربانی کا درس دیتا ہے۔

سید الشہدا امام عالی حضرت امام حسین اور ان کے اہل خانہ کی عظیم ترین قربانی ہمیں السلام پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب دیتا ہے برائی کو چھوڑنا نیکی کو تھامے رکھنا اور اللہ پر کامل یقین کا درس دیتا ہے۔

میں اللہ سے تہہ دل سے دعاگو ہوں کے اتنی عظیم بے پناہ قربانیوں کے بعد اسلام ہم تک آیا ہے اللہ پاک ہمیں اپنے اس دین اسلام پر ثابت قدم رہتے ہوئے ایک پکا سچا مسلمان بنائیں (آمین)

کسی نے کیا خوب کہا ہے۔

بھوک کی انگلی پکڑ کر دیکھو

پیاس کے دریا میں ڈوب کر دیکھو

حق کی بات پر کٹ کر دیکھو

سر نیزے پر چڑھاکے دیکھو

کبھی شام غریباں گزار کر دیکھو

ہوجائے گی تم پر کربلا عیاں

الاماں الاماں الاماں

بشکریہ اردو کالمز