انتخابات سرپرآچکے ہیں، الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواراوران کے ووٹرسپورٹرزیادہ سے زیادہ ووٹ پکے کرنے کے لئے تاحال محنت،کوشش اورجدوجہدکررہے ہیں۔شہرہیں،گاؤں یاپھردیہات۔ہرطرف آج کل الیکشن اورووٹوں کی باتیں ہورہی ہیں۔چھوٹے ہیں یابڑے سب اس وقت انتخابی بخارمیں مبتلاہیں اوراس وقت ایساکوئی گھراوردرایسانہیں جہاں الیکشن اورسیاست کاذکرنہ ہو۔متعلقہ حلقے یاحلقوں میں کس کی پوزیشن مضبوط ہے اورانتخابات میں مجموعی طورپرکونسی پارٹی کلین سویپ کرے گی اس طرح کے بحث اورمباحثے عام سے عام ترہیں۔جن لوگوں کاسیاست سے کبھی کوئی لینادینانہیں رہاایسے لوگوں کوبھی اب سیاست سیاست کہنے کے بغیرکھاناہضم نہیں ہورہا۔یہ انتخابات پہلے بھی ہوتے تھے اورلوگ یہ سیاست پہلے بھی کرتے تھے لیکن ایسے حالات اورایساماحول واللہ پہلے کبھی نہ تھا۔پہلے بھی تو یہی سیاست تھی۔ یہی ووٹ توپہلے بھی مانگے جاتے تھے اور مقابلے بھی اس وقت بڑے سخت اورٹف ہواکرتے تھے لیکن ماحول کبھی سخت اوراس طرح ٹف کبھی نہیں رہا۔اب توامیدوارہیں یاووٹرسب ایک دوسرے کوکاٹنے اورزندہ چپانے کے لئے دوڑرہے ہیں۔ آج سیاستدان ایک ووٹ کے لئے لوگوں کوتقسیم کرنے کے ساتھ نہ جانے کیاکچھ نہیں کررہے۔ہمیں یادہے پہلے جب انتخابات کایہ والاوقت اورموسم آتاتوالیکشن میں حصہ لینے والے امیدوارشہروں کے ساتھ نمبرنمبرپرگاؤں اوردیہات کاچکرلگاکرسب سے پہلے اپناتعارف کراتے،پھراگرکوئی کارکردگی ہوتی وہ لوگوں کے سامنے رکھتے،اس کے بعدالیکشن میں حصہ لینے کامقصدبیان کرکے اپنامنشورپیش کرتے اورآخرمیں اپنے لئے ووٹ کی عاجزانہ سی درخواست کرتے۔اس زمانے میں جوامیدوارزیادہ چالاک اورسیاسی بازیگرہواکرتے تھے وہ مقصداورمنشوربیان کرنے کے بعداپنی پگڑی قوم کے سامنے یاگاؤں وعلاقے کے بڑوں کی جھولی میں رکھ کریہ کہتے کہ ہم نے اپنی عزت آپ کی جھولی میں رکھ دی ہے اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ ووٹ اورحمایت کے معاملے میں کیافیصلہ کرتے ہیں۔یہ اس وقت کی باتیں ہیں جب سیاستدان اورووٹرجاہل وان پڑھ ہواکرتے تھے لیکن اب۔۔؟اب نہ سیاستدان جاہل ہیں اورنہ ووٹران پڑھ۔اس لئے اب اپنی پگڑیاں لوگوں کی جھولیوں میں رکھ کرووٹ نہیں مانگے جاتے بلکہ دوسروں کی پگڑیاں بھرے مجمعوں،جلسوں اورجلوسوں میں اچھال کرلوگوں کواپنے یااپنوں کے لئے ووٹ اورسپورٹ دینے پرمجبورکیاجاتاہے۔اب انتخابی جلسوں،جلوسوں اورکارمیٹنگزمیں ہم نے کیاکیا۔؟کے بارے میں کوئی سوال ہوتاہے اورنہ کوئی جواب بلکہ ہرجلسہ،میٹنگزاورپروگرام ہمارے مخالف نے کیاکیایااس نے کیاکھایااورکیاپہنا سے شروع ہوکرمخالف امیدوارکی ذات پات اورعزت کاجنازہ نکالنے پرختم ہوتاہے۔امیدواروں کے ساتھ ان کے ووٹروں اورسپورٹروں کے رویے اورلہجے بھی اب بدل گئے ہیں۔شہروں کاتونہیں پتہ لیکن گاؤں اوردیہات میں پہلے علاقے کی سطح پرایک یاچندایک بڑے ہواکرتے تھے جوعلاقائی مسائل،لڑائی جھگڑوں اوررسم ورواج کے حوالے سے فیصلوں کے ساتھ اس طرح کے انتخابات کے موقع پربھی اہل علاقہ کی مشاورت اوررضامندی سے کسی امیدوارکی حمایت یامخالفت کاکوئی متفقہ اعلان کرتے لیکن اب نہ صرف سنابلکہ ان گناہ گارآنکھوں سے دیکھابھی ہے کہ انہی گاؤں،دیہات اورعلاقوں میں ایک دونہیں کئی بڑوں نے ایک ساتھ جنم لیناشروع کردیاہے۔