اکتوبر
اکتوبر کے مہینے میں
راتیں لمبی ہونا شروع ہوجاتی ہیں
ساتھ ہی پت جھڑ بھی آتا ہے
تو
ہر شجر اداس دکھتا ہے
ہر لمحہ بےقرار گزرتا ہے
باہر بےحد شور ہوتا ہے
لیکن اندر اک مستقل سناٹا رہتا ہے
ایسے میں پت جھڑ کے پتوں پر
کوئی چاپ سنائی دیتی ہے
گزری دستکیں دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں
دلوں کو بےچین کئے رکھتی ہیں
زرد اور خشک پتے جب جھڑتے ہیں
یہ دلفریب منظر اندر تک اداسی بکھیر دیتا ہے
اکتوبر جیسے جیسے گزرتا ہے
راتیں لمبی ہوتیں ہیں
ہوا میں خنکی برھتی ہے
دلوں میں اداسی مسقل ڈیرہ جمائے رکھتی ہے
کچھ مضطرب منظر
کچھ اضطراب والے لمحے
آنکھوں کو دھندلائے رکھتے ہیں
اور
آنکھوں کی نمی
ان چاہا دکھ کہہ جاتی ہے
کچھ گزرا ہجر
تڑپائے رکھتا ہے
کچھ تلخ یادیں
بیقرار رکھتی ہیں
اکتوبر جب بھی آتا ہے
ان کہا ہجر یاد دلا جاتا ہے
آنکھوں کی نمی بڑھا جاتا ہے۔
اکتوبر کے مہینے میں
سردی کی پہلی دستک ہوتی ہے۔
سرسراتی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں
اداسی میں ڈوبی شامیں ہوتیں ہیں
ٹھنڈی راتیں ہوتیں ہیں۔
دور کہیں چاند بادلوں کی اوٹ میں چھپا
کھلی کھڑکی سے اندر جھانکتا ہے
اور کھڑکی کے پار بیٹھے شخص کو دیکھتا ہے
اور اس وجود پر چھائی اداسی میں
چپکے سے ہمنوا بن جاتا ہے۔