"عرفانیات"
دسمبر کا آخری عشره شروع تھا اور یخ بسته راتوں کی ٹھنڈک کا سورج سوا نیزے کی طرف بڑھتا ہواجا رها تھا, سورج غروب هوتی هی هر ذی روح اپنے اپنے ٹھکانے کا رخ کرنے لگ گیاتھا.اور سرشام گلیاں انسانوں سے اس لئے خالی هوگئی تھی که سخت سردی کی سکت کسی میں باقی نهیں رہی تھی.ابھی ابھی کی بات هے که میں نے عشاء کی نماز پڑھ کر یونیورسٹی روڈ پشاور پر کچھ مسافت کی چهل قدمی کے لئے نکل پڑا.میں نے گرم کوٹ اور مفلر سے خود کو ڈانپ لیا تھا میں نے روڈ کراس کرنے کے لئےانڈرپاس کا سهارا لیا.سیڑھیوں په اتر کر دیکھا تو دو کمسن بچے نهایت معمولی لباس میں بیٹھے هوئے هیں جو سردی سے ٹھٹر وجود کے ساتھ کھانے کے کچھ میٹھی چیزیں بیجنے کے لئے ٹھنڈی زمین پر گاهک کا انتظار کر رهے تھے.جن کی عمریں بمشکل سات,آٹھ برس کی تھی( جو آپ کو تصویر میں نظر بھی آرهے هیں) جن کے چهروں پر بے بسی کے آثار نمایاں تھے.میں تھوڑا وقت ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور ان کو خوش کرنے کی از حد کوشش کی مگر میرے کسی بھی بات کا ان په کچھ اثر نهیں تھا کیونکه ان کے نظریں مسلسل گاهکوں کی طرف تھیں اور وه دسمبر کے اس یخبسته راتوں کو گھر کی آنگن میں چولها جلانے کی فکرنے بے قرار کئے تھے.ٹھنڈی دیوار سے ٹیک لگائے یه پھول جیسے بچے ان بے ضمیر حکمرانوں کے منه پر زوردار طمانچه هے جن کے عیاشیوں کی چڑھتا سورج سوا نیزے سے بھی آگے هیں .
بچے معاشرے کی ترقی کا ازل ہوتے ہیں اور بچے وہ پھول ہوتے ہیں جو ہر موسم میں سدابہار کی مانند ہوتے ہیں اور کائنات کا وہ قیمتی زیور ہوتے ہیں جس کے بنا کائنات کا حسن بےمعائنی ہے مگر کاش ہم اس اہمیت کو سمجھتے توجنہیں پڑھ لکھ کر ملک کے مستقبل کا معمار بننا ہوتا ہے ۔ یہی معصوم پھول ڈالی سے ٹوٹ کر گلیوں کی دھول بن جاتے ہیں۔ جس کی ایک صورت چائلڈ لیبر کی ہے۔ ہاں جی یہ عمل اس پھول کو روندنے پر مجبور کردیتا ہے۔۔۔
چائلڈ لیبرسے مراد نوعمر اور کم سن بچوں سے محنت مشقت اور ملازمت کرانا ہے۔ یعنی بچے کو اس کے حق تعلیم و تفریح سے محروم کر کے اس کو کم عمر میں ہی کام پر لگا دیا جائے۔ چائلڈ لیبر بچوں کے مسائل میں اہم ترین مسئلہ ہے۔ عالمی سطح پر چائلڈ لیبر کے اعداد و شمار بہت تشویشناک ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(ILO) نے اس بارے میں اپنی رپورٹ بتایا ہے کہ ’’ایک اندازے کے مطابق چوبیس کروڑ ساٹھ لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ پھر ان بچوں میں سے تقریبا تین چوتھائی (سترہ کروڑ دس لاکھ) سخت مشقت والے کام کرتے ہیں جیسے کہ کانوں میں کام کرنا، کیمیکلز کے ساتھ کام کرنا اور کھیتی باڑی نیز خطرناک قسم کی مشینری کے ساتھ کام کرنا۔
پاکستان میں 33%بچے چائلڈلیبر کاشکار ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پنجاب میں 2500سے زائد بھٹوں پر پانچ سے بارہ سال عمر تک کے ایک لاکھ سے زائد بچے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ شہروں میں گھر کی صفائی اور چھوٹے موٹے کاموں کے لیے تقریباًتیس ہزار بچے مصروف ہیں۔ بس اڈوں ، سبزی ،فروٹ منڈیوں ، ہوٹلوں،ورکشاپوں اور دیگر صنعتیں تو چائلڈ لیبر کی خلاف ورزی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
افسوس حکومت چائلڈ لیبر کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ پاکستان میں سرعام چائلڈ لیبر کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ اشد ضروری ہے کہ اس سلسلے پر خاص توجہ دی جائے۔ ہمارا مستقبل ان بچوں میں پوشیدہ ہے اگر یہی تاریکی میں ڈوب گئے تو اس خیال سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ پاکستان کا مستقبل تاریک ہوگا۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ چائلڈ لیبر کو کنٹرول کرنے کے لیے جلدازجلد اقدامات کرے تاکہ کوئی روشنی کی کرن نظرآئے
چائلڈ لیبر کے خاتمے کے اقدامات کئے جائیں تو ان سے چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے۔ معاشرے کی سطح پر اگر ہر آدمی اپنے پڑوسی اور رشتہ داروں میں سے غریب افراد کی امداد کرے تو بھی بچوں کی مشقت کا خاتمہ ہو سکتا ہے کیونکہ ہر غریب فرد کسی نہ کسی کا پڑوسی یا رشتہ دار ضرور ہوگا۔ حکومت کے فرائض میں سے ہے کہ بے سہارا لوگوں کی کفالت کرے۔ حدیث پاک میں ہے کہ اگر کوئی آدمی قرض یا بے سہارا بچے چھوڑے تو میں ان کا مولیٰ (سرپرست) ہوں گا۔ یہ ذمہ داری آج کے مسلم حکمرانوں پر بھی ہے۔ اگر حکمران اپنے فرائض سرانجام دیں اور بیت المال اور سرکاری خزانے سے ایسے بے سہارہ خاندانوں کی مدد کریں جن کا کمانے والا کوئی نہ ہو تو چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمات غریب ممالک پر چائلڈ لیبر کے باعث پابندیاں لگا کر ان کو مزید مشکلات سے دو چار کرنے کی بجائے ان ممالک کے غریب و مفلس افراد کی مدد کر کے ان کے مسائل کو حل کیا جائے۔ اگر معاشرہ، ملک اور بین الاقوامی برادری اپنے فرائض ادا کرے تو اضطراری حالات میں چائلڈ لیبر کے معاملہ کو بھی مستقل طور پر حل کر سکتی ہیں۔
اور سماجی تنظیمیں جو عرصہ دراز سے معاشرے کی سب سے بدترین بُری صورت چائلڈ لیبر کی شکل میں ہے اُس کو ختم کرنے کے لیئے کام کر رہی ہے مگر تاحال موثر تبدیلی نمایاں نہ ہوسکی کئی سمینارز کمپینز و دیگر طرز پر کام کیا گیا مگر تاحال گراونڈ ریلیٹی میں اس کے ثمرات نہ مل سکیں لیکن اگر سیاسی و سماجی دونوں طرف اس مسئلے کو حل کرنے کے لیئے مل کر کوئی حکمت عملی بنائیں تو چائلڈ لیبر سسٹم پر قابو پایا جاسکتا ہے.
چائلڈلیبر...بڑھتا هوا ناسور...