اب نہ صرف ہرگاؤں،دیہات اورعلاقے میں بلکہ ہرگھراوردرپر ایک بڑابن کرشملہ لہرا رہاہے۔پہلے شہروں کے ساتھ گاؤں اوردیہات کی سطح پربھی اس طرح کے مواقع پرنہ صرف مجموعی قومی مفادات کی بات ہوتی بلکہ تمام ترفیصلے مجموعی مفادات کوسامنے رکھ کرکئے جاتے تھے لیکن اب ہرگھرمیں ایک بڑاپیداہونے سے بات مجموعی مفادات سے ذاتی مفادات پرآگئی ہے۔اب یہ نہیں دیکھاجارہاکہ شہر،گاؤں اورعلاقے کے لئے کونساامیدواراچھا،فائدہ منداورموزوں رہے گابلکہ یہ دیکھااورتولاجارہاہے کہ میرے لئے کونساامیدوارمنافع بخش اورسودمندرہے گا۔این اے 13بٹگرام جومیراآبائی ضلع ہے اس میں قومی اسمبلی کی واحدنشست پراس بارایک دونہیں کوئی درجن کے قریب امیدوار سامنے آچکے ہیں۔ووٹ اورسپورٹ کے معاملے میں اب ہرشخص خودمختارہے لیکن پھربھی خودمختاری کے اس دورمیں کچھ لوگ ہمیں فون کال یامیسج کرکے رائے طلب کرتے ہیں کہ انتخابات میں کس کی سپورٹ کرکے اسے ووٹ دیاجائے۔شہروں کی سیاست اورشہروں کے معاملات توالگ ہوتے ہیں یہاں پارٹی اورہائی لیول پرمقابلے اورسیاست ہوتی ہے جس میں گلی محلوں کے یہ چھوٹے موٹے کام نہیں دیکھے جاتے لیکن گاؤں اوردیہات کامعاملہ شہروں سے مختلف ہے۔گاؤں اوردیہات کے لوگ پانی کے کالے پائپ،چندکھمبوں،بی ایچ یواورپرائمری سکولزکی تعمیرپرراضی ہوجاتے ہیں لیکن شہری لوگ میگاپراجیکٹس سے کم پربات نہیں کرتے۔ویسے انتخابات کے موقع پرسبزباغ سب دکھاتے ہیں اورمیگاپراجیکٹس کے لالی پاپ بھی سب دیتے ہیں لیکن بہت ہی کم امیدواروں کودیکھاگیاہے کہ جن کوانتخابات کے بعداپنے یہ اعلانات یادرہتے ہوں اکثرتواقتدارکی رنگینیوں میں گم ہو کرنہ صرف اپنے یہ اعلانات بلکہ حلقے کے عوام کوبھی پھر بھول جاتے ہیں۔الیکشن کے یہ کچھ دن امیدوارعوام کے پیچھے بھاگتے ہیں اورپھرپانچ سال تک عوام ان امیدواروں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ووٹ ایک قومی امانت ہے اوراس میں خیانت ہرگزجائزنہیں۔امیدواروں سے آج کاووٹراورسپورٹرزیادہ باشعوراورچالاک ہے۔ہرشخص اپنے امیدواروں کوسرسے پاؤں تک خوب جانتاہے۔کون ساامیدوارحلقے،علاقے،ملک وقوم کے لئے فائدہ مندہے اورکونساامیدوارحلقے وعلاقے کے لئے نقصان دہ۔یہ حلقے کے ووٹروں سے زیادہ بہترکوئی نہیں جانتا۔اس لئے تمام ووٹرانتخاب اورووٹ کے لئے ایسے امیدوارکاانتخاب وچناؤکریں جوکل کوحلقے،علاقے،ملک وقوم کے لئے سودمندثابت ہو۔ووٹراپنے ووٹ اورسپورٹ کے حوالے سے ملکی وقومی مفادکوسامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔ایسے اہم مواقع پرہم قومی مفادکے بجائے ذاتی مفادکودیکھتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں جوبعدمیں پوری قوم اورملک کے لئے نقصان کاباعث بنتے ہیں۔اس لئے عوام سے درمندانہ گزارش ہے کہ وہ 8فروری کے انتخابات میں ذاتی مفادکے بجائے قومی مفادکوسامنے رکھ کرقدم اٹھائیں تاکہ آپ کے اس فیصلے اورقدم سے کل پوری قوم اورملک کانقصان نہ ہو۔
275