375

اکتوبر

اکتوبر

اکتوبر کے مہینے میں

راتیں لمبی ہونا شروع ہوجاتی ہیں

ساتھ ہی پت جھڑ بھی آتا ہے

تو

ہر شجر اداس دکھتا ہے

ہر لمحہ بےقرار گزرتا ہے

باہر بےحد شور ہوتا ہے

لیکن اندر اک مستقل سناٹا رہتا ہے

ایسے میں پت جھڑ کے پتوں پر

کوئی چاپ سنائی دیتی ہے

گزری دستکیں دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں

دلوں کو بےچین کئے رکھتی ہیں

زرد اور خشک پتے جب جھڑتے ہیں

یہ دلفریب منظر اندر تک اداسی بکھیر دیتا ہے

اکتوبر جیسے جیسے گزرتا ہے

راتیں لمبی ہوتیں ہیں

ہوا میں خنکی برھتی ہے

دلوں میں اداسی مسقل ڈیرہ جمائے رکھتی ہے

 کچھ مضطرب منظر

کچھ اضطراب والے لمحے

آنکھوں کو دھندلائے رکھتے ہیں

اور

آنکھوں کی نمی

ان چاہا دکھ کہہ جاتی ہے

کچھ گزرا ہجر

تڑپائے رکھتا ہے

کچھ تلخ یادیں

بیقرار رکھتی ہیں

اکتوبر جب بھی آتا ہے

ان کہا ہجر یاد دلا جاتا ہے

آنکھوں کی نمی بڑھا جاتا ہے۔

اکتوبر کے مہینے میں 

سردی کی پہلی دستک ہوتی ہے۔

سرسراتی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں

اداسی میں ڈوبی شامیں ہوتیں ہیں

ٹھنڈی راتیں ہوتیں ہیں۔

دور کہیں چاند بادلوں کی اوٹ میں چھپا

کھلی کھڑکی سے اندر جھانکتا ہے

اور کھڑکی کے پار بیٹھے شخص کو دیکھتا ہے

اور اس وجود پر چھائی اداسی میں

چپکے سے ہمنوا بن جاتا ہے۔

بشکریہ اردو کالمز